سنی شیعہ مکالمہ متفرقات - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ متفرقات

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 1 از 7

(1) کلمہ

ساری دنیا کے مسلمان جو کلمہ پڑھتے ہیں وہ دو اجزا پر مشتمل ہے:

(1) توحید (۲) رسالت

مثلا: لا اله الا اللّٰه محمد رسول اللّٰه.

ترجمہ: اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں حضرت محمدﷺ اللّٰہ کے رسول ہیں ۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر ہمارے پیغمبر محمد رسول اللہﷺ تک ہمیشہ کلمہ دو اجزا پر مشتمل رہا ہے۔

مثلاً لا اله الا اللّٰه آدم صفی اللّٰه

لا اله الا اللّٰه نوح نجى اللّٰه

لا اله الا اللّٰه موسى كليم اللّٰه

لا اله الا اللّٰه عيسى روح اللّٰه

اور لا اله الا اللّٰه محمد رسول اللّٰه

قرآنِ کریم سے اور احادیثِ رسولﷺ سے جس کلمے کا ثبوت ملتا ہے وہ یہی مذکورہ کلمہ ہے لیکن شیعہ حضرات نے جہاں دیگر مقامات پر اِسلام سے ہٹ کر الگ راستہ اختیار کیا ہے وہاں اس کلمۂ اِسلام میں بھی پیوند کاری کر کے اصلی کلمہ پر اپنے عدمِ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ فرق ملاحظہ فرمائیے:

اسلام کا کلمہ: "لا اله الا اللّٰه محمد رسول اللّٰه"

 شیعہ کا کلمہ : "لا اله الا اللّٰه محمد رسول اللّٰه علی ولی اللّٰه وصی رسول اللّٰه وخليفته بلا فصل 

آپ نے دیکھا کہ شیعہ، اسلام کے کلمہ پر بھی راضی نہیں۔ اس سے پہلے آپ شیعہ کتب میں دیکھ چکے ہیں کہ شیعہ کا قرآن پر ایمان نہیں ہے، قرآن کریم پر ایمان تو بعد کی بات ہے اِسلام میں داخلے کے لیے سب سے پہلی چیز "کلمۂ اسلام" ہے جو طبقہ، اِسلام کے کلمہ کو ہی تسلیم نہیں کرتا وہ تیس پاروں کے قرآن کو کیسے تسلیم کرے گا، یہی وجہ ہے کہ شیعہ کلمہ سے لیکر مذہبِ اسلام کے ہر ہر مسئلے میں اختلاف کرتا چلا آرہا ہے، اور اس کے باوجود بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اِسلام سے اپنی محبت کا اظہار کرنے سے بھی نہیں چُوکتا۔

شبیر: میں تو کلمے میں علی ولی اللّٰہ اور دیگر الفاظ کے اضافے کو کوئی زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا۔ بلکہ میرے ذہن میں تو یہ تھا کہ ہمارے کلمے میں جہاں اللّٰہ کی وحدانیت اور سیدناﷺ کی رسالت کا ذکر ہے وہاں سیدنا علیؓ کی ولایت، وصایت اور خلافت کا

ذکر بھی ایک مستحسن چیز ہے؟ اس میں کیا حرج ہے؟

سلیم: بات دراصل یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بتلائے ہوئے کلمے میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ کا کلمہ مکمل نہیں تھا، جس میں حضرت علیؓ کی ولایت وغیرہ کا ذکر ہونے سے رہ گیا تھا اسے شیعہ حضرات نے مکمل کر کے کلمے کے نقص کو دور کر دیا۔ 

پھر اسلام کے کلمے میں جن دو چیزوں کا ذکر ہے، یعنی "توحید اور رسالت" ان دونوں چیزوں پر ایمان لانا فرض اور انکار کفر ہے۔ شیعہ نے ان دو چیزوں کے ساتھ حضرت علیؓ کی ولایت کا ذکر شامل کر کے ولایتِ علیؓ پر ایمان لانے کو بھی فرض اور اس کے انکار کو کفر قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے کہ آپ "اصولِ کافی" کی روایت میں پڑھ چکے ہیں کہ شیعہ کے ہاں جس طرح رسول اللّٰہﷺ کے منکر کو کافر کہا جاتا ہے اِسی طرح ” علی ولی اللّٰہ کا منکر بھی کافر ہے۔ 

