عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم کیا صحابہ رضی اللہ عنہم…

عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم کیا صحابہ رضی اللہ عنہم صرف روایت حدیث میں عادل ہیں؟

  محمد جنادہ نعمانی

صفحہ 1 از 4
اہلِ سنت والجماعت کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح معصوم نہیں ہیں مگر وہ عادل، متقن، متقی اور انتہا درجہ پرہیزگار ہیں، آسمانِ دیانت و تقویٰ کے درخشندہ ستارے ہیں، فسق و فجور جن کے قریب بھی نہیں بھٹکا۔
چنانچہ خداوندِ قدوس نے قرآن کریم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطَب کرکے فرمایا:
وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۞
(سورۃ الحجرات: آیت، 7)
ترجمہ: لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنا دیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آ چکے ہیں۔
نیز ارشادِ باری ہے: 
اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ لِلتَّقۡوٰى‌ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞
(سورۃ الحجرات: آیت، 3)
ترجمہ: یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کے لیے منتخب کر لیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی۔
علم العقائد کی معروف کتاب المسامرۃ شرح المسایرۃ میں ہے:
’’و اعتقاد أھل السنۃ والجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ رضی اللّٰہ عنھم وجوباً بإثبات العدالۃ لکل منھم و الکف عن الطعن فیھم و الثناء علیھم وما جریٰ بین علی و معاویۃ رضی اللّٰہ عنھما کان مبنیاً علی الاجتھاد من کل منھما لامنازعۃ من معاویۃ رضی اللّٰہ عنہ فی الامامۃِ‘‘ (صفحہ، 269، 270)
ترجمہ: اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کرنا ہے اس طرح کہ ان سب کے لیے عدالت ثابت کرنا اور ان کے بارے طعن سے رکنا اور ان کی مدح و ثناء کرنا ہے۔ اور حضرت علی اور حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو کچھ معاملہ پیش آیا یہ دونوں حضرات کے اجتہاد کی بناء پر تھا، سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حکومت و امامت کا جھگڑا نہیں تھا۔
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
الصّحابۃ کلّھم عدول من لابس الفتن وغیرھم بإجماع من یعتد بہ، قال اللہ تعالیٰ: وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا ۞ الآیۃ
(سورۃ البقرة: آیت، 143)
أی عدولا۔ وقال اللہ تعالیٰ: كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ ۞
(سورة آل عمران: آیت، 110)
والخطاب فیھا للموجودین حینئذ وقال صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم: خیر النّاس قرنی، رواہ الشیخان۔ قال إمام الحرمین: والسبب فی عدم الفحص عن عدالتھم: أنّھم حملۃ الشریعۃ 
(تدریب الراوی: صفحہ، 492، 493 قدیمی کتب خانہ، کراچی)
یعنی باجماعِ معتبر علماء تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں، مبتلائے فتن ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، (دلیل) ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 
وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا ۞
ترجمہ: کہ ہم نے تمہیں امت وسط یعنی عادل بنایا۔
نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ ۞
کہ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالے گئے ہو، ان آیات میں خطاب اُس وقت موجود حضرات (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کو ہے، اور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ لوگوں میں بہترین میرا زمانہ ہے، امام الحرمین نے فرمایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت سے بحث و جستجو نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حاملینِ شریعت و ناقلینِ شریعت ہیں۔
مشہور حنفی محقق ملا قاری رحمۃ اللہ ارقام فرماتے ہیں:
’’ذھب جمہور العلماء الی أنّ الصحابۃَ رضی اللّٰہ عنہم کلّھم عدول قبل فتنۃ عثمان و علی وکذا بعدھا ولقولہ علیہ الصلاۃ والسّلام أصحابی کالنجوم بأیّھم اقتدیتم اھتدیتم‘‘ 
(شرح الفقہ الأکبر لملا علی القاری: صفحہ، 63)
ترجمہ: جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل (پاکباز، متقی) ہیں حضرت عثمان غنی و حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں وقوع پذیر فتنوں سے پہلے بھی اور اُس کے بعد بھی، کیونکہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ستاروں کی مانند ہیں، ان میں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
علامہ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
’’قال ابن الصلاح و النووی الصحابۃ کلھم عدول و کان للنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم مائۃ ألف و أربعۃ عشر ألف صحابی عند موتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم والقرآن والأخبار مصرّحان بعدالتھم وجلالتھم ولما جری بینھم محامل‘‘
(الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض والضلال والزندقۃ: جلد، 2 صفحہ، 640 مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
ابنِ صلاح اور امام نووی فرماتے ہیں، کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل و متقی تھے، نبی کریمﷺ کے وصال کے وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے، قرآن کریم اور احادیثِ طیبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت و تقویٰ اور جلالتِ شان کی صراحت و وضاحت کر رہے ہیں، اور ان کے باہمی مشاجرات و معاملات کے محمل اور تاویلات موجود ہیں۔
صفحہ 1 از 4