صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا موقف - دفاعِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا موقف

  حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی زیدمجدہٗ مہتمم دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 4
عدالتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مسئلے میں مذکورہ بالا وسعت اور عموم کے باوجود ہم ان کو معصوم نہیں کہتے، البتہ انھیں محفوظ من اللہ مانتے ہیں جو ولایت کا انتہائی مقام ہے جس میں بشاشتِ ایمان، جوہرِ نفس بن جاتی ہے اور تقویٰ باطن ہمہ وقت مذکر رہتا ہے، اس میں امکانِ معصیت رہتا ہے اور معصیت کا صدور ہوا بھی ہے، لیکن اس میں تقاضائے بشری اور بیرونی عوارض کار فرما رہے، دواعی قلب کا دخل نہ رہا تھا اوراس صدورِ معصیت سے ان کی باطنی بزرگی اور باطنی تقویٰ کو جس کی اللہ تعالیٰ نے شہادت دی ہے متہم نہیں کیا جا سکتا۔
وَاَلۡزَمَهُمۡ كَلِمَةَ التَّقۡوٰى وَ كَانُوۡۤا اَحَقَّ بِهَا وَاَهۡلَهَا‌ ۞
(سورۃ الفتح: آیت 26)
ایک شبہ کا ازالہ:
البتہ یہاں ایک خلجان دل میں پیدا ہو سکتا ہے، وہ یہ کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چھوٹے بڑے سب کے سب صرف روایتِ حدیث میں نہیں، بلکہ زندگی کے تمام معاملات میں عادل ہیں اور عدالت کے مفہوم میں کبائر شرک و فسق اور بدعت وغیرہ سے اجتناب شامل ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معصوم بھی نہیں، ان سے صدورِ معصیت ہوا ہے جس پر آپﷺ نے حدود بھی جاری فرمائی ہیں، تو پھر ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر عدالت کا مفہوم کیوں کر صادق آ سکتا ہے؟
اس سلسلے میں علماء دیوبند اور اہلِ سنت والجماعت کا واضح جواب یہ ہے کہ یہ صحیح ہے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے معصیت کا صدور ہوا، لیکن معصیت، عدالت کے لیے نقصان دہ اس وقت ہے، جب کہ اس سے توبہ نہ کی گئی ہو یا اللہ تعالیٰ نے از خود معاف نہ کر دیا ہو اور امت کے عام افراد کے حق میں یہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ ان کے گناہ کی معافی ہوئی یا نہیں، اس لیے جب تک وہ توبہ نہ کر لیں اور توبہ پر ثابت قدمی ظاہر نہ ہو جائے ان کو ساقط العدالت ہی مانا جائے گا، مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معاملہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ:
1: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قلوب میں جو خوف و خشیت اور معاصی سے تنفر راسخ ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم یہ گمان رکھیں کہ انھوں نے ضرور توبہ کر لی ہو گی اور بعض کا توبہ کرنا قطعی دلائل سے معلوم بھی ہے ان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف زبانی توبہ پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ کوئی اپنے آپ کو رجم جیسی سخت ترین سزا کے لیے پیش کر دیتا ہے، کوئی اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیتا ہے اور جب تک قبولِ توبہ کا اطمینان نہیں ہو جاتا اس کو صبر نہیں آتا۔
2: ہمارا خیال ہے کہ ان کے حسنات، دینِ متین کے تئیں ان کی قربانیاں اور ان کی رسول اللہﷺ سے محبت و نصرت اتنی عظیم اور بھاری ہے کہ عمر بھر کا ایک آدھ گناہ وعدۀ الہٰی کے مطابق معاف ہو ہی گیا ہو گا۔ 
اِنَّ الۡحَسَنٰتِ يُذۡهِبۡنَ السَّيِّاٰتِ ۞(سورۃ هود: آیت 114)
3: یہ ہمارا محض خیال نہیں ہے یہ قرآن کریم کی ایک سے زائد آیات سے مؤید اور تصدیق شدہ ہے، کہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کسی خاص جماعت کے لیے خاص اور کہیں سابقین و آخرین تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے عام اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے، بیعتِ حدیبیہ میں شریک تقریباً ڈیڑھ ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں قرآنِ کریم کا یہ واضح اعلان ہے:
لَـقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ ۞
(سورۃ الفتح: آیت 18)
ترجمہ: یقیناً اللہ ان مومنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔
سابقین و آخرین تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں اعلان کیا گیا:
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ ۞
(سورۃ التوبة: آیت 100)
ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں۔
سورۃ الحدید میں ارشادِ باری ہے:
وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ ۞(سورۃ الحديد: آیت 10)
ترجمہ: یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے۔ 
پھر سورة انبیاء میں حسنیٰ کے متعلق یہ ارشاد ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ ۞
(سورۃ الأنبياء: آیت 101)
ترجمہ: (البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جا چکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا۔
جب ان آیاتِ قرآنیہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لغزشوں کی معافی واضح طور پر معلوم ہو گئی تو ان کو کسی وقت بھی کسی معاملے میں ساقط العدالت یا فاسق نہیں کہا جا سکتا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے غیر معصوم ہونے اور ان کے عادل ہونے میں جو ایک ظاہری شبہ ہوا کرتا ہے اس کا جواب جمہور امت کے نزدیک یہی ہے جو بالکل واضح اور صاف ہے۔
مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین جو اخلافات رونما ہوئے اور خون ریز جنگوں تک کی نوبت آ گئی ان اختلافات کو علماء امت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے مشاجرات کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں، جنگ و جدال کی تعبیر سے گریز کرتے ہیں کہ اس میں یک گونہ ان کے تئیں سوء ادب ہے، ’’مشاجرہ‘‘ کے معنی از روئے لغت ایک درخت کی شاخوں کا دوسرے میں داخل ہونا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ درختوں کے لیے باعثِ زینت ہے نہ کہ عیب، اس طرح علماء امت اس اختلاف کی تعبیر سے ہی یہ اشارہ دینا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے وہ اختلافات جو اپنی انتہاء کو پہنچ گئے تھے اور جس میں وہ باہم برسرِ پیکار بھی ہو گئے، وہ اختلافات بھی کوئی نقص و عیب نہیں، بلکہ زینت و کمال ہیں۔
صفحہ 3 از 4