مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 3 از 15
ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں، میرے بعد انھیں کبھی کسی اعتراض کا نشانہ نہ بنانا، سو جس نے ان سے محبت کی (وہ ان کے اعمال سے نہیں) وہ میری نسبت سے کی (کہ وہ میرے صحابی ہیں) اور جس نے ان سے بغض رکھا دراصل اس نے مجھ سے بغض رکھا، جس نے میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کوئی اذیت دی، اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی، وہ اس کی گرفت سے کہاں بچ سکے گا“۔
یہ حدیث تواتر طبقات کے ساتھ امت میں چلی آ رہی ہے، اسناد کے پہلو سے اس میں غرابت ہو تو اس سے یہ حدیث مجروح نہیں ہوتی، یہ اسی طرح ہے جیسے قرآن کریم تواتر طبقات کے ساتھ منقول ہوتا چلا آ رہا ہے اور وہ کہیں تواترِ اسناد کا محتاج نہیں ہے، حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے قرة العینین میں اس اصول کی تصریح کی ہے۔
اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اعمال کو زیرِ بحث لانا درست نہیں، ان سے مؤمن کی عقیدت و محبت ان کے اعمال اور نیکیوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس رشتۂ رسالت سے ہے کہ وہ حضور اکرمﷺ کے صحابی ہیں، تو ظاہر ہے کہ ان کے کسی عمل پر بھی انگلی نہ اٹھائی جائے گی اور نہ ان پر کسی کو تنقید کا حق ہو گا، کیونکہ یہ فی الواقع اس رشتہ پر حملہ ہو گا جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بارگاہِ رسالت مآبﷺ سے حاصل ہے۔
(معیارِ صحابیت صفحہ، 228 تا 237 تالیف ڈاکٹر علامہ خالد محمود ڈائریکٹر اسلامک اکیڈمی مانچسٹر، ناشر: محمود پبلی کیشنز اسلامک ٹرسٹ شاہدرہ لاہور، 2018ء)
عدالت و ثقاہت کے لیے صحابی ہونا کافی ہے
یہ بات یقینی طور پر حق ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایک بھی ایسا نہ تھا، جو غیر ثقہ ہو یا جو دین میں کوئی غلط بات کہے، سرخیل محدثین حضرت علامہ عینیؒ (757ھ) لکھتے ہیں:
لیس فی الصحابة من یکذب و غیر ثقة
(عینی علی البخاری: جلد، 2 صفحہ، 105)
جب کوئی حدیث کسی صحابی سے مروی ہو اور اس کے نام کا پتہ نہ چلے تو وہ راوی کبھی مجہول الحال نہ سمجھا جائے گا، صحابی ہونے کے بعد کسی اور تعارف یا تعدیل کی حاجت نہیں، علامہ ابنِ عبدالبر مالکیؒ (463ھ) لکھتے ہیں:
ان جمیعَھم ثقاتٌ مامونون عدل رضی فواجب قبول ما نقل کل واحد منھم وشھدوا بہ علیٰ نبیہ
(کتاب التمہید: جلد، 4 صفحہ، 264)
ترجمہ: سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ثقہ اور امانت دار ہیں، اللہ ان سے راضی ہوا ان میں سے ہر ایک نے جو بات اپنے نبی کریمﷺ سے نقل کی اور اس کے ساتھ اپنے نبی کے عمل کی شہادت دی (لفظاً ہو یا عملاً) وہ واجب القبول ہے۔
خطیب بغدادیؒ (463ھ) لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مخلوق میں سے کسی کی تعدیل کے محتاج نہیں، یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جو ان کے باطن پر پوری طرح مطلع ہے ان کی تعدیل کر چکا ہے:
فلا یحتاج احد منھم مع تعدیل اللّٰہ لھم المطلع علیٰ بواطنھم الیٰ تعدیل احد من الخلق لہ
(الکفایہ: صفحہ، 46)
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی مخلوقات میں سے کسی کی تعدیل کا محتاج نہیں، اللہ تعالیٰ جو ان کے قلوب پر مطلع ہے اس کی تعدیل کے ساتھ اور کسی کی تعدیل کی ضرورت نہیں۔
جو چیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہو وہ بدعت نہیں
ہر وہ قول اور فعل جو ان سے منقول نہیں بدعت ہے، سو یہ حضراتؓ خود بدعت کا موضوع نہیں ہو سکتے ان کے کسی عمل پر بدعت کا حکم نہیں کیا جا سکتا، حافظ ابنِ کثیرؒ (774ھ)لکھتے ہیں:
کل فعل و قول لم یثبت عن الصحابة رضی اللّٰہ عنھم ھو بدعة
(تفسیر ابنِ کثیر: جلد، 4 صفحہ، 556)
ترجمہ: دین کے بارے میں کوئی قول اور کوئی فعل جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو بدعت ہے۔
صحابی رسول حضرت حذیفہ بن الیمانؓ (36ھ) فرماتے ہیں:
کل عبادة لم یتعبدھا اصحاب رسول اللہﷺ فلا تعبدوھا
(الاعتصام للشاطبی: صفحہ، 54)
ترجمہ: دین کا ہر وہ عمل جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دین نہیں سمجھا اسے تم بھی دین نہ سمجھنا۔
(عبقات: صفحہ، 27 تا 30 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
نسبتِ صحابیت لازوال اور حسنِ خاتمہ کی ضامن ہے۔
بعد کے ادوار میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف و نزاع یہاں تک کہ جنگ و جدل کے جو واقعات پیش آئے ان کی بنا پر کسی بھی صحابیؓ کو تنقید کا نشانہ بنانا قطعی درست نہیں، اس لیے کہ واقعات و حادثات سے وہ نسبت منقطع نہیں ہوئی جو ان کو سرکارِ دو عالمﷺ سے حاصل تھی، وہ نسبت لازوال ہے، امت کو ہدایت یہ دی گئی ہے کہ وہ صرف نسبت پر نگاہ رکھیں،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو واقعات کے آئینے میں نہیں بلکہ نسبتِ نبویﷺ کے آئینے میں دیکھیں، عالم الغیوب رب کائنات کو تو بعد میں پیش آنے والے تمام واقعات کی پہلے سے خبر تھی، اس کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پروانہ رضوان عطا کرنا اور ان کی تعدیل و تزکیہ بیان کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے یہ واقعات اصل نہیں ہیں، بلکہ نسبت اصل ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے جس طرح اس نسبت کا حصول اختیاری نہیں ہے، اسی طرح اس کا زوال یا انقطاع بھی کسی کے اختیار میں نہیں، زندگی کے درمیانی وقفات میں خواہ کیسے ہی انقلابات پیش آئیں اس بات کی ضمانت ہے کہ خاتمہ بہرحال خیر پر ہو گا۔
جماعت سے باہر کا شخص امام کو لقمہ نہیں دے سکتا
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات و نزاعات کی بنا پر عام مسلمانوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی صحابی پر انگلی اٹھائے، یا ان کو تنقید کا ہدف بنائے، علامہ خالد محمودؒ نے اس کی ایک بڑی پیاری فقہی مثال دی ہے:
صفحہ 3 از 15