صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا موقف - دفاعِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا موقف

  حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی زیدمجدہٗ مہتمم دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 4
یوں تو علوم و فنون، تہذیب و تمدن، صنعت و حرفت اور وہ تمام چیزیں جن کی انسانی زندگی میں ضرورت پیش آتی ہے ان کی تحصیل و تکمیل فرائض میں داخل ہے لیکن ان تمام فرائض میں نفوسِ انسانی کی تہذیب و تکمیل سب سے اہم اور ضروری فرض ہے، اسی لیے دنیا میں انسان اوّل حضرت آدم علیہ السلام ہی اس ذمہ داری سے گراں بار ہو کر تشریف لائے، پھر یہ سلسلہ ترقی کرتا ہوا خلاصۂ کائنات نبی آخر الزماںﷺ کی ذات اقدس تک پہنچ کر ابد الآباد تک کے لیے مکمل ہو گیا۔  
اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ لَـكُمۡ دِيۡنَكُمۡ ۞(سورۃ المائدة: آیت 3)
اب اگر یہ پوچھاجائے کہ اس تہذیب و تمدن اور اخلاقِ فاضلہ کے آخری علم بردار نے نفوسِ انسانی کی تہذیب میں کون سا کمال کر دکھایا؟ تو جواباً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ان مقدس شخصیات کو پیش کر دیا جائے گا جو آپﷺ کے اخلاق و اعمال کے مظہرِ اتم، آپﷺ کی تعلیم و تربیت کی واضح مثال، آپﷺ کے ارشاد و ہدایت کے مخاطب اوّل اور آپﷺ کے فیض صحبت سے شب و روز بہرہ اندوز تھے، یہ مقدس جماعت، رسولِ خداﷺ اور خلقِ خدا کے درمیان خدا تعالیٰ کا ہی عطا کیا ہوا وہ واسطہ ہے جس کے بغیر نہ اللہ کا نازل کردہ قرآن ہاتھ آ سکتا ہے، نہ رسول اللہﷺ کا بیان کردہ بیان قرآن لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيۡهِمۡ ۞(سورۃ النحل: آیت 44)
یہ مقدس جماعت دینِ مستقیم کی امین و محافظ، سنتِ نبویﷺ کی پاسبان اور اسوۀ رسالت کا مجسم نمونہ تھی اور اس کی سیرت، سیرت النبیﷺ کا پر تو ہے، اس قدسی صفاتِ جماعت نے تعلیماتِ نبویﷺ کو اپنے زن و فرزند اور اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھتے ہوئے اپنا سب کچھ قربان کر کے دنیا کے گوشے گوشے میں من و عن و بلا کم و کاست پہنچایا ہے، اس مقدس جماعت کی تنقیص و تنقید نہ صرف یہ کہ ان کی شان میں گستاخی ہے بلکہ اصولِ دین سے اعتماد ختم کرنے اور قرآن و سنت کو نعوذ باللہ ناقابلِ اعتبار قرار دینے کے مترادف ہے، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ذات پر اعتماد نہیں ہو گا تو پھر ان کے واسطے سے پہنچنے والا قرآن کریم اور ان سے مروی احادیثِ رسولﷺ کا ذخیرہ کیوں کر معتبر ٹھہرے گا؟ اَللّٰھُمَّ احْفَظْنَا منہ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور علماء دیوبند
جماعتِ علماء دیوبند نہ کوئی نیا فرقہ ہے اور نہ ہی وقت و حالات کی پیدا کردہ نئے عقائد و خیالات کی حامل کوئی جماعت، بلکہ یہ اہلِ سنت والجماعت ہی ہیں جن کا مرکزِ تعلیم دیوبند ہے، بہ قول حضرت حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب قدس سرہٗ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند ان کا واحد نصب العین کتاب و سنت کی روشنی میں امت کو اسی مزاج پر برقرار رکھنا ہے جو مزاج نبی اکرمﷺ نے اپنے فیضانِ صحبت و ارشاد سے حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تابعین میں اور انھوں نے اپنے ما بعد کے طبقات میں سلسلہ بہ سلسلہ، زمان بہ زمان، مکان بہ مکان پیدا فرمایا تھا۔
اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شخصیات کے بارے میں علماء دیوبند کا مؤقف ہی کیا، ان کے کسی بھی عقیدے اور نظریے کو جاننے کے لیے اہلِ سنت والجماعت کی کوئی بھی مستند و معتبر اور جامع کتاب دیکھ لی جائے اس میں اہلِ سنت والجماعت کے عقائد، حنفی فقہ و اصولِ فقہ، احسان و تصوف اور تزکیۂ اخلاق کے حوالے سے جو کچھ درج ہو گا، وہی علماء دیوبند کے عقائد و مسائل ہوں گے اور احسان و تصوف ہو گا، انبیاء کرام علیہم السلام، حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ اور امت کے جن جن اولیاء عظامؒ کی علمی قدر و منزلت پر جمہورِ امت کا اتفاق ہے وہی شخصیات علماء دیوبند کے لیے مثال اور نمونہ ہیں۔
اس لیے ان سطور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے جو کچھ عرض کیا جا رہا ہے اس کی حیثیت قندِ مکرر کی ہے اور یہ مشک ہے جو مکرر رگڑا جا رہا ہے، تاکہ امت اس خوشبو سے معطر ہو اور نجومِ ہدایت پر اہلِ زیغ و ضلالت کے اٹھائے ہوئے غبار کو چھانٹا جا رہا ہے تاکہ گم گشتہ گان راہ اپنی منزل مقصود کا پتہ لگا سکیں، أصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِأیِّھمْ اقْتَدَیْتُمُ اھتَدَیْتُمْ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تاریخی روایات اور علماء دیوبند:
احوالِ زمانہ سے عبرت حاصل کرنا، انقلاباتِ جہاں سے دنیا کی بے ثباتی کا سبق لے کر فکرِ آخرت کو مقدم رکھنا، اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات کا استحضار، انبیاء کرام علیہم السلام و صلحاء امت کے احوال سے قلوب کو منور کرنا اور کفار و فجار کے انجامِ بد سے نصیحت حاصل کرنا وغیرہ فنِ تاریخ کے فوائد ہیں جو واقعات نگاری اور احوال ماضیہ کو بیان کرنے کا نام ہے، اس لیے اسلام میں اس کی بڑی اہمیت ہے، اس کی اہمیت کے لیے تو یہی کافی ہے کہ قصص و تاریخ، قرآنِ کریم کے پانچ علوم میں سے ایک ہے اور اس کا وہ حصہ جس پر حدیثِ نبویﷺ کے صحت و سقم کو پہچاننے کا مدار ہے، اس اہمیت کے باوجود تاریخ کا یہ مقام نہیں ہے کہ اس سے عقائد کے باب میں استدلال کیا جائے، یا حلال و حرام کی تعیین میں حجت قرار دیا جائے، یا قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت شدہ مسائل میں تاریخی روایات کی بناء پر شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تاریخی روایات کے باب میں علماء دیوبند کا مؤقف جمہور امت کے مطابق یہ ہے کہ:
1: چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عام افرادِ امت کی طرح نہیں ہیں، بلکہ یہ حضرات، رسولِ خداﷺ اور خلقِ خدا کے درمیان خدا تعالیٰ کا ہی عطاء کیا ہوا ایک واسطہ ہیں، یہ از روئے قرآن و حدیث ایک خاص مقام رکھتے ہیں، اس لیے ان کے مقام کی تعیین تاریخ سے نہیں، قرآن و سنت سے کی جائے گی۔
2: چونکہ قرآن کریم کی دسیوں آیات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات مصرح مذکور ہیں، اس لیے تاریخی روایات ان کے معارض قطعاً نہیں ہو سکتیں۔
3: یہ ان احادیثِ صحیحہ ثابتہ کے بھی معارض نہیں ہو سکتیں جن کے جمع و تدوین میں وہ احتیاط برتی گئی ہے جو احتیاط تاریخ میں نہیں کی گئی، اصولِ حدیث کے معروف امام ابنِ صلاح لکھتے ہیں:
وَغَالِبٌ علی الاخبارِیِّیْنَ الْاکْثَارُ وَالتَخْلِیْطُ فِی مَا یَرْوُوْنَہٗ 
صفحہ 1 از 4