Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مقام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

  حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند

اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺ‏ کے بعد اب کوئی معصوم نہیں ہے اور کوئی فرد یا جماعت کسی غیر رسول کی عصمت کا مدعی ہے تو وہ اپنے دعویٰ میں کاذب اور جھوٹا ہے۔ اس لیے جماعتِ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ ہر انسان سے صواب و خطا اور خیر و شر کا صدور ہو سکتا ہے، البتہ بعض خدا کے ایسے سعید بندے ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی پر خیر و صلاح کا غلبہ ہوتا ہے، اسی غلبہ خیر کی بناء پر انھیں نیک، صالح، ولی وغیرہ محترم ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، جس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ یہ زلّات و سیئات سے بالکلیہ پاک ہیں۔
اس کے بالمقابل کچھ نابکار ایسے بھی ہیں جو مجموعہ شرور و معاصی اور خزینہ فسق و فساد ہوتے ہیں، ان کے فسق و فساد کی یہ کثرت انھیں ظالمین و مفسدین کے زمرے میں پہنچا دیتی ہے، بایں ہمہ ان کا بھی دامنِ حیات خیر و صلاح سے یکسر خالی نہیں ہوتا۔
صلحائے امت کی حیات و سوانح پر بحث و تحقیق کے وقت ان کی بعض لغزشوں اور بشری کمزوریوں کے پیشِ نظر ان کے جملہ محاسن و مزایا پر خطِ تنسیخ کھینچ دینا اور ان کے سارے حسنات و خیرات کا انکار کر کے انھیں ظالمین و مفسدین کی صف میں کھڑا کر دینا علم و دیانت کے سراسر منافی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ظالمین و مفسدین کے چند گنے چنے اچھے کاموں کو سامنے رکھ کر ان کی زندگی کے سارے سیاہ کارناموں سے آنکھیں بند کر کے انھیں صلحاء و اولیاء کی جماعت میں شامل کر دینا کسی طرح بھی درست نہیں ہو گا، بلکہ ہر ایک کے ساتھ اس کے اعمالِ خیر و شر کی قلت و کثرت کے اعتبار سے معاملہ کیا جائے گا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:  
أمَرَنا رسولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن نُنْزِلَ الناسَ مَنازِلَہم 
ترجمہ: آنحضرتﷺ‏ کا ہمیں حکم تھا کہ ہم لوگوں کو ان کے درجات و مراتب میں رکھیں۔
گر فرق مراتب نہ کنی زندیقی
بحث و نظر اور تحقیق و تبصرہ کا یہ ایسا لازمی اصول ہے جس سے غفلت اور بے اعتباری ایک محقق و مبصر کو دائرہ بحث و تحقیق سے نکال کر افراط و تفریط اور تنقیص و تضلیل کی صف میں پہنچا دیتی ہے، جس سے خود اس کی ذات مجروح اور علمی کاوشیں بے سود ہو کر رہ جاتی ہیں۔
پر ایک محقق کی علمی دیانت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ کسی شخصیت پر بحث کرنے کے لیے اس سے متعلق جو درست، صالح، معتبر اور مستند مواد ہیں انھی کو کام میں لائے، خود تراشیدہ، غیر مقبول اور گری پڑی باتوں کو بنیاد بنا کر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا نہ صرف اس شخصیت پر ظلم ہے، بلکہ خود علم و تحقیق کے ساتھ مذاق کرنا ہے، محقق کا یہ رویہ بھی اسے پایۂ اعتبار سے ساقط اور علمی خیانت سے متہم کر دیتا ہے، باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَكُمۡ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوۡۤا ۞(سورۃ الحجرات: آیت 6)
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو،  
ایک دوسری آیت میں ہے۔  
اِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَتَبَـيَّـنُوۡا ۞ (سورۃ النساء: آیت 94)
اس لیے صحیح، سقیم، قوی، ضعیف کی اچھی طرح چھان بین کے بعد ہی کوئی فیصلہ درست سمجھا جائے گا۔
