عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم کیا صحابہ رضی اللہ عنہم…

عدالت صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم کیا صحابہ رضی اللہ عنہم صرف روایت حدیث میں عادل ہیں؟

  محمد جنادہ نعمانی

صفحہ 4 از 4
ترجمہ: کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں، تو اب اس عدالت کو تجنب عن الکذب میں مخصوص نہیں کیا جائے گا ورنہ لازم آئے گا کہ غیر صحابی کی عدالت صحابی رضی اللہ عنہ سے افضل ہو، وھو باطل۔ علماء اصولِ حدیث اور محدثین ’’کلھم عدول‘‘ کی دلیل ذکر کرتے ہوئے یہ جملہ فرماتے ہیں: ’’زَکّیاھم و عدّلاھم‘‘کیونکہ خدا اور رسول اکرمﷺ نے ان کا تزکیہ کیا ہے، اور ان کو عادل قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کا یہ تزکیہ اور تعدیل صرف کذب سے اجتناب میں نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دیگر گناہوں کے مرتکب ہوتے رہتے تھے بلکہ یہ مجموعی طور پر ان کے اعمال و اخلاق کی عیوب سے طہارت اور آلودگیوں سے اجتناب پر شہادت ہے، تو معلوم ہوا محدثین کے نزدیک بھی عدالت میں تعمیم ہے۔ بہرحال! تزکیہ، نزاہت، قصدِ معصیت سے تبریہ ان کی شان کی گناہوں سے بلندی جیسے واضح الفاظ ہمارے مؤید ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت عام ہے، اور وہ بالعموم سب گناہوں اور معاصی سے محفوظ ہیں، ایسی صراحتوں کے باوجود کیا اب بھی محدثین پر یہ اتہام لگایا جائے گا کہ ان کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تعمدِ کذب فی الروایۃ تک عادل تھے باقی ہر قسم کے کبائر اور معاصی کرتے تھے، اور ذنوب ان سے معدوم نہیں ہوئے تھے۔
(عدالتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم: صفحہ، 70 تا 75 طبع: ہفتم)
یہ ایک بالکل بدیہی اور سادہ سی سے بات ہے، اگر یہ مؤقف تسلیم کر لیا جائے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عام زندگی میں عادل نہیں، صرف روایتِ حدیث میں عادل ہیں، اور ان کی قبولِ روایت کے لیے عام زندگی میں عدالت ضروری نہیں تو اس سے نہ صرف یہ اصولِ حدیث میں برائے قبولِ روایت عدالت کی شرط ایک مذاق اور مضحکہ خیز قاعدہ بن کر رہ جائے گا بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ دیگر رواۃ تو عام معاملاتِ حیات میں بھی عادل ہوں اور صحابیِ رسولﷺ نعوذ باللہ عادل نہ ہو، جیسا کہ حضرت مولانا مہر محمد صاحب میانوالی رحمۃ اللہ نے بھی ذکر فرمایا ہے۔
بعض حضرات نے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ کی طرف بھی ایسی باتوں کی نسبت کی ہے، جس کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع دیوبندی رحمۃ اللہ نے (مقامِ صحابہ: صفحہ، 60، 61) یہ تصریح فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاً شاہ صاحب کی طرف ان عبارات کی نسبت مشکوک ہے، ثانیاً اگر تسلیم کر لیا جائے کہ یہ حضرت شاہ رحمۃ اللہ کی عبارات ہیں تو خلافِ جمہور ہونے کی وجہ سے متروک و مردود ہیں۔ دوسری طرف حضرت امیرِ معاویہؓ عدالت و تقویٰ پر علماء امت کی تصریحات موجود ہیں، ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ درج ذیل عبارت ملاحظہ فرمائیں۔
شارح صحیح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کی عدالت پر مہر اثبات ثبت کرتے ہوئے میں فرماتے ہیں:
’’وأما معاویۃ رضی اللّٰہ عنہ فھو من العَدُول الفضلاء والصَّحابۃ النُّجباء رضی اللّٰہ عنہ وأما الحروب التی جرت فکانت لکل طائفۃ شبہۃ اعتقدت تصویب أنفسھا بسببھا وکلھم عدول رضی اللّٰہ عنھم ومتأولون فی حروبھم وغیرھا ولم یخرج شیء من ذلک أحدا منھم عن العدالۃ لأنھم مجتھدون اختلفوا فی مسائل من محل الاجتھاد کما یختلف المجتھدون بعدھم فی مسائل من الدماء وغیرھا ولا یلزم من ذلک نقص أحد منھم فکلھم معذورون رضی اللّٰہ عنھم ولہٰذا اتفق أھل الحق ومن یعتد بہ فی الإجماع علی قبول شھاداتھم وروایاتھم و کمال عدالتھم رضی اللّٰہ عنھم اجمعین‘‘۔ 
(شرح النووی علی الصحیح لمسلم، کتاب الفضائل، کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ عنہم: جلد، 15 صفحہ، 149 دار إحیاء التراث العربی، بیروت)
ترجمہ: بہرحال سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ تو وہ عادل، صاحبِ فضیلت اور معزز صحابی ہیں، جہاں تک ان محاربات و مشاجرات کا تعلق ہے جو ان حضرات کے مابین پیش آئے تو وہاں ہر ایک کو کوئی اشتباہ و التباس تھا، جس کی وجہ سے ہر ایک نے خود کو درست سمجھا، جب کہ وہ سب کے سب عادل ہیں اور ان کے مخاصمات و باہمی متنازعات میں ان کے پاس تاویل موجود ہے، ایسی کسی معاملہ نے انھیں عدالت سے نہیں نکالا کیونکہ وہ مجتہد تھے، (جس کا نتیجہ یہ ہے کہ) محلِ اجتہاد میں کچھ مسائل میں ان کا اختلاف ہو گیا، جیسا کہ ان کے بعد بھی مختلف مسائل میں مجتہدین کا اختلاف ہوتا رہتا ہے، اس سے ان میں سے کسی کی شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معذور ہیں اور اسی وجہ اہلِ احق اور ان لوگوں کا کہ اجماع کے باب میں جو لائقِ اعتبار و قابلِ شمار ہے، کا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گواہیوں اور روایات کے قبول ہونے نیز کمالِ عدالت و تقویٰ پر اتفاق اور اجماع ہے۔
لہٰذا حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہ صرف روایتِ حدیث میں بلکہ تمام امورِ حیات و معاملاتِ زندگی، احوال و آثار اور اوصاف و خصال میں عادل اور متقی و پرہیزگار ہیں، یہ نظریہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین صرف روایتِ حدیث میں عادل ہیں، خلافِ اہلِ سنت والجماعت باطل اور غلط ہے، جس کا قلع قمع ضروری ہے۔

صفحہ 4 از 4