الغرض کلمہ میں " علی ولی اللّٰہ وصی رسول اللّٰه و خلیفته بلا فصل" کو شامل کرنے کا مقصد ان تمام لوگوں کو "کافر" قرار دینا ہے۔ جو اس کلمہ کے بقیہ جزو کو نہیں مانتے۔

چنانچہ کلمہ کے معاملے میں شیعوں نے مسلمانانِ عالم سے الگ راستہ اختیار کیا۔ اور نویں، دسویں جماعت کے شیعہ طلباء کے لیے اُنہوں نے بالاِصرار وہی اِضافہ شدہ

کلمہ شائع کروایا۔

 (2) اذان

 کلمہ کی طرح شیعہ حضرات اس اذان پر بھی راضی نہیں ہیں جو حضورﷺ نے اپنے صحابہؓ کو سکھائی تھی ، اور سیدنا بلالؓ ، سیدنا ابنِ ام مکتومؓ اور دیگر صحابہؓ سے دلوائی تھی۔

اِسلام نے جس اذان کا حکم دیا ہے اور جو اذان، اِسلام کا شعار ہے وہ وہی اذان ہے جو اہلِ سنت کی مساجد میں پڑھی جاتی ہے۔ لیکن اہلِ تشیع نے اس اذان کو بھی نامکمل اور نا کافی سمجھتے ہوئے اپنی طرف سے "علی ولی اللّٰہ" کا اضافہ کر دیا۔ حالانکہ شیعہ مجتہد، شیخ صدوق ابو جعفرقُمّی نے اپنی تصنیف " من لا يحضر الفقیه" میں اس اضافہ کو ملعون مفوضہ کی بدعت قرار دیا ہے۔ 

چنانچہ اذان کے کلمات نقل کرنے کے بعد وہ شیعہ کی طرف سے اِضافہ کے بارے میں جو کچھ لکھتے ہیں وہ آپ مذکورہ کتاب میں خود پڑھ سکتے ہیں ۔ عبارت ملاحظہ فرمائیے

 *سنیوں کی اذان ، شیعہ کی کتابوں میں* 

" هذا هوا الاذان الصحيح لا يزاد فيه ولا ينقص منه والمفوضة لعنهم اللّٰه قد وضعوا اخبار وزادوا في الاذان محمدﷺ وال محمدﷺ خير البرية مرتين، وفي بعض رواياتهم بعد اشهدان محمدﷺ رسول اللّٰه اشهدان علياؓ ولی اللّٰه مرتين ومنهم من رو يبدل ذلك اشهد ان علیا امیر المومنينؓ حقا مرتين، ولا شك في ان علياؓ ولی اللّٰه و انه امیر المومنينؓ حقاً وان محمدﷺ واله صلوات اللّٰه عليهم خير البرية ولكن ليس ذلك في اصل الاذان وانما ذكرت ذلك ليعرف بهذه الزيادة المتهمون بالتفويض المدلسون انفسهم في جملتنا

 ترجمہ: "یہی صحیح اذان ہے اس میں اضافہ نہیں کیا جائے گا نہ اس میں کمی کی جائے گی۔ اور فرقہ مفوضہ نے ان پر اللّٰہ کی لعنت ہو، کچھ روایتیں گھڑی ہیں اور اُنہوں نے اذان میں "محمدﷺ وآل محمدﷺ خير البرية “ کے الفاظ دو مرتبہ بڑھائے ہیں۔ اور ان کی بعض روایات میں "اشهد ان محمد رسول اللّٰه" کے بعد "اشهد ان علیاؓ ولی اللّٰه" ( دو مرتبہ ) کے الفاظ ہیں۔ اور بعض نے ان الفاظ کے بجائے "اشهدان امیر المومنین" ( دو مرتبہ ) کے الفاظ روایت کیے ہیں۔ اور کوئی شک نہیں کہ علیؓ، ولی اللّٰہ ہیں، اور یہ کہ وہ واقعی امیر المومنین ہیں اور یہ کہ محمدﷺ وآل محمدﷺ، خیر البریہ ہیں لیکن یہ الفاظ اصل اذان میں نہیں۔ میں نے یہ اس لیے ذکر کیا تا کہ اس زیادتی کے ذریعے وہ لوگ پہچانے جائیں جن پر تفویض کی تہمت ہے اور جو اپنے عقیدے کو چُھپا کر ہماری جماعت کے اندر گُھسنے کی کوشش کرتے ہیں ۔"

صفحہ 1 از 7