عام اسلامی شخصیات سے ہٹ کر اصحابِ رسول اللہﷺ‏ کے حالات اور ان کے مقام و مرتبہ پر بحث و کلام کے لیے محض تاریخی روایات پر انحصار و اعتماد بھی ایک محقق کو راہِ اعتدال اور راہِ صواب سے دور کر دیتا ہے، کیونکہ تاریخ کو ہرگز یہ حیثیت حاصل نہیں ہے کہ اس کی شہادت سے کتاب و سنت کے مسلمات کے خلاف استدلال فراہم کیا جائے، البتہ خدا اور عام امت کے درمیان دین خالص کے صحیح تصور کے لیے اگر کوئی قابلِ اعتماد واسطہ ہے تو وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برگزیدہ اور مقدس جماعت ہے۔ پیغمبرِ خداﷺ‏ کی زندگی کے یہ ساتھی ہی آپ کے پیغام اور آپ کی تعلیمات کو پورے عالم میں پہنچانے والے ہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داعیانہ حیثیت کا اعلان خود خدائے علیم و خبیر نے اپنے رسولﷺ‏ کی زبانی یوں فرمایا ہے:  
قُلْ ھٰذِہٖ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْا إِلَی اللّٰہِ عَلیٰ بَصِیْرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ الآیۃ 
ترجمہ: آپﷺ‏ اعلان کر دیں کہ یہ میرا راستہ ہے بلاتا ہوں اللہ کی طرف، سمجھ بوجھ کر میں اور میرے ساتھی۔ 
مطلب یہ ہے کہ کسی اندھی تقلید کی بنیاد پر نہیں، بلکہ حجت و برہان اور بصیرت و وجدان کی روشنی میں، میں اور میرے اصحاب دینِ توحید کی دعوت دے رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ‏ کو جو نورِ بصیرت عطاء فرمایا تھا، آپﷺ‏ کے فیضِ صحبت سے ہر صحابی رضی اللہ عنہ کا دل و دماغ اس نور سے روشن ہو گیا تھا اور دعوت الی اللہ علی وجہ البصیرۃ میں وہ رسول اللہﷺ‏ کے دست و بازو اور رفیقِ کار بن گئے تھے، حدیث پاک ما أنا علیہ و أصحابی میں آنحضرتﷺ‏ نے بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اسی مرتبہ بلند کو بیان فرمایا ہے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت درحقیقت رسول پاکﷺ‏ کی سیرت کا جز ہے، عام شخصیات و رجال کی طرح انھیں صرف کتبِ تاریخ کی روشنی میں نہیں، بلکہ قرآن و حدیث اور سیرتِ رسول اللہﷺ‏ کے آئینہ میں دیکھا جائے گا۔
قاضی عیاض رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:
ومن توقیرہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم توقیر اصحابہ وبرھم معرفۃ حقھم والقتداء بھم وحسن الثناء علیھم والاستغفار لھم والإمساک عما شجر بینھم ومعاداۃ من عاداھم والاضراب عن أخبار المؤرخین وجھلۃ الرواۃ 
(الاسالیب البدیعۃ: صفحہ، 8)
ترجمہ: آنحضرتﷺ‏ کی تعظیم و توقیر میں سے ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم کرنا، ان سے حسنِ سلوک کرنا، ان کے حق کو پہچاننا، ان کی پیروی کرنا، ان کی مدح و ستائش کرنا، ان کے واسطے استغفار کرنا، ان کے باہمی اختاف کے ذکر سے (زبان و قلم کو) روکے رکھنا، ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھنا مؤرخین اور جاہل راویوں کی (ان کی خلافِ شان) روایتوں کے نقل و بیان سے باز رہنا۔
حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی قدس سرہٗ اپنے ایک مکتوب میں رقم طراز ہیں:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں جو آیات وارد ہیں وہ قطعی ہیں، جو احادیث صحیحہ ان کے متعلق وارد ہیں وہ اگرچہ ظنی ہیں، مگر ان کی اسانید اس قدر قوی ہیں کہ تواریخ کی روایات ان کے سامنے ہیچ ہیں، اس لیے اگر کسی تاریخی روایت میں اور آیات و احادیث صحیحہ میں تعارض واقع ہو گا تو تواریخ کو غلط کہنا ضروری ہو گا۔ 
(مکتوبات شیخ الاسلام: جلد، 1 صفحہ، 242 مکتوب، 88)
حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ تقدس و امتیاز کسی انسانی شخصیت و جماعت کا عطاء کردہ نہیں ہے، بلکہ انہیں یہ رتبہ بلند خود مالکِ کائنات و خالقِ دوجہاں کے دربار سے مرحمت ہوا ہے، ذیل میں چند آیات ملاحظہ فرمائیں آپ پر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح آشکارا ہو جائے گی:
1: كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ‌ ۞(سورۃ آل عمران: آیت 110)
ترجمہ: (مسلمانو) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ 
