سنی شیعہ مکالمہ متفرقات - سنی شیعہ مناظرے | دفاع اسلام

سنی شیعہ مکالمہ متفرقات

  شہید ناموس صحابہؓ مولانا عبدالغفور ندیم شہیدؒ

صفحہ 3 از 7

ترجمہ : "میری امت کبھی گمراہی پر متحد نہیں ہوگی ۔“

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ساری امت متّحد ہو کر کوئی غلط فیصلہ نہیں کر سکتی۔ تو پوری دنیا میں مسلمانوں کا ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنا، اِس عمل کے صحیح ہونے کی دلیل ہے اور صرف شیعہ کا ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنا، ایک الگ راستہ ہے، جو اس کا وطیرہ ہے۔

شبیر: لیکن شیعوں کے ہاں عورتیں تو ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتی ہیں؟ 

سلیم: ہو سکتا ہے کہ اُن کے ہاں عورتوں کے لیے الگ مذہب ہو اور مردوں کے لیے الگ۔ ورنہ پورے عالمِ اسلام میں تمام مرد حضرات اور تمام خواتین ہاتھ باندھ کر ہی نماز پڑھتے ہیں۔ لیکن شیعہ حضرات کا معاملہ الگ ہے۔ اُنہوں نے تو ہر ہر جگہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنائی ہے ناں۔ اس لیے اگر وہ بھی ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے لگ جائیں تو پھر تو ملتِ اسلامیہ کے ساتھ ان کا اتحاد ہونے کا امکان پیدا ہو جائے گا اور یہ انہیں مطلوب نہیں ہے۔

 شبیر: خیر، یہ تو ایک ایسا اختلاف ہے جو ہر انسان پر عیاں ہے، تقریبا ہر مسلمان اس اختلاف سے بخوبی واقف ہے۔ کوئی اور اختلاف؟

 سلیم: بھئی اختلافات تو بہت ہیں ، کونساوہ مسئلہ ہے جس میں شیعہ کو دیگر مسلمانوں سے اختلاف نہیں ہے؟

 (4) روزه

آپ نے اخبارات میں رمضان شریف کے مہینے میں روزوں کے اوقات کا تراشا تو ضرور پڑھا ہوگا ، جس میں مسلمانوں کے لیے روزوں کے اوقات درج ہوتے ہیں تو ساتھ ہی برائے اہلِ تشیع کا عنوان دیکر ان کے لیے الگ اوقات تحریر کیے جاتے ہیں اور وہ اوقات ہمارے اوقات سے مختلف ہوتے ہیں۔

حضورﷺ نے سحری میں تاخیر کرنے اور افطار میں جلدی کرنے کا امت کو حکم دیا ہے۔ لیکن شیعہ اس کے برعکس سحری میں جلدی اور افطار میں تاخیر کرتا ہے، جس کا اندازہ آپ اخبارات میں لکھے ہوئے سحر و افطار کے اوقات سے بخوبی کر سکتے ہیں۔

میں آپ کو کیا کیا بتاؤں؟

 شیعت اور اسلام میں فرق ہے

قدم قدم پر شیعہ مذہب، اسلام اور اہلِ اسلام سے متصادم ہے۔

1...مسلمان عبادت کے لیے مساجد بناتے ہیں، شیعہ کے ہاں امام بارگاہ ہوتی ہے۔ 

2......مسلمان وضو ہاتھوں سے شروع کرتے ہیں اور شیعہ، وضو پاؤں سے شروع کرتے ہیں۔

3.....مسلمان ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں، شیعہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔ 

4......مسلمان زکٰوة ادا کرتے ہیں۔ شیعہ خمس ادا کرتے ہیں۔

5..... ۔مسلمان حج کے موقع پر اللّٰہ کی عبادت اور مناسکِ حج ادا کرتے ہیں، جبکہ شیعہ وہاں سیاسی قوت کا مظاہرہ کرتے اور روضۂ رسولﷺ پر حضرات شیخین ( ابوبکرؓ و عمرؓ) کو گالیاں دیتے ہیں۔

6.... مسلمان صرف اللّٰہ کو مشکل کُشا سمجھتے ہیں جبکہ شیعہ کے ہاں گھوڑا بھی مشکل کُشا بن جاتا ہے۔

7.....مسلمانوں کی نظر میں مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ ہیں۔ لیکن شیعہ کے ہاں کر بلا ہے۔

8.....مسلمانوں کے ہاں نوحہ کرنا حرام ہے۔ شیعہ اسے عبادت سمجھتے ہیں۔ 

9.....مسلمانوں کے نکاح کے موقع پر صرف لڑکی کی طرف سے وکیل مقرر کیا جاتا ہے جبکہ شیعہ کے ہاں لڑکے کی طرف سے بھی وکیل ہوتا ہے۔ ... 10......مسلمان قرآن کریم کو اللّٰہ کی لاریب ولا شک اور ہر قسم کی غلطی سے پاک کتاب مانتے ہیں جبکہ شیعہ قرآن کریم پر اِیمان نہیں رکھتے۔

