مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 7 از 15
(الطبقات الکبریٰ: جلد، 5 صفحہ، 382 المولف: ابو عبداللہ محمد بن سعد بن منیع الہاشمی بالولاء، البصری، البغدادی المعروف بابنِ سعد (المتوفیٰ: 230ھ) المحقق: احسان عباس الناشر: دار صادر بیروت، الطبعة: 1، 1968ء م عدد الأجزاء: 8)
ترجمہ: یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ہاتھوں کو محفوظ رکھا، اب تم اپنی زبانوں کو اس میں کیوں ملوث کر رہے ہو؟
(عبقات: صفحہ، 472 تا 475 مؤلفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
امام شافعیؒ نے مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں یہ فیصلہ دیا:
تلک دماء اطھر اللّٰہ عنھا ایدینا فلنطھر عنھا ألسنتنا
(شرح مواقف: جلد، 1 صفحہ، 445)
ترجمہ: یہ وہ خون تھے کہ اللہ نے ہمارے ہاتھوں کو ان سے بچائے رکھا، پس چاہیے کہ ہم اپنی زبانوں کو بھی ان خون ریز اختلافات سے بچائے رکھیں۔
امام ابوجعفر الطحاویؒ (328ھ) لکھتے ہیں:
و نحب اصحاب رسول اللّٰہ ولا نفرط فی حب احد منھم ولا نتبرا من احد منھم و نبغض من یبغضھم و بغیر الخیر من یذکرھم ولا نذکرھم الا بخیر وحبھم دین و ایمان و احسان و بغضھم کفر و نفاق و طغیان
(العقیدة الطحاویة بحوالہ خلفاء راشدین)
ترجمہ: ہم اصحابِ رسولﷺ سے محبت رکھتے ہیں، نہ کسی کی محبت میں غلو کرتے ہیں اور نہ کسی سے برأت ظاہر کرتے ہیں، جو ان سے بغض رکھے یا غلط طور پر ان کا ذکر کرے ان سے ہم بغض رکھتے ہیں، ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا صرف ذکرِ خیر کرتے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت دین و ایمان اور احسان ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر و نفاق اور طغیان ہے۔
حافظ ابنِ عبدالبر مالکیؒ (463ھ) تحریر فرماتے ہیں:
فھم خیرالقرون وخیر امة اخرجت للناس ثبتت عدالة جمیعھم بثناء اللّٰہ عزوجل علیھم انما وضع اللّٰہ عزوجل اصحاب رسولہ الموضع الذین وضعھم فیہ بثنائہ علیھم من العدالة والدین والامامة لتقوم الحجة علیٰ جمیع اھل الملة بما راوہ عن نبیھم من فریضة و سنة
(الاستیعاب: جلد، 1 صفحہ، 2، 7)
 ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہترین دور کے لوگ ہیں اور بہترین امت ہیں جو سب لوگوں کے رہنما ٹھہرے ان سب کا عادل ہونا اس طرح ثابت ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے ان سب کی ثنا کی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم کو اس مقام پر رکھا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کی عدالت، دیانت اور امامت کی خود ثنا کی ہے، تاکہ تمام اربابِ ملل پر دین کی حجت قائم ہو جائے، ان کے اپنے نبی کریمﷺ سے فرائض و سنن کی روایت کرنے میں۔
ابو منصور البغدادیؒ لکھتے ہیں:
و اما معاویة فھو من العدول الفضلاء والصحابة الاخیار والحروب التی جرت بینھم کانت لکل طائفة شبھة اعتقدت تصویب نفسھا بسببھا وکلھم متاولون فی حروبھم ولم یخرج احد منھم من العدالة لانھم مجتھدون
(الاستیعاب: جلد، 1 صفحہ، 7)