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو انتم فرماتے اس وقت خطاب کی وسعت میں پوری امت مرحومہ براہِ راست داخل ہو جاتی، مگر اللہ تعالیٰ نے کنتم فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تخصیص فرما دی، اب رہے امت کے باقی لوگ تو وہ جیسے اعمال کریں گے وہ بھی ان کے تابع ہو کر اس خیریت و افضلیت کے مصداق ہو جائیں گے۔ 
(اخرجہ ابنِ جریر و ابوحاتم عن السدّی)
حضرت فاروق اعظمؓ نے آیت پاک کا مصداقِ اولین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرار دیا ہے اور امت کے دیگر وہ افراد جو آیت پاک میں مذکورہ صفات کے حامل ہوں گے انھیں ثانوی درجہ میں شامل کیا ہے اور عربی زبان کے قواعد کی رو سے یہ بات اس طرح سمجھائی ہے کہ أنتم خیر أمۃ جملہ اسمیہ ہے جو ثبوتِ نسبت کو بتاتا ہے، تو أنتم سے خطاب عام ہو گا جس کے عموم و وسعت میں موجود و غیر موجود سب داخل ہو جائیں گے، لیکن جب ضمیر أنتم پر کان فعل ماضی داخل کر دیا جائے تو وقوع و حدوث کا معنیٰ پیدا ہو جائے گا، اس صورت میں کنتم کے مخاطب صرف موجودین ہوں گے، یعنی نزولِ آیت کے وقت جو امت موجود ہے وہی اس کی مصداقِ اولین ہو گی، یہ آیت صاف طور پر بتا رہی ہے کہ اصحابِ رسول اللہﷺ‏ بلا تخصیص جماعتِ انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہیں، علامہ سفارینی نے شرح عقیدۃ الدرۃ المضیئہ میں اسے جمہور امت کا مسلک قرار دیا ہے کہ انبیاء کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین افضل الخلائق ہیں، ابراہیم بن سعید جوہری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوامامہؓ سے دریافت کیا کہ حضرت امیر ِ معاویہ اور عمر بن عبدالعزیز میں کون افضل ہے تو انھوں نے فرمایا: 
لا نعدل بأصحابہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم أحدًا 
(الروضۃ الندیۃ شرح العقیدۃ الواسطیۃ ابنِ تیمیہ: صفحہ، 405)
امام ابنِ حزم اپنی مشہور کتاب الفصل میں لکھتے ہیں:  
ولا سبیل الیٰ أن یلحق أقلہ درجۃ أحد من أہلِ الأرض  
ترجمہ: کوئی شکل نہیں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کم رتبہ کے درجہ کو بھی کوئی (غیر صحابی) فرد بشر پہنچ سکے۔
اب اگر کسی تاریخی روایت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تنقیص لازم آتی ہو تو وہ اس نصِ قطعی کے معارض ہونے کی بناء پر لازمی طور پر مردود ہو گی۔
1: لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ ۞
(سورۃ الحديد: آیت 10)
ترجمہ: تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے۔ 
سورۃ الأنبياء میں الحسنیٰ کے متعلق ارشاد ہے: 
اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓىۙ اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ ۞
(سورۃ الأنبياء: آیت 101)
ترجمہ: (البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جا چکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا۔
اس آیت پاک سے معلوم ہوا کہ فرق مراتب کے باوجود سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنتی ہیں یہی بات سورۃ توبہ میں ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے۔
2: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞(سورۃ التوبہ: آیت 100)
ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔
آیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دو طبقوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک اولین سابقین کا اور دوسرا ان کے بعد والوں کا اور دونوں طبقوں کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ اللہ ان سب سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہیں اور ان کے لیے جنت کا مقامِ دوام ہے۔
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: 
