صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا موقف - دفاعِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا موقف

  حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی زیدمجدہٗ مہتمم دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 4
(علوم الحدیث: ص، 263)
ترجمہ: مؤرخین میں یہ بات غالب ہے کہ روایاتِ کثیرہ جمع کرتے ہیں جن میں صحیح و سقیم ہر طرح کی روایات خلط ملط ہوتی ہیں۔
4: پھر یہ مسئلہ عقائدِ اسلامیہ سے متعلق ہے اور جمہور امت نے کتبِ عقائد میں اپنے اپنے ذوق کے مطابق مفصل یا مجمل اس کا ذکر کیا ہے، اس لیے اس کا مدار قرآن و سنت پر ہی رکھا جا سکتا ہے نہ کہ تاریخ کی خلط ملط روایات پر۔
عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند
عدالت اور عدل کے معنیٰ کی فقہاء و محدثین نے مختلف تعبیریں کی ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ عادل وہ شخص ہے جو مسلمان عاقل بالغ ہو، کبائر سے مجتنب ہو، صغائر پر اصرار نہ کرتا ہو، نیز صغائر کا عادی بھی نہ ہو، حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ شرح النخبہ میں فرماتے ہیں:
وَالمرادُ بِالْعَدْلِ مَنْ لَہٗ مَلَکَۃٌ تُحَمِّلُہٗ علی ملازمۃِ التقوی والمروۃِ والمرادُ بالتقوی اجتنابُ الاعمالِ السیئۃِ من شرکٍ، او فسقٍ، او بدعۃٍ
(شرح النخبہ: صفحہ، 24، 25 طبع دیوبند)
عدل سے مراد وہ شخص ہے جسے ایسا ملکہ حاصل ہو جو اسے تقویٰ اور مروت کی پابندی پر برانگیختہ کرے اور تقویٰ سے مراد شرک، فسق اور بدعت جیسے اعمالِ بد سے اجتناب ہے۔
عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے جمہور اہلِ سنت والجماعت کے شانہ بہ شانہ علماء دیوبند کا مؤقف یہی ہے کہ:
اَلصَّحَابَۃُ کُلُّھمْ عَدُوْلٌ مَنْ لَابَسَ الْفِتَنَ وَغَیْرُھم
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں جو اختلافات کے فتنے میں مبتلا ہوئے وہ بھی اور دوسرے بھی۔
علماء دیوبند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و جلالت میں کسی تفریق کے بھی قائل نہیں کہ کسی کو لائقِ محبت سمجھیں اور کسی کو معاذ اللہ لائقِ عداوت، کسی کی مدح میں رطبُ اللسان رہیں اور کسی کے حق میں تبرائی بن جائیں، ان کے نزدیک تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شرفِ صحبت میں یکساں ہیں، البتہ باہم فرقِ مراتب ہے اور یہی جمہور کا قول معتبر ہے۔
والقولُ بِالتَّعْمِیْمِ ھو الذی صَرَّحَ بہ الجُمْھورُ وھو المعتبر 
(تدریب الراوی: صفحہ، 400)
پھر علماء دیوبند ان میں سے کسی کی شان میں گستاخی تو بہت دور کی بات رہی کسی ادنیٰ سی ایسی بات کو بھی روا نہیں رکھتے جو ان کے منصب و عظمت کے شایانِ شان نہ ہو، اس لیے اگر کوئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سلسلے میں یوں ہرزہ سرائی کرتا ہے کہ
کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فاسق ہیں جیسا کہ سیدنا ولید (بن عقبہؓ) اور اسی کے مثل کہا جائے گا۔ سیدنا امیرِ معاویہ، سیدنا عمرو، سیدنا مغیرہ اور سیدنا شعبہ رضی اللہ عنہم کے حق میں (کہ معاذ اللہ وہ بھی فاسق ہیں۔) (نزل الابرار: جلد، 3 صفحہ، 94) یا کوئی اپنے قلب کا ضلال یوں ظاہر کرتا ہے:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت علیؓ سے لڑ کر مرتد ہوئی اگر بے توبہ مری تو کافر مری (العیاذ باللہ) اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پانچ پانچ حدیثیں یاد تھیں ہم کو سب کی حدیثیں یاد ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہمارا علم بڑا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو علم کم تھا۔
(کشف الحجاب: صفحہ، 21)
یا کوئی یوں زبان تنقیص دراز کرتا ہے:
ان میں ایسے لوگ بھی ہو سکتے تھے اور فی الواقع تھے جن کے اندر تزکیۂ نفس کی اس بہترین تربیت کے باوجود کسی نہ کسی پہلو میں کوئی کمزوری باقی رہ گئی تھی، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ادب کا کوئی لازمی تقاضہ بھی نہیں ہے کہ اس کا انکار کیا جائے۔
(خلافت و ملوکیت: صفحہ، 283)
یا کسی کی ہفوات کا ظہور یوں ہوتا ہے:
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید، سب ایک ہی درجے کے ظالم و مجرم تھے، بقیہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا تو شیخین رضی اللہ عنہما کے گروپ کے تھے اور اقتدار تک پہنچنے کے ان کے مقصد کی تکمیل میں شریک بن گئے تھے، یا وہ شیخینؓ اور ان کے حامیوں سے خائف تھے، شیخینؓ کے خلاف کوئی بات زبان پر لانے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔
(مزید دیکھیے، خمینی، کشف الاسرار: صفحہ، 112، 120)
تو اس قسم کی تمام تر ہرزہ سرائیوں سے علماء دیوبند بلکہ تمام اہلِ سنت والجماعت نہ صرف یہ کہ اظہارِ برأت اور ان کی مذمت کرتے بلکہ اس طرح کے خیالات رکھنے والوں کے اسلام کو مشکوک مانتے اور اس ہرزہ سرائی کو زندقہ گردانتے ہیں اور فرمانِ رسول اللہﷺ:
إذَا رَأَیْتُمُ الذینَ یَسُبُّوْنَ أَصْحَابِیْ فَقُوْلُوْا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی شَرِّکُمْ 
(جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 491)
ترجمہ: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہتے ہیں تو تم کہہ دو کہ خدا کی لعنت ہو اس پر جو تم میں بدتر ہے۔
کی روشنی میں ایسے لوگوں کو مستحقِ لعنت شمار کرتے ہیں، امام مسلمؒ کے استاذ امام ابوزرعہ عراقیؒ فرماتے ہیں:
جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ زندیق ہے، اس لیے کہ ہمارے نزدیک رسول اللہﷺ حق ہیں، قرآن حق ہے، قرآن و سنت ہم تک پہنچانے والے یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں، یہ تنقیص کرنے والے، ہمارے گواہوں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں، تاکہ کتاب و سنت کو باطل کریں، لہٰذا خود ان کو مجروح کرنا زیادہ مناسب ہے، یہ زندیق ہیں۔ 
(الکفایہ، خطیب بغدادی: صفحہ، 49 حیدرآباد، دکن)
الغرض علماء دیوبند اور تمام اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک عدالتِ صحابہ کے مسئلہ پر امت کا اجماع ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی قطعاً کوئی راہ نہیں، پھر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ لفظ سب عربی زبان کے اعتبار سے صرف فحش کلامی اور گالی گلوچ کو ہی نہیں کہتے، بلکہ ہر ایسا کلام جس سے کسی کی تنقیص و توہین یا دل آزاری ہوتی ہے وہ لفظ سبّ میں داخل ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معصوم نہیں!
صفحہ 2 از 4