ترجمہ: حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ عادل فاضل اور اخیار صحابہ میں سے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جو جنگیں ہوئیں وہ اس طرح ہوئیں کہ ان میں سے ہر ایک گروہ ایک شبہے میں گھرا تھا، جس میں وہ اپنے آپ کو اجتہاداً حق پر سمجھتا تھا اور وہ اپنی اپنی جنگوں میں مقامِ تاویل پر تھے اور اس طرح ان میں سے کوئی اپنے مقامِ عدالت سے نہیں گرا اس لیے کہ وہ سب کے سب ان اختلافات میں مقامِ اجتہاد پر تھے۔
حافظ ابنِ عساکرؒ (571ھ) خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
فھٰؤلاء الائمة بعد رسول اللّٰہﷺ و خلافتھم خلافة النبوة ونشھد للعشرة بالجنة الذین شھد لھم رسول اللہﷺ و نتولی للعشرة بالجنة الذین شھد لھم رسول اللّٰہﷺ و نتولی سائر اصحاب النبیﷺ و نکف عما شجر بینھم وندین اللّٰہ ان الائمة الاربعة راشدون مھدیون فضلاء لا یوازیھم فی الفضل غیرھم و نصدق بجمیع الروایات التی ثبتت عند اھل النقل
(ابنِ عساکر: صفحہ، 160، 161)
ترجمہ: یہ حضرات رسول اللہﷺکے بعد امت کے امام ہیں اور ان کی خلافت خلافتِ نبوت ہے اور ہم ان دس حضرات کرام رضی اللہ عنہم کے لیے جنت کی شہادت دیتے ہیں، جن کے لیے حضور اکرمﷺ نے جنت کی بشارت دی ہے اور ہم تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھتے ہیں اور ان میں جو اختلاف ہوئے ہم ان سے زبان بند رکھتے ہیں اور ہم اللہ کو اس پر گواہ لاتے ہیں کہ یہ چاروں حضراتؓ رشد و ہدایت پر رہے، علم و فضل میں یہ ایسے ہیں کہ کوئی ان کے برابر نہیں اترتا اور ہم ان تمام روایات کی تصدیق کرتے ہیں جنہیں محدثین (اہلِ نقل) نے ثابت فرمایا ہے۔
علامہ سعدالدین تفتازانیؒ (791ھ) لکھتے ہیں:
مما روی فی الاحادیث الصحیحة من مناقبھم و وجوب الکف عن الطعن فیھم لقولہ علیہ السلام اکرموا اصحابی فانھم خیارکم الحدیث ولقولہ علیہ السلام لا تتخذوا غرضاً من بعدی
(شرح عقائد نسفی، مرقاة: جلد، 5 صفحہ، 517)
ترجمہ: احادیثِ صحیحہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جو مناقب مروی ہیں، ان کی رو سے ان پر زبان طعن کو روکے رکھنا واجب ہے، حضور اکرمﷺ کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ارشاد ہے:
میرے صحابہ کی عزت کرو، یہ بیشک تم میں بہترین لوگ ہیں اور حضور اکرمﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ میرے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کسی اعتراض کا نشانہ نہ بنانا۔
حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ (852ھ) لکھتے ہیں:
اتفق اھل السنة علیٰ ان الجمیع عدول فی ذلک الاشذوذ من المبتدعة
(الاصابة: جلد، 1 صفحہ، 11)
ترجمہ: تمام اہلِ سنت اس پر اتفاق رکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں اور اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا، سوائے چند مبتدعین کے۔
سو ان میں سے کسی پر کوئی جرح نہ کی جائے، یہ گواہ کسی طرح مجروح نہ ہونے پائیں، حافظ ابنِ حجرؒ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جرح کرنے کو بدعتیوں کا نشان بتایا ہے، اس لیے آج بھی جو اُن پر جرح کریں ان کے بدعتی ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
حافظ ابنِ ہمام الاسکندریؒ (861ھ) لکھتے ہیں:
واعتقاد اھل السنة والجماعة تزکیة جمیع الصحابة رضی اللّٰہ عنھم وجوباً باثبات العدالة لکل منھم والکف عن الطعن والثناء علیھم کما اثنیٰ اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ علیھم
(المسائرة: صفحہ، 130)
صفحہ 7 از 15