مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک - دفاعِ…

مشاجرات صحابہ اوراہل السنۃ والجماعۃ کا معتدل مسلک

  مولانااخترامام عادل قاسمی

صفحہ 9 از 15
 ظاہر ہے کہ جس امت کو اجتہاد جیسا سرچشمہ قانون عنایت کیا گیا، وہاں فکر و رائے کا اختلاف عینِ قرین عقل و فطرت ہے، چنانچہ عہدِ نبوت کے بعد بھی یہ اختلافات جاری رہے، کتبِ حدیث میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایک دوسرے پر مناقشات پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں، مگر یہ قسم یہاں زیر بحث نہیں ہے۔
سیاسی اختلافات اور مشاجرات:
یہاں زیرِ بحث وہ اختلافات ہیں جو سیاسی اور حربی نوعیت کے ہیں، جن میں زبان کے ساتھ ساتھ شمشیر و سنان کی طاقت بھی استعمال ہوئی، اور انھیں کو مشاجرات کا نام دیا گیا، لیکن غور کیجیے تو یہ اختلافات بھی بہت بعد کی پیداوار ہیں، حضرت عثمانؓ کی شہادت سے قبل اس طرح کا کوئی بڑا اختلاف رونما نہیں ہوا تھا، سیدنا عثمانؓ کی خلافت کے آخری دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد عام مسلم آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہو گئی تھی، اس لیے جو اختلافات رونما ہوئے اس کا سبب براہِ راست خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہیں تھے، بلکہ ان میں بڑا دخل ان مسلمانوں کا تھا جو شرفِ صحابیت سے محروم تھے، اس لیے ان اختلافات کو براہِ راست صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اختلاف نہیں کہا جا سکتا۔
خود امیر المؤمنین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا سانحہ شہادت بھی مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ضمن میں نہیں آتا، اس لیے کہ آپؓ کے قتل میں کوئی صحابی رسولﷺ شریک نہیں تھے، امام نوویؒ لکھتے ہیں:
ولم یشارک فی قتلہ أحد من الصحابة، وإنما قتلہ ہمج، ورعاع من غوغاء القبائل سفلة الأطراف والأراذل، تحزَّبوا، و قصدوہ من مصر، فعجزت الصَّحابة الحاضرون عن دفعہم، فحصروہ حتی قتل، رضی اللّٰہ عنہ ، وقد وصفہم الزبیر رضی اللہ عنہ بأنہم غوغاء من الأمصار، ووصفتہم السیَّدة عائشة بأنَّہم نزَّاع القبائل
(شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد، 15 صفحہ، 148 مؤلف کتاب علامہ خالد محمود نے حافظ ابنِ کثیرؒ (676ھ) لکھا ہے، لیکن غالباً یہ سہو کاتب ہے، مجھے ابنِ کثیرؒ کی کسی شرح مسلم کا پتہ نہ چل سکا۔)
ترجمہ: سیدنا عثمانؓ کے قتل میں کوئی صحابیؓ شریک نہیں ہوا، آپؓ کو قتل کرنے والے نچلے درجے کے لوگ تھے، یہ فساد پیدا کرنے والے قبائل اور جنگی قسم کے رذیل لوگ تھے، جو جتھا بن کر آئے اور انھوں نے آپؓ پر حملہ کیا اور وہاں پر موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انھیں روکنے سے عاجز رہے، سیدنا زبیرؓ نے فرمایا کہ یہ مختلف شہروں کے شرپسند لوگ تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مختلف قبائل کے چھٹے ہوئے لوگ تھے۔
اختلافات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت میں نہیں، مخلوط جماعت میں پیدا ہوئے:
حقیقت یہ ہے کہ امت کے معاملات جب تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کے سپرد رہے اسلامی معاشرہ بیشک اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ (جو قرآن کریم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں کہا گیا ہے) کا مظہر بنا رہا، لیکن یہ حالت اسی دور تک رہی جب تک امتِ مسلمہ زیادہ تر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت پر مشتمل تھی، آنحضرتﷺ کی وفات شریفہ کا زمانہ جوں جوں دور ہوتا گیا، امتِ مسلمہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد کم ہوتی گئی اور دوسرے مسلمان جو صحابی نہ تھے، اکثریت بنتے چلے گئے، اب ایسے دور کے مسلمان اگر رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کا مظہر نہ رہیں، تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جماعتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس صفت کی آئینہ دار نہیں رہی، بلکہ دیکھا جائے تو ایسے دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجموعی حیثیت یا تنظیم کسی محسوس صورت میں ملتی ہی نہیں، وہ اگلے دور کے مسلمانوں میں اس طرح ملے جلے نظر آتے ہیں کہ اس دور کے فیصلے نہ جماعتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فیصلے سمجھے جا سکتے ہیں اور نہ ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اختلافات کہا جا سکتا ہے، اس بات سے انکار نہیں کہ ان اختلافات نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں سے شہرت حاصل کی، لیکن یہ اختلافات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کا اختلاف نہیں کہلا سکتے، کیونکہ اس وقت کی جماعتی زندگی پر غیر صحابہ کا غلبہ اور تسلط تھا۔ حضرت علی مرتضیٰؓ کے دور میں جماعتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بجائے غیر صحابہ کا غلبہ تھا اور وہ بھی زیادہ تر وہی لوگ تھے، جو سیدنا علی المرتضیٰؓ کے کہنے سننے میں نہ تھے، ہمیں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اس دور کے متعدد ایسے خطبے ملتے ہیں جن میں وہ اپنی مجبوری اور ان لوگوں کی سینہ زوری کے بہت شاکی نظر آتے ہیں، سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں:
یملکوننا ولانملکھم(نہج البلاغة: جلد، 2 صفحہ، 98)
ترجمہ: یعنی یہ لوگ اپنا حکم ہم پر چلاتے ہیں اور ہماری نہیں سنتے۔
ایسے لوگوں کی معیت اگر بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بدگمان کیے رکھے اور یہ لوگ ہر وقت ایسے مواقع کی تاک میں رہیں اور باہمی معاملات میں اختلاف و انشقاق کے کانٹے بوتے رہیں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔
(عبقات: صفحہ، 54 مولفہ حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، ناشر: دارالمعارف لاہور)
جیسا کہ جنگِ صفین میں حضرت عائشہؓ جنگ کے لیے نہ آئی تھیں، بلکہ بطور اُم المؤمنین بیٹوں میں مصالحت کرانی پیشِ نظر تھی، لیکن غلطی سے یہ جنگ میں تبدیل ہو گئی، جس کا سیدہ عائشہؓ کو ہمیشہ افسوس رہا۔
(تجلیات آفتاب: جلد، 1 صفحہ، 176 مؤلفہ علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ، ناشر: محمود پبلی کیشنز اسلامک ٹرسٹ لاہور، 1431ھ مطابق 2010ء)
اسی لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی تعداد ان جنگوں سے علیحدہ رہی، حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ (852ھ) لکھتے ہیں:
وکان من الصحابة فریق لم یدخلوا فی شئی من القتال
(الاصابة: جلد، 2 صفحہ، 502)
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے لوگ بھی تھے جو ان میں سے کسی جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔
اور شرح عقیدۀ طحاویہ میں ہے:
وقعد عن القتال اکثر الاکابر
(شرح عقیدۀ طحاویہ صفحہ، 441)
ترجمہ: اور اکثر اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان خون ریز جنگوں سے علیحدہ رہے۔
صفحہ 9 از 15