سنی شیعہ مکالمہ متفرقات - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ متفرقات

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 2 از 7

ملاحظہ فرمائیے کہ شیخ صُدوق تاکیدِ شدید فرماتے ہیں کہ اذان کے اصل کلمات میں کمی بیشی نہ کی جائے اور یہ کہ "اشهد ان علیاؓ ولی اللّٰه" کے کلمات کا اضافہ بدبخت اور ملعون مفوضہ کی ایجاد کردہ بدعت ہے۔ لیکن آج کل ان ملعونوں کی بدعت پر بھی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ آپ جانتے ہیں کہ اذان میں کچھ اور کلمات کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مثلاً : " اشهد ان امیر المومنين، و امام المتقين، عليا ولى اللّٰه وصی رسول اللّٰه، وخليفته بلا فصل "

ذرا مجھے سمجھائیے کہ شیخ صدوق کے زمانے میں "اشهد ان علیا ولی اللّٰه" کے الفاظ بدعت اور موجبِ لعنت تھے اور آج اِن طویل الفاظ کے بڑھانے سے یہ بدعت اور لعنت کتنے گنا بڑھ گئی ہو گی ؟

 شبیر: یہ تو آپ نے بڑی زبردست دلیل پیش کی ہے، گویا شیعہ کتاب میں سُنیوں کی اذان کا ثبوت مل گیا اور شیعہ کی اذان کو بدعت کہہ دیا گیا ہے۔ پھر مزے کی بات یہ ہے کہ شیعہ اذان کو بدعت لکھنے والے شیخ صدوق صاحب خود بھی شیعہ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ ہوئی ناں بات۔

سلیم: میرے بھائی! یہ کوئی حیرت کی بات نہیں بلکہ شیعہ مُجتہدین کو یہ سب معلوم ہے اور وہ بھی یہ سب کچھ اپنی کتابوں میں پڑھتے ہیں لیکن اپنی عوام کو اندھیرے میں رکھتے ہیں، ورنہ عوام کو اگر پتہ چل جائے کہ شیعہ مصنفین نے اہلِ سنت کی اذان کو صحیح اور شیعہ کی اذان کو غلط اور بدعت قرار دیا ہے تو شیعہ عوام اپنے بڑوں کی گردن ناپے۔ 

شبیر: آخر کب تک عوام کو اندھیرے میں رکھیں گے۔ آخر ایک دن تو حقیقت کھل ہی جائے گی۔ جیسے آج میرے سامنے حقیقت کا اِنکشاف ہوا ہے اور آپ نے شیعہ مذہب کا سارا کچّا چھٹّا کھول کر میرے سامنے رکھ دیا ہے۔ ورنہ آج تک تو میں بھی یہی سمجھتار ہا کہ ہماری اذان بالکل صحیح اور سُنیوں کی اذان غلط ہے۔

 سلیم: آپ نے یہ دیکھ لیا کہ سُنیوں کی اذان کا ثبوت شیعہ کتابوں سے مل رہا ہے لیکن خود شیعہ کی اذان کو شیعہ مصنّفین بدعت لکھ رہے ہیں، پھر بھی شیعہ اپنی اس بدعت پر قائم ہیں۔ آخر کیوں؟

شبیر: میری تو سمجھ میں بات نہیں آتی ۔ پتہ نہیں ، ایک چیز معلوم ہونے کے باوجود بھی وہ ہٹ دھرمی پر کیوں قائم ہیں؟ آپ ہی بتائیں؟

سلیم: میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا ہے کہ شیعہ مذہب قدم قدم پر اِسلام سے ٹکراتا ہے اس لیے شیعہ نے ہر ہر جگہ، اسلامی شعائر سے ہٹ کر اپنا الگ راستہ بنایا ہے، اِسی وجہ سے اُنہوں نے اِسلام کی اذان میں بھی اپنی طرف سے اِضافہ کر کے، اِسلامی اذان پر عدمِ اعتماد کا اظہار کر کے اپنی الگ اذان گھڑ لی۔ تاکہ اذان میں بھی مسلمانوں سے اتحاد نہ ہو سکے۔

شبیر: لیکن آج کل تو شیعہ را ہنما اِتحاد، اِتحاد کے عنوان پر بڑی باتیں کرتے رہتے ہیں اور "اتحاد بین المسلمین" پر بہت زور دیتے ہیں اور خاص طور پر سپاہِ صحابہؓ کے لیے وہ کہتے ہیں کہ اِس تنظیم کے لوگ اِتحاد کے بجائے اِنتشار پیدا کر رہے ہیں، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

