عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم کیا صحابہ رضی اللہ عنہم…

عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم کیا صحابہ رضی اللہ عنہم صرف روایت حدیث میں عادل ہیں؟

  محمد جنادہ نعمانی

صفحہ 3 از 4
3: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہ تو معصوم تھے اور نہ فاسق۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کسی سے بعض مرتبہ بتقاضائے بشریت ’’دو ایک یا چند‘‘ غلطیاں سرزد ہو گئی ہوں لیکن تنبہ کے بعد انہوں نے توبہ کر لی اور اللہ نے انھیں معاف فرما دیا اس لیے وہ ان غلطیوں کی بناء پر فاسق نہیں ہوئے چنانچہ یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے گناہوں کو اپنی ’’پالیسی‘‘ بنا لیا ہو، جس کی وجہ سے اسے فاسق قرار دیا جا سکے۔ پہلے مفہوم کو تو انہوں نے صراحتاً غلط کہا ہے اور جمہور اہلِ سنت بھی اسے غلط کہتے ہیں، اب آخری دو مفہوم رہ جاتے ہیں، مولانا نے یہ بات صاف نہیں کی کہ ان میں سے کون سا مفہوم وہ درست سمجھتے ہیں، مولانا نے یہ بات صاف نہیں کی کہ ان میں سے کون سا مفہوم درست ہے، اگر ان کی مراد دوسرا مفہوم ہے، یعنی یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین صرف روایتِ حدیث کی حد تک عادل ہیں، ورنہ اپنی عملی زندگی میں وہ معاذ اللہ فاسق و فاجر بھی ہو سکتے ہیں، تو یہ بات ناقابلِ بیان حد تک غلط اور خطرناک ہے، اس لیے کہ اگر کسی صحابی رضی اللہ عنہ کو فاسق و فاجر مان لیا جائے تو آخر روایتِ حدیث کے معاملہ میں اسے فرشتہ تسلیم کرنے کی کیا وجہ ہے؟ جو شخص اپنے ذاتی مفاد کے لیے جھوٹ، فریب، رشوت، خیانت اور غداری کا مرتکب ہو سکتا ہے، وہ اپنے مفاد کے لیے جھوٹی حدیث کیوں نہیں گھڑ سکتا۔ اسی لیے تمام محدثین اس اُصول کو مانتے ہیں کہ جو شخص فاسق و فاجر ہو اس کی روایت صحیح نہیں ہوتی، ورنہ اگر روایات کو مسترد کرنے کے لیے یہ شرط لگا دی جائے کہ راوی کا ہر ہر روایت میں جھوٹ بولنا ثابت ہو تو شاید کوئی بھی روایت موضوع ثابت نہیں ہو سکے گی اور حدیث کے تمام راوی معتبر اور مستند ہو جائیں گے، خواہ وہ عملی زندگی میں کتنے ہی فاسق و فاجر کیوں نہ ہوں اور اگر مولانا مودودی صاحب عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کو تیسرے مفہوم میں درست سمجھتے ہیں جیسا کہ اوپر نقل کی ہوئی ایک عبارت سے معلوم ہوتا ہے، سو یہ مفہوم جمہور اہلِ سنت کے نزدیک درست ہے لیکن حضرت امیرِ معاویہؓ پر انھوں نے جو اعتراضات اپنی کتاب میں کیے ہیں اگر اُن کو درست مان لیا جائے تو عدالت کا یہ مفہوم ان پر صادق نہیں آ سکتا۔
(حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق: صفحہ، 139 تا 142 طبع: معارف القرآن، کراچی، 2016ء)
یہی بحث حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم نے دوسرے باب، صفحہ، 254 پر بھی کی ہے۔
مولانا محمد ثاقب اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’دراصل مولانا مودودی صاحب نے عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا جو مفہوم بیان کیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روایتِ حدیث کی حد تک تو عادل ہو سکتے ہیں لیکن زندگی کے تمام معاملات میں ان سے بعض کام عدالت کے منافی صادر ہو سکتے ہیں۔
(حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی روایات: صفحہ، 163 مکتبہ معارف القرآن، کراچی، 2011ء)
حضرت مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع دیوبندی رحمۃ اللہ اس نظریہ کی تردید کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’اور بعض علماء نے جو عدمِ عصمت اور عمومِ عدالت کے تضاد سے بچنے کے لیے عدالت کے مفہوم میں یہ ترمیم فرمائی کہ یہاں عدالت سے مراد تمام اوصاف و اعمال کی عدالت نہیں بلکہ روایت میں کذب نہ ہونے کی عدالت مراد ہے، یہ لغت و شرع پر ایک زیادتی ہے، جس کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ (مقامِ صحابہ: صفحہ، 60)
اس زمانہ کے مؤرخ مولانا محمد اسماعیل ریحان نے بھی اپنی کتاب ’’تاریخ امتِ مسلمہ‘‘ (جلد، 2 صفحہ، 67) پر مفتی اعظم مولانا محمد شفیع دیوبندی قدس سرہ کے حوالے سے اس نظریہ اور خیال کی تردید فرمائی ہے۔
محقق اہلِ سنت مولانا مہر محمد صاحب رحمۃ اللہ (میانوالی) لکھتے ہیں:
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بلا استثناء، دروغ گوئی خصوصاً کذب فی الروایۃ سے پاک و صاف تھے اور کسی سے بھی کذب کا صدور نہیں ہوا اور بایں معنیٰ عادل ہونا بھی ان کی منقبت کی واضح دلیل ہے، لیکن عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو صرف اس معنیٰ میں منحصر کرنا اور اسے محدثین کی مراد بتانا ناقابلِ تسلیم اور لائقِ مناقشہ ہے، کیونکہ بعض محدثین نے عدالت کی تفسیر میں جھوٹ سے بچنا لکھا ہے تو اس کا یہ معنیٰ ہرگز نہیں کہ ان محدثین کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین روایت میں عمداً کذبِ بیانی کے سوا باقی سب امور اور شعبہ ہائے حیات میں غیر عادل حتیٰ کہ ہر قسم کے کبیرہ گناہوں تک کا ارتکاب کرتے تھے، جیسے صاحبِ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ اور ان کے حواریوں کا خیال ہے بلکہ جھوٹ سے بچنے کی تصریح کا مطلب یہ ہے کہ بایں معنیٰ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عدالت اتنی قطعی اور اٹل ہے جیسے انبیاء کرام علیہم السلام کی گناہوں سے عصمت کہ اس میں استثناء یا شذوذ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ کسی عالم نے آج تک یہ لکھا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جھوٹ بولتے تھے، بخلاف چند اور گناہوں کے کہ چند حضرات کی ان سے عصمت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہر فرد انبیاء علیہم السلام کی طرح قطعی معصوم نہیں کہ صدورِ معصیت محال ہی ہو، ہم نے اپنی کتاب میں یہی موقف اختیار کیا ہے۔ عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف روایت عن الرسول میں منحصر نہیں بلکہ ان کی سیرت کے ہر پہلو میں عام ہے۔ محدثین جو عام رُواۃ کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ عادل ہیں تو یہ اس کی پوری سیرت کی پاکیزگی پر شہادت ہوتی ہے کہ وہ کبائر سے مجتنب اور صغائر پر غیر مصر ہے، پھر اسی بحث میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق کہتے ہیں: 
’’الصّحابہ کُلُّہم عدول‘‘ 
صفحہ 3 از 4