مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 6 از 15
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جو اختلافات اور محاربات واقع ہوئے ان سب کے اپنی اپنی جگہ حل موجود ہیں اور ان کی ایسی توجیہات کی جا سکتی ہیں کہ ہر ایک کا اپنا مقام برقرار رہے، ان بزرگوں کی شان میں طعن کرنا اگر دلائلِ قطعیہ یقینیہ کے خلاف ہو جیسا کہ حضرت عائشہؓ پر بہتان باندھنا تو یہ یقیناً کفر ہے اور اگر دلائلِ قطعیہ کی مخالفت نہیں، اخبارِ آحاد کے خلاف ہے تو یہ بھی بدعت اور بدکاری ہے۔
(عبقات: صفحہ، 54 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جو اختلافات ہوئے وہ رائے اور فہم کے اختلاف سے ہوئے، بدنیتی کسی کے شاملِ حال نہ تھی، اگر کسی نے کسی کو خطاء پر کہا ہے تو ظنی جہت سے ہے، یقینی طور پر ہم کسی کو خطا پر نہیں کہہ سکتے:
لا یجوز ان ینسب الیٰ احد من الصحابة خطاء مقطوع بہ و کانوا کلھم اجتھدوا فیما فعلوہ و ارادوا اللّٰہ عزوجل وھم کلھم لنا ائمة وقد تعبدنا بالکف عما شجر بینھم
(الجامع لاحکام القرآن: جلد، 16 صفحہ، 361)
ترجمہ: یہ جائز نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ان اختلافات میں ہم کسی طرف قطعی خطا کی نسبت کریں، ہر ایک نے جو کچھ کیا اپنے اجتہاد سے کیا، اور سب کی مراد اللہ تعالیٰ کو خوش کرنا تھا اور وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب ہمارے پیشوا ہیں، ان کے اختلافات سے زبان کو بند رکھنے میں ہم خدا کی رضا جانتے ہیں۔
تاویل معلوم نہ ہو تو باتفاقِ اہلِ سنت، توقفِّ اور کف لسان واجب ہے
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (561ھ) اس باب میں تفویض کے قائل معلوم ہوتے ہیں، آپ کہتے ہیں، ان کے اختلاف کو اللہ کے سپرد کیا جائے اور خطا و صواب کے فیصلے ہم خود نہ کریں۔
تسلیم امرھم الی اللہ عزوجل علیٰ ما کان و جری من اختلاف علی و طلحة و الزبیر و عائشة و معاویة رضی اللّٰہ عنھم
(غنیة الطالبین: صفحہ، 140)
ترجمہ: ان کا معاملہ جیسا بھی رہا اسے اللہ کے سپرد کیا جائے، سیدنا علیؓ، سیدنا طلحہؓ، سیدنا زبیرؓ، سیدہ عائشہؓ اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے معاملات کا یہی حکم ہے۔
حضرت حسن بصریؒ (110ھ) جو سیدنا علی مرتضیٰؓ کے خلیفہ ہیں، ان کا مسلک بھی توقف ہی معلوم ہوتا ہے۔
قتال شھدہ اصحاب محمد و غبنا و علموا و جھلنا و اجتمعوا فاتبعنا و اختلفوا فوقفنا
(الجامع لاحکام القرآن جلد، 16 صفحہ، 322)
ترجمہ: یہ ایسی جنگ تھی جس میں حضورﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سامنے تھے اور ہم وہاں نہ تھے، انھوں نے معاملے کو جانا اور ہم ناواقف رہے، جس پر یہ متفق رہے ہم نے اس کی پیروی کی اور جب ان میں اختلاف ہوا تو ہم نے توقف کیا۔
اگر ان میں سے کسی ایک جانب صواب متعین بھی ہو جائے تو بھی دوسری جانب اعتراض جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ مجتہد خطا کی صورت میں ایک اجر پھر بھی پائے گا، حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ (852ھ) لکھتے ہیں کہ اس پر اہلِ سنت والجماعت کا اجماع ہے:
