اسلام میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا مقام متعین ہے، اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے
مولانااخترامام عادل قاسمیاسلام میں صحابہؓ کا مقام متعین ہے، اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے
حرف آغاز
دو مہینے کا یہ مشترکہ شمارہ حضرات صحابۂ کرامؓ سے متعلق مضامین پر مشتمل ہے، جس کا مقصد اس موضوع پر اہلِ السنۃ والجماعۃ کا موقف اختصار و جامعیت کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ اس کی ضرورت یوں پیش آئی کہ ایک معروف ادارے کے ایک قدیم استاذ اور معروف عالم دین نے مشاجرات صحابہؓ پر گفتگو کرتے ہوئے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کیا جو ہمارے تمام اکابر و اسلاف اہلِ السنۃ و الجماعۃ کے موقف سے متصادم ہیں۔ اس سے اہلِ حق کے حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی اور خود اُن کے اپنے ادارے نے بجا طور پر اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ان خیالات سے براءت کا اظہار کیا، اگرچہ عام طور پر ذمہ دار شخصیات اور اداروں نے سکوت اختیار کرنا مفید سمجھا مگر بعض اہلِ علم کی جانب سے تحریری یا زبانی تردید کے جواب میں مولانا موصوف کی جانب سے اپنے خیالات پر اصرار جاری رہا بلکہ مزید شدت کے ساتھ بعض غلط باتیں پیش کی گئیں، ایسی صورت حال میں خطرہ یہ ہے کہ چونکہ یہ خیالات کسی غیر سنی شخص کی جانب سے نہیں بلکہ اہلِ سنت کے ایک ذمہ دار ادارے کے ایک استاذ کی جانب سے سامنے آئے ہیں تو کہیں ہمارے اپنے لوگوں میں جو ناپختہ ذہن ہیں وہ گمراہی کا شکار نہ ہو جائیں اس لیے ضروری ہے کہ اس بارے میں اہلِ حق کا موقف واضح کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے چند اہم مضامین اور یہ سطور پیشِ خدمت ہیں۔
واضح رہے کہ اس چیز کا تعلق کسی خاص ادارے یا شخصیت سے نہیں ہے بلکہ یہ اہلِ سنت کے تمام اداروں اور شخصیات کا متفقہ معاملہ ہے، صحابہ کرامؓ کے بارے میں ایسے خیالات کسی کی جانب سے بھی آئینگے تو ان کی تردید کرنا ہمارا ایمانی فریضہ ہو گا اس لیے اس کو تعصب اور تنگ نظری کی عینک سے دیکھنے کے بجائے حق پسندی کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو صراط مستقیم پر گامزن رکھے، آمین!
حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں چند صفحات میں کوئی مفصل بات کرنا تو ممکن نہیں، پھر اس شمارے میں شامل، اکابر علماء کے مضامین اس مقصد کے لیے کافی ہیں، اس لیے ان سطور میں چند باتیں نہایت اختصار کے ساتھ نمبر وار عرض کی جاتی ہیں۔
- سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ اسلام میں صحابہ کرام کا مقام، قرآن و حدیث کی روشنی میں متعین ہو چکا ہے، اس سے چھیڑ چھاڑ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، قرآن کریم کی بہت ساری آیات مبارکہ میں اللہ رب العزت نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اپنے راضی ہونے کا اعلان فرمایا۔ ان کی خصوصیات و اوصاف کو بیان کیا اور اُن کی مغفرت کا وعدہ کیا، اسی طرح احادیث شریفہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز سے صحابہؓ کی اہمیت، فضیلت اور بلند رتبہ کو واضح فرمایا اور اپنے ارشادات مبارکہ کے ذریعہ صحابہؓ کی شخصیات کے گرد ایک حفاظتی حصار کھینچ دیا۔ قرآن و حدیث کی نصوص سے طے پانے والے اس مقدس مقام کو پامال کرنے کی کوشش انسان کو راہِ ہدایت سے یقینی طور پر بھٹکا دیتی ہے۔
- رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کی فضیلت ہی بیان نہیں فرمائی بلکہ اپنے بعد راہِ ہدایت کی نشان دہی کے لیے اپنی سنت کے ساتھ صحاب کرامؓ کے طریقہ کو معیار بنایا اور ان کے راستے پر چلنے کی امت کو ہدایت فرمائی۔
- قرآن و حدیث کی ان ہی ہدایات کی روشنی میں صحابہؓ کے بعد خیرالقرون کے دونوں طبقات تابعین اور تبع تابعین نے مقام صحابہؓ متعین کیا۔ اس بارے میں سب کی ترجمانی، حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کے اس ارشاد سے ہو جاتی ہے جس میں انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی خاک میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے دوران آنے والے غبار کو، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جیسی مقدس شخصیت سے افضل قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعہ مقام صحابہؓ سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے طبقہ کو لگام دیتے ہوئے یہ واضح کر دیا تھا کہ مقام صحابہؓ پر گفتگو کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔
- مقام صحابہؓ کے بارے میں تابعین و تبع تابعین کے بعد ہر دور کے تمام بڑے علماء، ائمہ، فقہاء و محدثین اور رہنمایانِ امت نے یہی موقف اپنایا کہ حضرات صحابہؓ اس امت کے رہنما ہیں اور ان کے آپسی معاملات یا مشاجرات کو موضوع بحث بنانے کا شوق آدمی کی گمراہی کے لیے کافی ہے۔
- حضرات صحابہؓ کے بارے میں اس مضبوط موقف کی بنیاد دراصل یہ بات ہے کہ امت کو سارا دین صحاب کرامؓ کے ذریعہ ہی ملا ہے، قرآن کریم، احادیث نبویہ اور تمام تعلیمات نبویﷺ کی تفصیلات، امت تک صحابہ کرامؓ ہی کے واسطے سے پہنچی ہیں، ایسے میں اگر حضرات صحابہؓ کی شخصیات مجروح ہونگی تو پورا دین مجروح اور ناقابل اعتماد قرار پائے گا۔
- صحاب کرامؓ کے سلسلے میں زبان کھولنے والوں کو اس حقیقت پر بھی نظر رکھنی چاہیے کہ اُن کی اس فکر کی زد خود خاتم الانبیاء رحمۃ للعالمین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر پڑتی ہے کیونکہ آپﷺ کو اللہ رب العزت نے انسانوں کے تزکیہ و تربیت کی ذمہ داری دی تھی اور اس کو آپ کے فرائض میں بڑی اہمیت کے ساتھ بیان فرمایا تھا اور آپ کی تربیت و تزکیہ سے براہ راست مستفید ہونے والی جماعت صحابہ کرامؓ ہی ہیں جیسا کہ ویزکیکم کا لفظ بھی اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے تو اگر یہ سمجھا جائے کہ بعض صحابہ کرامؓ کی شخصیات میں کوئی کسر رہ گئی تھی یا اُن کی اعلیٰ اخلاقی تربیت پورے طور پر نہیں ہو پائی تھی، تو غور فرمائیں، اس کوتاہی کی نسبت کہاں پہنچ جائے گی؟ اور پھر ہمارے ایمان کا کیا ہو گا؟