سلیم: بھئی دیکھیں ! میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا کہ میرا سپاہِ صحابہؓ سے کوئی تعلق نہیں ، ہاں سپاہِ صحابہؓ کے لوگوں سے کچھ ہمدردی رکھتا ہوں۔ وہ بھی جھنگوی شہیدؒ کی ایک تقریر سننے کے بعد۔ اس لیے میں سپاہِ صحابہؓ کی وکالت تو آپ کے سامنے نہیں کروں گا۔ ہاں آپ نے جو کہا کہ شیعہ راہنما تو ہمیشہ اِتحاد کی بات کرتے ہیں۔ تو جواباً عرض ہے کہ شیعہ کی طرف سے اِتحاد کی بات محض ایک دھوکہ ہے۔ ورنہ آپ خود سوچیں کہ شیعہ کا کلمہ ، شیعہ کی اذان، شیعہ کا قرآن، شیعہ کا نظامِ زکوۃ ، شیعہ کا روزہ، شیعہ کا وضو، شیعہ کی نماز، شیعہ کی حدیث اور دیگر بے شُمار مسائل ہم نے تو اُنہیں الگ بنا کر نہیں دیئے۔ اُنہوں نے خود ہی اپنے لیے ایک علیحدہ راستے کا انتخاب کیا ہے۔ اور وہ اپنے اس راستے پر پوری ڈھٹائی سے قائم بھی ہیں ، اس راستے کو چھوڑنے پر تیار ہی نہیں۔ یہاں تک کہ اسکولوں میں شیعہ سُنی بچے اکٹھے ایک ہی استاذ کے پاس ایک ہی نصاب پڑھا کرتے تھے، شیعہ کو یہ بات بھی پسند نہ آئی اور اُنہوں نے شیعہ سُنی اختلاف کا بیج اسکول کے بچوں کے معصوم ذہنوں میں ڈالنے کے لیے اپنی اسلامیات،حکومت سے پُرزور مطالبہ کر کے الگ کر والی۔ کیا ہم نے اُنہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ اسکول میں بھی شیعہ سُنی اختلافات پیدا کر دیئے جائیں تاکہ اسکولوں میں بھی جھگڑا شروع ہو جائے اور بچپن سے ہی شیعہ سُنی لڑائی کا آغاز کر دیا جائے جو کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہ لے؟ ہر ہر قدم پر، ہر ہر مسئلے میں ، اُنہوں نے ملتِ اسلامیہ سے اتحاد کرنے کے بجائے اپنے لیے الگ راستہ نکالا ۔ تو اِس پس منظر کی بنیاد پر آپ شیعہ راہنماؤں کی طرف سے اِتحاد، اتحاد اور اتحاد بین المسلمین کے کھوکھلے دعوؤں کا خود ہی اندازہ کر لیں کہ وہ اپنے مؤقف میں کہاں تک مخلص ہیں؟

شبیر: آپ نے بجا کہا کہ ہمارے مذہب کی کوئی چیز اثنہیں پسند نہیں ، ہر جگہ اُنہوں نے اختلاف کیا ہے اور پھر کہتے یہ ہیں کہ اتحاد ہونا چاہیے۔ تو اتحاد کا راستہ تو اُنہوں نے خود بند کر دیا ہے۔ پھر اتحاد کہاں سے ہو؟

اچھا تو بات دوسری طرف نکل گئی۔ آپ مجھے اسلام سے شیعہ مذہب کے اختلافات کی مثالیں دے رہے تھے۔ مثلا کلمہ اور اذان میں شیعہ کا راستہ الگ ہے۔مزید کوئی مثال؟

سلیم : ہاں ، ہاں سنئے ! 

 (3) نماز

 آپ نے دیکھا ہوگا کہ ساری دنیا کے مسلمان ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ جو اسلام کا سر چشمہ اور منبع ہیں، وہاں بھی نماز ہاتھ باندھ کر پڑھی جاتی ہے، اللّٰہ کے گھر، خانہ کعبہ میں بھی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی جاتی ہے ، حضور اکرمﷺ کی مسجد نبویﷺ میں بھی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھی جاتی ہے۔ گویا ساری دنیا کے مسلمان، حنفی ،شافعی، مالکی، حنبلی، دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث، مقلّدین، غیر مقلّدین، نماز ہاتھ باندھ کر پڑھتے ہیں لیکن شیعہ کو نماز میں ہاتھ باندھنا پسند نہیں۔ اب آپ یا تو یہ کہیں کہ ساری دنیا کے مسلمان غلط راہ پر چل رہے ہیں اور شیعہ کا طریقہ صحیح ہے یا پھر اکیلے شیعہ کو غلط کہیں اور دنیا کے تمام مسلمانوں کو صیح راہ پر سمجھیں۔

اس لیے کہ آنحضرتﷺ کا اِرشاد ہے :

"لن يجتمع امتى على الضلالة - (حديث)"

صفحہ 2 از 7