11.... مسلمان، قرآن کے بعد احادیثِ رسولﷺ کو معیار مانتے ہیں، جبکہ شیعہ نہ قرآن کو مانتا ہے اور نہ ہی حدیث کو ۔ اس لیے کہ حدیث کے سب سے پہلے راوی صحابہ کرامؓ ہیں۔

12.......مسلمانوں کے ہاں صحابہ کرامؓ، معیارِ ایمان و عمل ہیں۔ جبکہ شیعہ صحابہ کرامؓ کو مسلمان ہی تسلیم نہیں کرتے۔

13....... مسلمانوں کے ہاں حضور اکرمﷺ کے سب سے پہلے خلیفہ، سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں جبکہ شیعہ، سیدنا ابو بکرؓ کی خلافت کو غصب شدہ خلافت سمجھتے ہوئے سیدنا ابو بکرؓ صدیق کو غاصب و ظالم قرار دیتے ہیں۔ 

14........مسلمانوں کے عقیدے میں تمام انسانوں سے انبیاء افضل ہیں۔ جبکہ شیعہ عقیدے میں تمام انسانوں سے بارہ امام افضل ہیں۔ یہاں تک کہ نبیوں سے بھی افضل ہیں۔ ( نعوذ باللّٰہ )

15.... مسلمان "زنا" کو گناہ کبیرہ جانتے ہیں ۔ جبکہ شیعہ "زنا" کو "متعہ" کا نام دیکر جائز بلکہ مستحسن عمل قرار دیتے ہیں۔

16........مسلمان جھوٹ بولنے کو حرام اور گناہ سمجھتے ہیں جبکہ شیعہ جھوٹ کو تقیہ کا نام دیکر اسے دین کا اہم جزو سمجھتے ہیں۔ اور اس کے بغیر دین کو نامکمل بتاتے ہیں۔ 

الغرض کلمه، اذان، وضو، نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج ، قرآن، حدیث، صحابہؓ ، اہلِ بیتؓ اور دیگر بیشتر مواقع پر شیعہ مذہب، اسلام سے الگ نظر آتا ہے۔ پھر انہیں کس بنیاد پر مسلمان تسلیم کر کے ان سے اتحاد کیا جائے؟

شبیر: ٹھیک ہے شیعہ کا ہر ہر جگہ، اسلام سے اور دیگر مسلمانوں سے اختلاف ہے لیکن بنیادی طور پر وہ خدا کو تو مانتا ہے۔ قیامت کے دن پر تو یقین رکھتا ہے؟ 

سلیم: آپ کو حیرت ہوگی کہ شیعہ کا خدا کے بارے میں بھی وہ نظر یہ نہیں ہے جو تمام اہلِ اسلام کا ہے۔ مثلاً اللّٰہ تعالی قرآن کریم میں فرماتے ہیں۔

"قل اللّٰهم ملك الملك توتى الملك من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء"

 ترجمہ: "کہہ دیجیے اے اللّٰہ ! جو مالک ہے بادشاہی کا، جس کو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے ۔“

 حضرت عثمانؓ و معاویهؓ بد قماش ( نعوذ باللّٰه )

کسی کو حکومت دینا، یا چھین لینا۔ عزت دینا یا ذلت اللّٰہ ہی کا کام ہے۔ جیسے لوگ اور عوام ہوتے ہیں ویسے ہی اللّٰہ ان پر حاکم بھیج دیتا ہے۔ لیکن شیعوں کا اللّٰہ کے بارے میں نظریہ ایرانی انقلاب کے محرک خُمینی نے یوں پیش کیا ہے۔ 

"ہم اُس خدا کی پرستش نہیں کرتے ، گویا وہ خدا لائقِ عبادت نہیں جس نے عثمانؓ،معاویہؓ اور یزید جیسے بدقماشوں کو خلافت دے دی ۔ ( کشفِ اسرار صفحہ 119) 

 شبیر: اس عبارت میں تو خُمینی صاحب نے سیدنا عثمانؓ ،سیدنا معاویہؓ اور یزید کی خلافت پر طعن و تشنیع کی ہے۔ اللّٰہ کی ذات کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا؟ 

سلیم: آپ مجھے اوپر کی آیت کی روشنی میں بتائیں کہ حکومت دینا یا چھین لینا کس کا فعل ہے؟

شبیر: اللّٰہ تعالیٰ کا۔

سلیم: تو سیدنا عثمانؓ ، سیدنا معاویہؓ اور یزید کو حاکم بنانے والا کون ہے؟

شبیر: اللّٰہ تعالیٰ۔

صفحہ 3 از 7