جو شخص قرآن پر ایمان رکھتا ہے جب اس کے علم میں یہ بات آ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے بعض بندوں کو دوامی طور پر جنتی فرمایا ہے تو اب ان کے حق میں جتنے بھی اعتراضات ہیں سب ساقط ہو گئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ فلاں بندہ سے فلاں وقت میں نیکی اور فلاں وقت میں گناہ صادر ہو گا اس کے باوجود جب وہ اطلاع دے رہے ہیں کہ میں نے اسے جنتی بنا دیا تو اسی کے ضمن میں اس بات کا اشارہ ہو گیا کہ اس کی تمام لغزشیں معاف کر دی گئی ہیں، لہٰذا اب کسی کا ان مغفور بندوں کے حق میں لعن و طعن اور برا بھلا کہنا حق تعالیٰ پر اعتراض کے مرادف ہو گا، اس لیے کہ ان پر اعتراض اور زبانِ طعن دراز کرنے والا گویا یہ کہہ رہا ہے کہ پھر اللہ نے اسے جنتی کیسے بنا دیا۔ الخ 
(فضائل صحابہ و اہلِ بیت، مجموعہ رسائل: صفحہ، 206 مطبوعہ انجمن حمایت الاسلام لاہور، 1967ء)
اور علامہ ابنِ تیمیہ نے الصارم المسلول میں قاضی ابو یعلیٰ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ رضا اللہ تعالیٰ کی ایک صفتِ قدیمہ ہے کہ وہ اپنی رضا کا اعلان صرف انھیں کے لیے فرماتا ہے جن کے متعلق وہ جانتا ہے کہ ان کی وفات موجباتِ رضا پر ہو گی۔ 
(معارف القرآن: جلد، 8 صفحہ، 106) 
لہٰذا اگر کوئی تاریخی روایت اس نصِ قطعی کے خلاف ہو گی تو وہ لائقِ اعتناء نہ ہو گی۔
هُوَ الَّذِىۡۤ اَيَّدَكَ بِنَصۡرِهٖ وَبِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞ وَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ‌ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَيۡنَ قُلُوۡبِهِمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيۡنَهُمۡ‌ اِنَّهٗ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ۞
(سورۃ الأنفال: آیت 62، 63)
ترجمہ: وہی تو ہے جس نے اپنی مدد کے ذریعے اور مومنوں کے ذریعے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے۔ اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی الفت پیدا کر دی۔ اگر تم زمین بھر کی ساری دولت بھی خرچ کر لیتے تو ان کے دلوں میں یہ الفت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ نے ان کے دلوں کو جوڑ دیا، وہ یقیناً اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ 
اسلام سے پہلے عرب میں جدال و قتال کا جو بازار گرم تھا اس سے کون ناواقف ہے، ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر قبائلِ عرب باہم ٹکراتے رہتے تھے اور بسا اوقات ان کی قبائلی جنگوں کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہتا، باہمی عداوت اور شقاق و عناد کے اس دور میں رحمۃ للعالمین توحید و معرفت اور اتحاد و اخوت کا عالم گیر پیغام لے کر مبعوث ہوئے کیا دنیا کی کوئی طاقت تھی جو ان درندہ صفت، جہالت پسند لوگوں میں معرفتِ الہٰی اور حبِ نبویﷺ‏ کی روح پھونک کر سب کو ایک دم باہمی اخوت و الفت کی زنجیر میں جکڑ دیتی، بلاشبہ روئے زمین کے سارے خزانے خرچ کر کے بھی یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا، یہ خدائی طاقت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ کل تک جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور عزت و آبرو کے بھوکے تھے ان کے درمیان اس طرح سے برادرانہ اتحاد و اتفاق پیدا کر دیا کہ حقیقی بھائیوں سے زیادہ ایک دوسرے سے محبت و الفت کرنے لگے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس باہمی الفت و محبت کا ذکر سورۃ آل عمران میں اس طرح کیا گیا ہے:
وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًا ۞(سورۃ آل عمران: آیت 103)
ترجمہ: اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے۔
آیت مبارکہ میں: 
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ‌۞
(سورۃ الفتح: آیت 29)
ترجمہ: محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔ 
بھی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی باہمی رحمت و الفت کی خبر دے رہی ہے۔
