صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا موقف - دفاعِ…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور علماء دیوبند کا موقف

  حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی زیدمجدہٗ مہتمم دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 4
مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں باعثِ تشویش یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق، جب تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم واجب الاحترام اور لائقِ تعظیم ہیں اور کسی ایک کے حق میں بھی ادنیٰ سے ادنیٰ سوء ادب کی گنجائش نہیں تو پھر اختلاف کے موقع پر یہ احترام کیسے قائم رہ سکتا ہے، کیونکہ ان اختلافات میں ایک فریق کا حق پر اور دوسرے فریق کا خطاء پر ہونا بدیہی ہے، بلکہ ایمان و عقیدے کے لیے اہلِ حق اور اربابِ خطاء کی تعیین ضروری بھی ہے تو جو خطاء پر ہیں ان کی تنقیص ایک لازمی امر ہے۔
مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس شبہ کے سلسلے میں علماء امت اور علماء دیوبند کا دوٹوک مؤقف یہ ہے کہ باجماعِ امت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم واجب التعظیم ہیں، اسی طرح اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جنگِ جمل و جنگِ صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حق پر تھے اور ان سے مقابلہ کرنے والے حضرت امیرِ معاویہؓ وغیرہ خطاء پر، لیکن ان کی خطاء اجتہادی تھی جو شرعاً گناہ نہیں کہ جس پر وہ اللہ تعالیٰ کے عتاب کے مستحق قرار پائیں، بلکہ معاملہ یہ ہے کہ جب انھوں نے اصولِ اجتہاد کی رعایت کرتے ہوئے اپنی وسعت بھر تمام تر کوشش کی پھر بھی خطاء ہو گئی تو وہ ایک اجر کے حق دار ہوں گے، اس طرح خطاء و صواب بھی واضح ہو گیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام و مرتبے پر کوئی آنچ بھی نہیں آئی، ہمارے خیال میں مشاجراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے ’’امام قرطبی‘‘ نے اپنی تفسیر میں سورۃ الحجرات کی آیت وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا ۞  (سورۃ الحجرات: آیت 9) کے ذیل میں اہلِ سنت والجماعت کے مسلک کی بہترین تحقیق فرمائی ہے، اس کا مطالعہ کر لینا ہی چاہیے، یہ سطور اس تفصیل کی متحمل نہیں۔
تاہم مفسر موصوفؒ کے ایک استدلال کا خلاصہ نقل کر دینا مناسب ہو گا جو ان شاء اللہ بیمار دلوں کے لیے سامانِ شفاء ہو گا۔
مفسر موصوفؒ نے اس نظریے کو مدلل کرتے ہوئے کہ دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی گناہ اور فسق و فجور کا مرتکب نہیں تھا، حضرت طلحہؓ حضرت زبیرؓ اور حضرت عمارؓ سے متعلق ارشاداتِ نبوی بیان فرمائے ہیں، جس کا حاصل یہ ہے:
نبی اکرمﷺ نے سیدنا طلحہؓ کے بارے میں فرمایا ہے: ’’حضرت طلحہؓ روئے زمین پر چلنے والے شہید ہیں‘‘ اور حضرت زبیرؓ کے بارے میں خود حضرت علیؓ سے یہ حدیث مروی ہے: 
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل جہنم میں ہے۔ 
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سیدہ صفیہؓ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو 
اور یہ دونوں حضرات ان عشرۀ مبشرہ میں ہیں جن کے نام لے کر جنتی ہونے کی خبر حضور اقدسﷺ نے دی ہے، پھر یہ بھی معلوم ہے کہ ان دونوں حضرات نے حضرت عثمان غنیؓ کے قصاص کا مطالبہ کیا تھا، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کیا اور اسی دوران شہید ہوئے۔
دوسری طرف حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں، حضرت علی المرتضیٰؓ کے طرف دار ہیں، آپؓ کے مخالفین سے پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے اور نبی اکرمﷺ نے ان کی شہادت کی بھی پیشین گوئی فرمائی ہے۔
جب حال یہ ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے طرف دار بھی شہید اور مخالفین بھی شہید، تو پھر کیسے کسی فریق کو گناہ گار یا فاسق کہا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ ان تمام حضرات کے پیشِ نظر رضاء الہٰی کے حصول کے سوا کچھ نہ تھا، دونوں کا اختلاف کسی دنیوی غرض سے نہ تھا، بلکہ اجتہاد و رائے کی بناء پر تھا جس پر کسی بھی فریق کو مجروح و مطعون نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کنارہ کش رہے وہ بھی اجتہاد کی بناء پر، اس لیے وہ بھی نقص و عیب سے مبرا اور واجبُ التعظیم ہیں۔
پھر علماء دیوبند کے نزدیک سب سے اہم سکوت اور کفِّ لسان ہے اور حضرت حسن بصریؒ کا یہ قول ان کے لیے اسوہ ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:
یہ ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ہم غائب، وہ پورے حالات کو جانتے تھے، ہم نہیں جانتے، جس معاملے پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اتفاق ہے، ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اورجس معاملے میں ان کے درمیان اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔ 
(قرطبی سورة حجرات)
خلاصہ کلام:
الغرض! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کتاب و سنت کی روشنی میں اس امت کے افضل ترین اور مقدس ترین افراد ہیں، ان کے قلوب صاف اور وہ عند اللہ راضی و مرضی ہیں، وہ سب کے سب عادل، متقن اور پاک باطن ہیں، امت کا کوئی بڑے سے بڑا ولی ان میں سے ادنیٰ کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا، وہ حق و باطل کی کسوٹی ہیں اور تنقید سے بالاتر، ان کی محبت، اللہ اور رسول اللہﷺ کی محبت ہے اور ان سے بغض اللہ اور اللہ کے رسولﷺ سے بغض، ان کی عیب جوئی اور ان کے مشاجرات کو اُچھالنا زیغِ باطن کی علامت اور زندقہ ہے، ان کے اختلافات حق و باطل کے نہیں، اجتہادی خطاء و صواب کے ہیں، اس لیے ان پر معصیت کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
ان سطور کو سرخیلِ جماعت دیوبند شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن قدس سرہ کے تلمیذِ رشید، استاذِ محترم حضرت مولانا فخرالدین علیہ الرحمہ سابق شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند کے ایک قول پر ختم کیا جاتا ہے، حضرت فرمایا کرتے تھے:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فارق بین الحق و الباطل ہیں، چنانچہ قرونِ اولیٰ میں روافض و خوارج کے ضلال کی ایک وجہ یہی تنقیصِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھی اور دورِ حاضر میں غیر مقلدین و مودودیین کے ضلال کا بھی ایک سبب یہی ہے۔

صفحہ 4 از 4