مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 5 از 15
”صحابہ کے اختلاف کا منشا غلط فہمی تو ہو سکتا ہے، لیکن بدنیتی نہیں، سوء اعتقاد نہیں، ایمان اپنی بنیادی شان سے ان کے دلوں میں جگہ پا چکا ہے، ان میں خون ریزی تک دیکھو تو بدگمانی کو راہ نہ دو، یہ سب بھائی بھائی ہیں، بدگمانی سے انتہا تک بچو، ان میں سے کسی سے بڑے سے بڑا گناہ دیکھو تو بھی بدگمانی نہ کرو، اس کا ظہور بتقاضائے فسق نہیں ہوا، محض اس حکمت سے وجود میں آیا ہے کہ اس پر شریعت کی ہدایت اترے اور یہ لوگ تکمیلِ شریعت کے لیے استعمال ہو جائیں، آنحضرتﷺ کا کسی وقت نماز کی رکعتوں میں بھولنا از راہِ غفلت نہیں تھا، اس حکمتِ الہٰی کے تحت تھا کہ لوگوں پر سجدۀ سہو کا مسئلہ کھلے اور شریعت اپنی پوری بہار سے کھلے۔
سو ایسے جو امور شانِ نبوت کے خلاف نہ تھے ان کے حالات حضورﷺ پر ڈالے گئے اور جو گناہ کی حد تک پہنچتے تھے انھیں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ڈالا گیا، اور وہ حضرات اس طرح تکمیلِ شریعت کے لیے بطورِ سبب استعمال ہو گئے، ان حالات سے گزرنے کے بعد ان کا وہ تقدس بحال ہے جو انھیں بطورِ صحابیؓ کے حاصل تھا، اور ان کی بھی بدگوئی کسی پہلو سے جائز نہیں، اعتبار ہمیشہ اواخرِ امور کا ہوتا ہے، اس کے بغیر ان امور اور واقعات کی قرآن کریم سے تطبیق نہیں ہوتی۔
اختلاف اصول کا نہیں فروع کا اور وسعتِ عمل کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا باہمی اختلاف اصول کا نہیں فروع کا ہے، حق و باطل کا نہیں وسعتِ عمل کا ہے، ان میں سے جس کی بات چاہے لے لو، لیکن دوسرے پر جرح نہ کرو اور نہ اسے باطل پر کہو ان حضرات کے جملہ اعمال و افکار کسی نہ کسی جہت سے حضورﷺ سے ہی استناد رکھتے ہیں، حافظ ابنِ تیمیہؒ (728ھ) نے ائمہ مجتہدین کے مختلف فیہ مسائل کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اعمال سے مسند بتایا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلاف کو امت کے لیے وسعتِ عمل قرار دیا ہے۔
(عبقات: صفحہ، 27 تا 30 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور بحوالہ فتاویٰ ابنِ تیمیہؒ، الانصاف لرفع الاختلاف صفحہ، 10)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف حق و ناحق کا نہیں، ترجیح کا تھا:
تمام اہلِ سنت کا عقیدہ ہے کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ ہیں، حضرت امیرِ معاویہؓ نے ان کی خلافت کو تسلیم نہ کیا، لیکن اس میں اہلِ سنت کا محتاط موقف یہی رہا ہے کہ ان مشاجرات میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کو برا بھلا کہنے کی بجائے اسے یوں کہا جائے کہ ان میں اولیٰ بالحق سیدنا علیؓ تھے، یعنی نیت دونوں کی درست تھی، منزل دونوں کی حق تھی، حضرت علیؓ حق کے زیادہ قریب تھے، دوسری طرف باطل کا لفظ لانے سے احتیاط کی جائے، اسے خلافِ اولیٰ کہنے سے بات واضح ہو جاتی ہے۔ آپؓ کے لیے یہ اولیٰ بالحق کی تعبیر خود لسانِ رسالت سے ثابت ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ بھی حق پر تھے، 
حضرت ابوسعید الخدریؓ (74ھ) بیان کرتے ہیں، حضورﷺ نے فرمایا:
عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ-صلی اللہ علیہ وسلم تَکُونُ فِی أُمَّتِی فِرْقَتَانِ فَتَخْرُجُ مِنْ بَیْنِہِمَا مَارِقَةٌ یَلِی قَتْلَہُمْ أَوْلاَہُمْ بِالْحَقّ
(الجامع الصحیح المسمی صحیح مسلم: جلد، 3 صفحہ، 113 حدیث نمبر: 6508 المؤلف: أبو الحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم القشیری النیسا بوری المحقق: الناشر: دار الجیل بیروت دار الآفاق الجدیدة بیروت)
ترجمہ: میری امت (سیاسی طور پر) دو حصوں میں بٹ جائے گی، ان دونوں کے درمیان ایک تیسرا فرقہ نکلے گا، اس تیسرے فرقہ مارقہ کے قتل کے درپے جو ان دو جماعتوں میں سے نکلے گا وہ اپنے اختلاف میں حق کے زیادہ قریب ہو گا۔
دیکھیے حضورﷺ نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے حامیوں کو باطل پر کہنے کی بجائے حضرت علیؓ کو اولیٰ بالحق فرمایا ہے، یعنی اصولاً دونوں حق پر ہوں گے، لیکن ان میں ایک زیادہ حق پر ہو گا اور ظاہر ہے کہ وہ حضرت علیؓ تھے جو خوارج سے لڑے۔
خود سیدنا علیؓ نے بھی کبھی سیدنا امیرِ معاویہؓ کو گمراہ یا باطل پر نہیں کہا، بلکہ اپنا ہم عقیدہ قرار دیا، سیدنا علیؓ نے ارشاد فرمایا:
وکان بدء امرنا انا التقینا والقوم من اھل الشام والظاھر ان ربنا واحد و نبینا واحد و دعوتنا فی الاسلام واحدة ولا نستزیدھم فی الایمان باللّٰہ والتصدیق برسولہ ولا یستزیدوننا الامر واحد الاما اختلفنا فیہ من دم عثمان ونحن منہ براء
(نہج البلاغة: جلد، 3 صفحہ، 126)
ترجمہ: یہ ہمارے اختلاف کی ابتدا تھی کہ ہم اور اہلِ شام آپس میں ٹکرا گئے اور ظاہر ہے کہ ہم دونوں ایک خدا ایک نبی اور ایک دعوتِ اسلام پر جمع ہیں، ہم اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانے میں ان سے زیادہ نہیں اور وہ ہم سے ایمان میں زیادہ نہیں، ہم سب ایک ہیں، ماسوائے اس کے کہ خونِ سیدنا عثمانؓ کے بارے میں ہم میں کچھ اختلاف ہوا اور ہم اس سے بری ہیں۔(تجلیات آفتاب: جلد، 1 صفحہ، 44، 45 مؤلفہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: محمود پبلی کیشنز اسلامک ٹرسٹ لاہور، 1431ھ بمطابق 2010ء)
علامہ ابنِ خلدونؒ لکھتے ہیں:
انما اختلف اجتھادھم فی الحق ما اقتتلوا علیہ و ان کان المصیب علیا فلم یکن معاویة قائمًا فیھا یقصد الباطل انما قصد الحق و اخطا والکل کانوا فی مقاصدھم علی الحق
(تاریخ ابنِ خلدون: صفحہ، 171)
ترجمہ: ان کا اختلاف اجتہادی تھا، گو کہ باہمی جنگوں میں سیدنا علیؓ صواب پر تھے، لیکن سیدنا امیرِ معاویہؓ کی نیت بھی خیر ہی کی تھی، لیکن غلطی ہوئی، مگر سب کی نیت خیر ہی کی تھی
(خلفاء راشدینؓ جلد، 2 صفحہ، 541، 542 مؤلفہ ڈاکٹر علامہ خالد محمود)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلافات کی تاویل کرنا اور بہتر محمل متعین کرنا واجب:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی اختلافات و نزاعات میں تاویل کرنا اور ان کو کسی بہتر محمل پر محمول کرنا واجب ہے، ورنہ سخت فتنہ کا اندیشہ ہے۔
شرح عقائد میں ہے:
وما وقع بینھم من المنازعات و المحاربات فلہ محامل و تاویلات فسبھم والطعن فیھم ان کان مما یخالف الا دلة القطعیة فکفر کقذف عائشة و الا بدعة و فسق
(شرح العقائد: صفحہ، 112)
صفحہ 5 از 15