مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 4 از 15
”فقہ کا ایک مسئلہ ہے کہ امام نماز پڑھائے اور کسی متشابہ پر قرآن پڑھنے میں غلطی کرے، تو اگر کوئی شخص جو جماعت میں شریک نہیں اسے لقمہ دے اور امام اس پر اعتماد کر کے اس کے لقمہ کو قبول کر لے، تو سب کی نماز ٹوٹ جائے گی، یہ کیوں؟ جب کہ وہ لقمہ صحیح تھا یہ صرف اس لیے کہ لقمہ دینے والا نماز کے باہر تھا اور لقمہ لینے والا نماز کے اندر تھا، جو نماز کے اندر ہے وہ اللہ کے حضور حاضر ہے اور جو نماز سے باہر ہے وہ کسی اور کام میں بھی مشغول ہو سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اس درجے میں نہیں جس میں وہ ہے، جو نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہے۔ سو جس طرح نماز سے باہر والا نماز کے اندر والے کو لقمہ نہیں دے سکتا گو نماز کے اندر والا واقعی غلط پڑھ رہا تھا، اس طرح کوئی عام امتی کسی صحابی پر انگلی نہیں اٹھا سکتا، گو وہ صحابی اپنی کسی بات یا تحریک میں غلطی پر ہوھاسلام میں بڑوں کے احترام کے جو آداب سکھائے گئے ہیں ان میں یہ صورت بہت اہم ہے۔
ان آداب میں سے ایک بڑا ادب یہ ہے کہ کوئی عام امتی کسی صحابی پر تنقید نہ کرے اس کی ہر غلطی کو بھی اس کی اجتہادی بات سمجھے، ہماری عقائد کی جملہ کتابوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہر تنقید سے بالا رکھا گیا ہے، خواہ یہ حضرات (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) آپس میں ایک دوسرے کے بارے میں کتنی سخت زبان کیوں نہ اختیار کریں، لیکن اس کے حوالے سے عام افرادِ امت کو ان پر زبان دراز کرنے کی اجازت نہیں ملتی۔
(معیارصحابیت: صفحہ، 21، 22 تالیف ڈاکٹر علامہ خالد محمود ڈائریکٹر اسلامک اکیڈمی مانچسٹر، ناشر: محمود پبلی کیشنز اسلامک ٹرسٹ شاہدرہ لاہور، 2018ء)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر قسم کے جرح و تنقید سے بالاتر ہیں۔ 
علمائے امت کا اتفاق
چنانچہ سلف و خلف کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابیت کی نسبت ہی عدالت و ثقاہت کے لیے کافی ہے، مزید کسی تحقیق کی ضرورت نہیں اور اعمال و واقعات کی بنا پر کسی صحابی رسول پر تنقید جائز نہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر قسم کے جرح و تنقید سے بالاتر ہیں، ان کے اختلافات خواہ وہ علمی و فکری ہوں یا سیاسی و حربی، سب اجتہاد پر مبنی ہیں، کسی بدنیتی اور فساد پر نہیں اور اجتہاد غلط بھی ہو تو قابلِ اجر ہے، لائقِ مؤاخذہ نہیں ہے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلافات کے بارے میں کوئی تاریخی واقعہ سامنے آئے تو اس کی تاویل کی جائے گی اور کوئی محمل حسن متعین کیا جائے گا اور اگر صواب و خطا کچھ سمجھ میں نہ آئے تو بھی توقف اور کف لسان واجب ہے، کسی اظہارِ رائے یا ذہنی قیاس آرائی کی اجازت نہیں ہے، یہ مقام ہی ایسا ہے کہ زبان کھولنا بھی گناہ ہے۔
علامہ ابنِ اثیر الجزریؒ (630ھ) اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جرح سے بالا کیوں ہیں؟ لکھتے ہیں:
والصحابة یشارکون سائر الرواة فی جمیع ذلک الا فی الجرح والتعدیل فان کلھم عدول لا یتطرق الیھم الجرح لان اللّٰہ عزوجل و رسولہ زکاھم و عدلاھم و ذلک مشھور لا تحتاج لذکرہ
(اسد الغابة: جلد، 1 صفحہ، 2)
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دوسرے راویوں کے ساتھ ہر بات میں شریک ہیں، مگر جرح و تعدیل میں وہ دوسروں کے درجے میں نہیں، یہ سب کے سب عادل ہیں، جرح ان کی طرف راہ نہیں پاتی، کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ نے ان کا تزکیہ کر دیا ہے اور ان کی تعدیل کر دی ہے اور یہ بات اتنی روشن ہے کہ اس کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔
(عبقات: صفحہ، 33 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلافات میں بڑی حکمتِ الہٰی پوشیدہ: 
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جو اختلافات ظاہر ہوئے یا خود عہدِ نبوت میں بعض خلافِ شان چیزیں ان کی طرف سے سامنے آئیں، ان میں بڑی حکمتِ الہٰی پوشیدہ ہے، عہدِ نبویﷺ میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جو خلافِ شان اعمال سرزد ہوئے ان کا مقصد دراصل تکمیلِ شریعت تھا اور ان حضرات کو بطورِ اسباب استعمال کیا گیا اور عہدِ نبوی کے بعد جو چیزیں رونما ہوئیں ان میں بھی اجتہاد کی کئی جہتوں کو روشنی میں لانا مطلوب تھا،علاوہ آخری حالات کے اعتبار سے کسی صحابیؓ کا خاتمہ غلط فکر و عمل پر نہیں ہوا، بلکہ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ وہ راہِ صواب یا راہِ اعتدال پر قائم ہو گئے اور پھر ان کی وفات ہوئی۔ اختلافات کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خیر امت کے مقام پر فائز رہے، قرآن کریم نے باہمی جنگ کو ایمان کے منافی قرار نہیں دیا ہے۔
(تجلیات آفتاب: جلد، 1 صفحہ، 176 مؤلفہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: محمود پبلی کیشنز اسلامک ٹرسٹ لاہور، 1431ھ مطابق 2010ء)
 وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِىۡ تَبۡغِىۡ حَتّٰى تَفِىۡٓءَ اِلٰٓى اَمۡرِ اللّٰهِ ‌فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا ؕ‌ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ۞ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَةٌ فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَ اَخَوَيۡكُمۡ ‌وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞
(سورۃ الحجرات: آیت، 9، 10)
ترجمہ: اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے کے ساتھ زیادتی کرے تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کر رہا ہو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ چنانچہ اگر وہ لوٹ آئے، تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ صلح کرا دو، اور (ہر معاملے میں) انصاف سے کام لیا کرو، بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔
ایک بڑا سبب تکمیل شریعت:
علامہ خالد محمود صاحبؒ لکھتے ہیں:
صفحہ 4 از 15