عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم کیا صحابہ رضی اللہ عنہم…

عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم کیا صحابہ رضی اللہ عنہم صرف روایت حدیث میں عادل ہیں؟

  محمد جنادہ نعمانی

صفحہ 2 از 4
اس لیے اہل سنت والجماعت کا بجا طور مؤقف پر یہی ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہ صرف روایتِ حدیث میں عادل و پاکباز ہیں، بلکہ تمام معاملاتِ زندگی اور اعمالِ حیات میں بھی عادل و متقی اور پرہیزگار ہیں تاہم معصوم نہیں ہیں کہ ان سے کوئی خطا اور گناہ سرزد ہی نہ ہو، معصوم عن الخطا صرف انبیاء کرام علیہم السلام کی ذواتِ قدسیہ ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محفوظ عن الخطا ہیں، یعنی یا تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے خطا و معصیت کا صدور ہونے نہیں دیتے، اور اگر کسی ایزدی حکمت و ربانی مصلحت کی بناء پر کسی معصیت و گناہ کا صدور ہو تو خداوندِ قدوس صحابی کی زندگی میں ہی اس کا ازالہ و تدارک کروا دیتے ہیں کہ صحابی جب دنیا سے جاتا ہے تو بموجبِ وعدۂ خداوندی ’’وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ ۞‘‘ (سورۃ النساء: آیت، 95) جنتی بن کر دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس لیے ’’الصّحابۃ کُلُّھم عُدول‘‘ کا یہ مطلب لینا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انبیاء کرام علیہم السلام کی مانند معصوم ہیں، نادرست اور غلط ہے، عصمت خاصہ انبیاء کرام ہے تاہم دوسری طرف یہ کہنا کہ صحابی عام زندگی میں اس مفہوم میں بھی عادل نہیں ہوتا جو اہلِ سنت کے متفق علیہ و مسلّم ہے، تصریحاتِ اہلِ سنت و تشریحاتِ اکابر علماء دیوبند کے مطابق و موافق نہیں ہے، اس کا واضح مطلب تو یہ ہوا کہ صحابی فاسق ہو سکتا ہے کیونکہ عدالت اور فسق میں تباین و تضاد ہے، عادل ہے تو فاسق نہیں، فاسق ہے تو عادل نہیں، اور عادل نہیں تو فاسق ہے۔
مگر بہت سے گمراہ نظریات رکھنے والے لوگوں کا نظریہ اور اعتقاد یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روایتِ حدیث میں تو عادل ہیں، مگر دیگر احوالِ زندگی میں عادل اور متقی نہیں ہیں، درحقیقت اس اعتراض اور نقطئہ نظر کا مبدأ اور منشا سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو غیر عادل اور فاسق و فاجر اور باغی و طاغی تک قرار دینا ہے، اسی ضرورت سے یہ نظریہ ایجاد کرنا پڑا۔
چنانچہ مودودی صاحب اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں لکھتے ہیں:
میں ’’الصَّحَابۃُ کلُّھُم عُدول‘‘ (صحابہ سب راست باز ہیں) کا یہ مطلب نہیں لیتا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بے خطا تھے، اور ان میں ہر ایک ہر قسم کی بشری کمزوریوں سے بالا تر تھا، اور ان میں سے کسی نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے، بلکہ میں اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ رسول اللہﷺ سے روایت کرنے یا آپﷺ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں کسی صحابی نے کبھی راستی سے ہرگز تجاوز نہیں کیا ہے‘‘ 
(خلافت و ملوکیت: صفحہ، 303 طبع: ادراہ ترجمان القرآن، لاہور، 2019ء)
موجودہ دور میں بھی بعض ایسے نظریاتِ فاسدہ و خیالاتِ کاسدہ کے حامل لوگ پیدا ہو چکے ہیں۔
اس نظریہ کا علماء امت نے ابطال اور رَد فرمایا ہے، چنانچہ شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم مودودی صاحب کے اس مؤقف کا ردِ بلیغ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’اگر اس کتاب (خلافت و ملوکیت) کے ان مندرجات کو درست مان لیا جائے جو خاص سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہیں تو اس سے عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا وہ بنیادی عقیدہ مجروح ہوتا ہے جو اہلِ سنت کا اجماعی عقیدہ ہے اور جسے مولانا مودودی صاحب بھی اصولی طور پر درست مانتے ہیں۔ مولانا نے ’’الصحابۃ کلھم عُدول‘‘ (تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل ہیں) کو اصولی طور پر اپنا عقیدہ قرار دے کر یہ لکھا ہے کہ اس عقیدے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہو سکتی بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ روایتِ حدیث میں انہوں نے پوری دیانت اور ذمہ داری سے کام لیا ہے۔ لیکن اس گفتگو میں مولانا نے اس بحث کو صاف نہیں فرمایا، عقلی طور پر عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تین مفہوم ہو سکتے ہیں۔
1: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معصوم اور غلطیوں سے بالکل پاک ہیں ۔
2: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی عملی زندگی میں (معاذ اللہ) فاسق ہو سکتے ہیں لیکن روایتِ حدیث کے معاملے میں بالکل عادل ہیں۔
صفحہ 2 از 4