مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 8 از 15
ترجمہ: اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تزکیہ یافتہ ماننا لازم ہے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کا عادل ہونا ثابت ہے اور ان پر ہر طرح کے طعن سے رکنا اور ان کی ثنا خوانی کرتے رہنا جیسا کہ اللہ نے قرآن میں ان کی ثنا کی ہے لازم ہے۔
بحرالعلوم ملا محمد عبدالعلی لکھنویؒ (1225ھ) بھی لکھتے ہیں:
واعلم ان عدالة الصحابة الداخلین فی بیعة الرضوان والبدریین کلھم مقطوع العدالة لایلیق لمؤمن ان یمترا فیھا والواجب علینا ان نکف عن ذکرھم الا بخیر
(فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت: جلد، 2 صفحہ، 156)
ترجمہ: جان لو کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو بیعتِ رضوان میں شامل تھے اور جو بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، یہ سب قطعی طور عادل ہیں کسی مؤمن کو یہ حق نہیں کہ وہ اس میں کسی طرح کا کوئی شک کرے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ان کے بارے میں سوائے ان کی مدح و ثنا کے ہر طرح سے زبان بند رکھیں۔
غرض تمام ائمہ و اعلام کا اتفاق ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں کلمہ خیرکے سوا ہر بات سے زبان بند رکھی جائے، اس کا حاصل اس کے سوا کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بے ادبی میں مؤمن کی زبان نہ کھلے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کوئی عمل ان کی شان کے خلاف صادر ہو تو اس کی تنقیح یا تاویل کی جائے گی، انھیں اعتماد کی سطح سے گرایا نہیں جائے گا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دینِ اسلام کو آگے نقل کرنے میں جرح سے بالا اور سب اہلِ ملت پر حجت سمجھے گئے ہیں، ان کی مدح و ثنا کا اقرار اس امت میں تسلسل سے چلا آ رہا ہے، سو اس قدر مشترک کا تحفظ اس طرح سے رہ سکتا ہے کہ ان پر کسی قسم کی جرح سے زبان اور قلم کو روکا جائے۔
علماء حق تاریخ کے ہر دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تزکیہ ان کی عدالت و دیانت اور ان کا ہر جرح سے بالا ہونا اس کثرت سے بیان کرتے آئے ہیں کہ اس پر تمام اکابرینِ امت کا صدی وار اجماع قائم ہے، اب کسی کی مجال نہیں کہ وہ اس اجماع سے نکلے اور کسی صحابیؓ پر زبان جرأت دراز کرے، اعاذنا اللہ منھا
(خلفاء راشدین: جلد، 2 صفحہ، 487 تا 497 مؤلفہ علامہ خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض رکھنے والا خارج از اسلام:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر طعن کبھی اس درجہ میں ہوتا ہے کہ کفر تک پہنچ جاتا ہے جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا، ائمہ مجتہدین اور علماء صالحین میں سے کسی نے حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کے رفقاء پر لعنت کی اجازت نہیں دی ہے۔ 
شرح عقائد کی شرح النبراس میں ہے:
و الطعن فیھم ان کان مما یخالف الادلة القطعیة فکفر کقذف عائشة وبالجملة لم ینقل عن السلف المجتھدین والعلماء الصالحین جواز اللعن علیٰ معاویة و احزابہ
(النبراس بحوالہ خلفاء راشدین: جلد، 2 صفحہ، 491)
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی پر کوئی طعن کرنا اگر دلائلِ قطعیہ کے خلاف ہو تو یہ کفر ہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانا اور سلف صالحین اور ائمہ مجتہدین میں سے کسی سے حضرت امیرِ معاویہؓ اور ان کے احباب پر لعنت کرنے کا جواز منقول نہیں ہے۔
حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جس نے حضور اکرمﷺ کے صحابہ سے دل میں کوئی بوجھ رکھا وہ اسلام سے نکل گیا:
ومن ہذہ الآیة انتزع الإمام مالک رحمۃ اللہ فی روایة عنہ بتکفیر الروافض الذین یبغضون الصحابة، قال: لأنہم یغیظونھم ومن غاظ الصحابة فھو کافر لھذہ الآیة و وافقہ طائفة من العلماء علی ذلک والأحادیث فی فضائل الصحابة والنھی عن التعرض لھم بمساءة کثیرة ویکفیھم ثناء اللّٰہ علیہم، ورضاہ عنہم
(تفسیر القرآن العظیم: جلد، 7 صفحہ، 362 المؤلف: ابو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی الدمشقی (المتوفیٰ: 774ھ) المحقق: سامی بن محمد سلامة، الناشر: دار طیبة للنشر والتوزیع الطبعة: الثانیة 1420ھ 1999ء م، عدد الأجزاء: 8)
حافظ ابو زرعہ رازیؒ (264ھ) لکھتے ہیں:
واذا رایت الرجل ینتقص احدا من اصحاب رسول اللہﷺ فاعلم انہ زندیق وھٰؤلاء یریدون ان یخرجوا شھودنا لان یبطلوا الکتاب والسنة والجرح بھم اولیٰ وھم زنادقة
(الاصابة: صفحہ، 11)
ترجمہ: تم جب کسی شخص کو دیکھو کہ وہ حضور اکرمﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک کی بھی تنقیص کر رہا ہے توجان لو کہ وہ زندیق ہے (ملحد ہے)۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے دین کے گواہوں پر جرح کر کے کتاب و سنت کو اڑا کر رکھ دیں یہ لوگ خود جرح کے زیادہ لائق ہیں اور یہ سب کے سب زندیق ہیں۔
(خلفاء راشدین: جلد، 2 صفحہ، 487 تا 497 مؤلفہ علامہ خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
اس اصولی بحث کے بعد ہم ایک نظر موضوع کی بعض تفصیلات پر ڈالتے ہیں، جس سے علماء اسلام کے مذکورہ مؤقف کے سمجھنے میں مدد ملتی ہے:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علمی اختلافات:
جہاں تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علمی و فکری اختلافات کا تعلق ہے تو بلاشبہ ان کے درمیان اس نوع کے بے شمار اختلافات ہوئے، بلکہ ان علمی اور اجتہادی اختلافات کا سر رشتہ خود عہدِ نبوت ہی سے ملتا ہے، جیسا کہ بنو قریظہ میں عصر پڑھنے کے واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے، مگر یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے، خود سرکارِ دو عالمﷺ نے دونوں فریق کی تصویب فرمائی۔
(لا یصلین أحد العصر إلا فی بنی قریظة فأدرک بعضہم العصر فی الطریق فقال بعضہم لا نصلی حتی نأتیہا وقال بعضہم بل نصلی لم یرد منا ذلک فذکر للنبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم فلم یعنف واحدا منہم (الجامع الصحیح المختصر المؤلف: محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی الناشر: دار ابنِ کثیر، الیمامة بیروت الطبعة الثالثة، 1407ھ 1987ء تحقیق: د مصطفیٰ دیب البغا أستاذ الحدیث وعلومہ فی کلیة الشریعة جامعة دمشق عدد الأجزاء: 6 مع الکتاب: تعلیق د مصطفیٰ دیب البغا)
صفحہ 8 از 15