مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 2 از 15
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے منقول ہے آپؓ نے فرمایا جس کو کسی کی اقتدا ہی کرنا ہو اسے چاہیے کہ وہ ان کی اقتدا کرے جو اس دنیا سے جا چکے ہیں کیونکہ زندہ شخص فتنوں سے مامون نہیں ہے، جو جا چکے وہ حضور اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے، جو اس امت کے افضل ترین لوگ تھے، كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ (سورۃ آل عمران: آیت، 110) ان کے دل سب سے زیادہ نیکی سے لبریز تھے، ان کا علم بہت گہرا تھا اور ظاہر داری ان میں بہت کم تھی، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے نبی کریمﷺ کی صحابیت کے لیے اور اس دین کو قائم کرنے کے لیے چن لیا تھا، ان کا یہ مرتبہ انھیں اللہ تعالیٰ کی عطا تھی (وہبی تھا) سو ان کا حق پہچانو اور ان کے پیچھے چلو وہ بیشک راہِ مستقیم پر تھے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کی اس شہادت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ صحابیت ایک عطائے خداوندی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں کسی فتنہ کا اندیشہ نہیں ہے، اسی لیے خطیب بغدادیؒ (463ھ) اور بے شمار علماء سلف و خلف نے صراحت کی ہے کہ:
عدالة الصحابة ثابتة معلومة بتعدیل اللّٰہ لھم و اخبارہ عن طھارتھم و اختیارہ لھم فی نص القرآن
(الکفایة فی علوم الروایة للخطیب: صفحہ، 26)
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت ایک ثابت شدہ اور معلوم حقیقت ہے، اس لیے کہ خود اللہ تعالیٰ نے ان کی تعدیل اور ان کے دلوں کی شانِ طہارت بیان فرمائی اور بتصریح قرآنی شرفِ صحابیت کے لیے ان کا انتخاب فرمایا۔
جس طرح کعبہ قبلۂ نماز ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قبلۂ اقوام ہیں، قرآن کریم کی اس آیتِ کریمہ کے پہلے مخاطب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی ہیں:
وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيۡدًا
(سورۃ البقرة: آیت، 143)
(عبقات: صفحہ، 27، 30 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
ترجمہ: اور (مسلمانو) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے۔
اسی لیے حضرت عمرؓ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا، دیکھو غلطیوں سے بچتے رہنا، لوگ تمہاری غلطیوں کو بھی اپنا دین بنا لیں گے، آپؓ نے حضرت طلحہؓ کو حالتِ احرام میں رنگ دار چادر پہننے سے یہی کہہ کر منع فرمایا:
إِنَّکُمْ أَیُّھا الرَّھطُ أَئِمَّةٌ یَقْتَدِی بِکُمْ النَّاسُ فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا جَاھلًا رَأَی ھذَا الثَّوْبَ لَقَالَ إِنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ کَانَ یَلْبَسُ الثِّیَابَ الْمُصَبَّغَةَ فِی الإِحْرَامِ فَلَا تَلْبَسُوا أَیُّھا الرَّھطُ شَیْئًا مِنْ ھذِہِ الثِّیَابِ الْمُصَبَّغَةِ
(الموطأ: صفحہ، 471 حدیث نمبر: 1165 الموٴلف: مالک بن أنس، المحقق: محمد مصطفیٰ الأعظمی، الناشر: مؤسسة زاید بن سلطان آل نہیان الطبعة الاولیٰ: 1426ھ بمطابق 2004ء م عدد الأجزاء: 8)
ترجمہ: آپ حضرات پیشوا ہیں، لوگ آپ کی پیروی کرتے ہیں، اگر کوئی عام آدمی (جو اس رنگ سے واقف نہ ہو) اسے دیکھے تو کہے گا کہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہؓ احرام میں رنگ دار کپڑے پہنتے تھے، اس لیے حالتِ احرام میں رنگین کپڑوں سے اجتناب کریں
(خلفاء راشدین: جلد، 2 صفحہ، 486 مؤلفہ علامہ خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قابلِ اتباع ہیں
پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں درجات کے فرق کے باوجود اتباع کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ سابقین اولین ہی میں سے ہوں، بہارِ نبوت کے جو پھول آخر میں کھلے وہ بھی اسی گلستانِ نبوت کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا وعدۀ جنت سب ہی سے ہے:
لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ ۞
(سورۃ الحدید: آیت، 10)
ترجمہ: تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔  
سابقین اولین اور فتح مکہ کے بعد ایمان لانے والے دونوں شرفِ صحابیت رکھتے ہیں، جو طبقہ ان کے پیچھے چلا، وہ تابعین کہلایا، یہ حضرات تابعین اسی لیے بنے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب متبوعین ہیں اور امت کے ذمہ ہے کہ ان کے نقشِ پا سے زندگی کی راہیں روشن کرے۔
نبوت اور صحابیت کے درمیان صرف دیکھنا شرط ہے، اتباع ضروری نہیں، جس نے ایمان سے آپﷺ کے جمال جہاں آراء کو دیکھا صحابیت پا گیا، لیکن اگلوں کے لیے صرف دیکھنا کافی نہیں اتباع بھی لازم ہے۔
(عبقات: صفحہ، 38 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شناخت رسول اللہﷺکی نسبت سے ہے عمل سے نہیں!
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی پہچان عمل سے نہیں رسول اللہﷺ کی نسبت سے ہے، اس لیے کہ ارشادِ نبوی ہے:
عَنْ عَبْدِ اللَٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَٰہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اللَٰہَ اللَٰہَ فِی أَصْحَابِی! اللَٰہَ اللَٰہَ فِی أَصْحَابِی! لَا تَتَّخِذُوھُمْ غَرَضًا بَعْدِی! فَمَنْ أَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّی أَحَبَّھُمْ وَمَنْ أَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِی أَبْغَضَھُمْ وَمَنْ آذَاھُمْ فَقَدْ آذَانِی وَمَنْ آذَانِی فَقَدْ آذَی اللَّہَ وَمَنْ آذَی اللَٰہَ یُوشِکُ أَنْ یَأْخُذَہُ
(الجامع الصحیح سنن الترمذی: جلد، 5 صفحہ، 696 حدیث نمبر: 3862 المؤلف: محمد بن عیسیٰ ابو عیسیٰ الترمذی السلمی الناشر: دار إحیاء التراث العربی بیروت تحقیق: أحمد محمد شاکر وآخرون عدد الأجزاء: 5 الأحادیث مذیلة بأحکام الألبانی علیہا)
صفحہ 2 از 15