و اتفق أہل السنة علی وجوب منع الطعن علی أحد من الصحابة بسبب ما وقع لہم من ذلک ولو عرف المحق منہم لأنہم لم یقاتلوا فی تلک الحروب الا عن اجتہاد وقد عفا اللّٰہ تعالی عن المخطء فی الاجتہاد بل ثبت أنہ یؤجر أجرا واحدا وان المصیب یؤجر أجرین
(فتح الباری شرح صحیح البخاری: جلد، 13 صفحہ، 34 المؤلف: أحمد بن علی بن حجر أبو الفضل العسقلانی الشافعی الناشر: دار المعرفة بیروت، 1379 تحقیق: أحمد بن علی بن حجر ابوالفضل العسقلانی الشافعی عدد الأجزاء: 13)
ترجمہ: اہلِ سنت کا اس پر اجماع ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس سلسلہ میں جو کچھ بھی واقع ہوا اس کے باعث کسی صحابیؓ پر اعتراض سے اجتناب کرنا واجب ہے، اگرچہ ان میں راہِ صواب پہچان بھی لیا جائے، کیونکہ وہ ان جنگوں میں اجتہاد کے باعث مبتلا ہوئے (کہ امت کی بھلائی کس میں ہے)، اپنی ذات یا خود غرضی کی راہ سے نہیں اور اللہ پاک نے اجتہاد میں خطا کرنے والے کو معاف کر دیا ہے، بلکہ ثابت ہے کہ ان کو ایک اجر ملے گا، اور صواب تک پہنچنے والے مجتہد کو دوہرا ثواب ملتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کے شاگرد حضرت ابومیسرہ عمرو بن شرحبیلؒ کا ایک خواب کتبِ حدیث میں نقل کیا گیا ہے:
”وہ کہتے ہیں، میں نے دیکھا کہ میں جنت میں ہوں اور میں نے اپنے سامنے خیمے لگے دیکھے، میں نے پوچھا یہ کن کا ڈیرہ ہے، مجھے بتایا گیا ذی الکلاع اور حوشب کا۔ یہ دونوں جنگِ صفین میں سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ میں نے پوچھا حضرت عمارؓ اور ان کے ساتھی کہاں ہیں، جواب ملا، آگے دیکھو۔
قال قلت سبحان اللّٰہ وقد قتل بعضہم بعضا فقال إنہم لقوا اللّٰہ فوجدوہ واسع المغفرة
(سنن البیہقی الکبریٰ: جلد، 8 صفحہ، 174 حدیث نمبر: 16497 المؤلف: أحمد بن الحسین بن علی بن موسیٰ أبوبکر البیہقی الناشر: مکتبة دار الباز مکة المکرمة، 1414ھ، 1994ء م تحقیق: محمد عبدالقادر عطا عدد الأجزاء: 10)
ترجمہ: میں نے پوچھا، سبحان اللہ! یہ کیسے ہوا؟ ان میں سے تو بعض نے بعض کو قتل کیا تھا؟ جواب ملا، جب یہ سب باری تعالیٰ کے حضور پہنچے تو انھوں نے اس کی مغفرت کو بے حد وسیع پایا۔
اللہ کی وسیع مغفرت سے مراد نیتوں پر فیصلے کرنا ہے، نیک نیت خطاکار بھی اس کے یہاں اجر پا لیتا ہے، بشرطیکہ اس نے نفس سے نہیں سوچ سمجھ کر کوئی راہ اختیارکی ہو۔ یہ سب معاملات اور اختلافات کچھ اس طرح واقع ہوئے کہ یہ حضرات اپنی اصل سے نہیں ہٹے، نہ امت سے کٹے، خون ریزی پر بھی اترے تو امت کی بقاء کے لیے اور پھر معاونت پر آئے تو وہ بھی امت کی اصلاح کے لیے اور پھر آپس میں متحد ہوئے تو وہ بھی اپنی اصل سے وفا کے لیے۔ ان کے اختلافات کو مشاجرات اسی لیے کہتے ہیں کہ درخت ایک ہی رہا جس کے گرد یہ جمع ہیں، بس اس کی پتیاں اور شاخیں آپس میں ٹکراتی رہیں، باہر سے کوئی ان کے تار نہیں ہلا رہا تھا، نہ یہ کہ ان کے دل پاک نہ تھے۔
(عبقات: صفحہ، 472 تا 475 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ (100ھ) نے بھی امتِ اسلامیہ کو نصیحت فرمائی ہے:
امر اخرج اللّٰہ ایدیکم منہ ماتعملون السنتکم فیہ
صفحہ 6 از 15