- ایک بہت اہم بات جس پر توجہ کی ضرورت ہے یہ ہے کہ حضرات صحابہؓ کی شخصیات اور اُن کے کردار کو موضوع بحث بنانے کا سلسلہ جس طبقہ نے اور جن مقاصد کے لیے شروع کیا تھا اور اُس کا جو پس منظر تھا وہ ایسی چیز ہے کہ اُس کو محسوس کرنے کے بعد کوئی بھی صاحب ایمان اس میدان میں قدم رکھنے سے ہزار بار پناہ مانگے گا۔ بات یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد سب سے پہلے جس طبقہ کو آپ کی تصدیق کرنی چاہیے تھی وہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) تھے کیونکہ وہ آپ کو قرآن کے بیان کے مطابق اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے تھے لیکن اُن کی طبیعت میں آپ سے حسد پیدا ہو گیا اور انھوں نے اور خاص طور پر ان میں سے یہودیوں نے آپ کی مخالفت کو اپنا مشن بنا لیا اور اس کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد انہوں نے اسلام کو مٹانے کے راستے تلاش کرنے شروع کیے، اس مقصد کے لیے انہوں نے دین کو بے اعتبار بنانے کا پلان بنایا اور اس کے لیے جماعت صحابہؓ کو نشانہ بنایا اور اپنے منصوبہ کو کامیاب بنانے کے لیے بڑی چالاکی کے ساتھ محبت اہلِ بیتؓ کا سہار لیا اس طرح سے شیعہ مذہب وجود میں آیا۔ بعد کی تمام تفصیلات اسی کا شاخسانہ ہیں، مشاجرات صحابہؓ کو بھڑکانے، جلتی پر تیل ڈالنے اور فریقین کو دھوکا دینے کا کام اسی طبقہ نے کیا، چند جملوں میں یہ خلاصہ ہے اس مذہب کی بنیاد اور مشن کا۔ آج کوئی عام شیعہ چاہے ان مذموم مقاصد کو جانتا بھی نہ ہو لیکن اس کے مذہب کی بنیاد یہی ہے۔ اب اگر کوئی شخص حضرات صحابہؓ کی شخصیات کو موضوع بحث بناتا ہے تو وہ غور کر لے کہ اس کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔
- مولانا موصوف نے صحابی کی تعریف سمیت جتنے مسائل چھیڑے ہیں، وہ سب پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔ علماء امت نے اُن پر مفصل بحث کر کے حق کو واضح کر دیا ہے۔ ان مسائل میں اہلِ باطل کے افکار کو اپنا کر اہلِ حق کے سامنے سوال کھڑے کرنا، کسی باخبر سنی عالم کو زیب نہیں دیتا۔ خاص طور پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان کا لہجہ نہایت غلط ہے اور اس سے بھی خطرناک بات انھوں نے یہ کی کہ لشکر اسامہؓ کے حوالے سے گفتگو کر کے خود خلافت صدیقی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جو خالص شیعیت کی ترجمانی ہے، کاش انھوں نے اس موضوع پر زیادہ نہیں صرف حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی تحریرات خاص طور پر ازالۃ الخفاء کو سامنے رکھا ہوتا تو یہ سنگین غلطی اُن سے سرزد نہ ہوتی۔
- جہاں تک رجوع کی بات ہے یا اتحاد امت کی دُہائی ہے تو اس بارے میں عرض ہے کہ اس سے اس نقصان کا ازالہ نہیں ہو سکتا جو اصل بیانات سے ہو رہا ہے، خاص طور پر جب کہ رجوع اور وضاحت میں اپنے اُن افکار کی صحت پر اصرار شامل ہو۔ اتحاد امت کی فکر ہے تو ایسے نازک مسائل پر اہلِ حق کے موقف سے بالکل متضاد و متصادم خیالات ظاہر کرنے کا کیا مطلب ہے؟
- آخر میں تمام اہلِ علم سے نہایت ادب اور دل سوزی کے ساتھ عرض ہے کہ خدارا موجودہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں اور اسلاف امت کی راہ پر مضبوطی کے ساتھ گامزن رہ کر امت کو بھی اسی راستہ پر چلانے کے لیے سرگرم عمل ہو جائیں۔ نئے نئے افکار وخیالات سے اجتناب کریں، احقاقِ حق اور ابطال باطل کو اپنا فریضہ جانتے ہوئے، مشترکہ ملی معاملات میں اتحاد کی صلاحیت کا بھی ثبوت دیں۔