امام قرطبی اور عامۂ مفسرین لکھتے ہیں وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ میں بلا تخصیص تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم داخل ہیں، اس آیت پاک میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آپس میں رحیم اور مہربان اور فضلِ خداوندی کا طالب بتایا گیا ہے۔
ان نصوصِ قطعیہ کے برخلاف اگر تاریخی روایتیں یہ شہادت دیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں ذاتی پرخاش اور بغض و عناد رکھتے تھے تو یہ شہادتِ زور ہو گی جو کسی عدالت میں بھی قابلِ قبول نہیں ہے، رہا معاملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے باہمی مشاجرات اور آپسی لڑائیوں کا تو اس کا منشاء بغض و عداوت اور شقاق و عناد قطعی نہیں تھا، بلکہ اس میں ہر فریق اپنے نقطہ نظر اور اجتہاد کے مطابق مسلمانوں کی مصالح اور راہِ حق و رضائے الہٰی کے حصول میں کوشاں تھا، یہ الگ بات ہے کہ ایک فریق اپنے اجتہاد میں چوک گیا جس پر وہ قابلِ گرفت نہیں، بلکہ مستحقِ اجر ہے، چنانچہ علامہ سفارینی لکھتے ہیں:
التخاصم والنزاع والتقاتل والدفاع الذی جری بینہم کان عن اجتہاد قد صدر من کل واحد من رؤس الفریقین و مقصد سائغ لکل فرقۃ من الطَّائفتین وان کان المصیب فی ذلک للصواب واحدہما غیر ان للمخطی فی الاجتہاد اجرًا و ثوابًا (مقام صحابہ، صفحہ، 104)
ترجمہ: جو نزاع و جدال اور دفاع و قتال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان پیش آیا وہ اس اجتہاد کی بناء پر تھا جو فریقین کے سرداروں نے کیا تھا اور فریقین میں سے ہر ایک کا مقصد اچھا تھا اگرچہ اس اجتہاد میں ایک ہی فریق صواب پر ہے۔ مگر اپنے اجتہاد میں خطا کر جانے والے کے لیے بھی اجر و ثواب ہے۔
4: لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ۞
(سورۃ المجادلة: آیت 22)
ترجمہ: جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، ان کو تم ایسا نہیں پاؤ گے کہ وہ ان سے دوستی رکھتے ہوں، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، چاہے وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے خاندان والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش کر دیا ہے، اور اپنی روح سے ان کی مدد کی ہے۔
حضرت شاہ عبدالقادر مفسر دہلویؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں، یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹے (وغیرہ) ہوں وہ ہی سچے ایمان والے ہیں، ان کو (جنت و رضوانِ الہٰی) ملتے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان یہی تھی کہ اللہ و رسولﷺ‏ کے معاملہ میں کسی چیز اور کسی شخص کی پروا نہیں کی۔ الحاصل حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی آیت پاک کے مصداق اولین ہیں، چنانچہ امام قرطبیؒ، زمخشریؒ، حافظ ابنِ کثیرؒ وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس آیت کے تحت حضرت ابوعبیدہ، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ کے بے لوث مخلصانہ واقعات بیان کیے ہیں۔
اب اس قرآنی اطلاع کے برعکس تاریخ کی روایتیں یہ خبر دیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خدا اور رسولِ خداﷺ‏ کے مقابلے میں اپنے بیٹے عزیز و اقارب اور قبیلے و گھرانے کو اولیت دیتے تھے تو یہ روایتیں ساقط الاعتبار ہوں گی انھیں کسی طرح بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
5: وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۞ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞
(سورۃ الحجرات: آیت 7، 8)
ترجمہ: لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے، اور اسے تمہارے دلوں میں پُرکشش بنا دیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آ چکے ہیں۔ جو اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کا نتیجہ ہے، اور اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ 
یہ آیت ناطق ہے کہ بلا استثناء تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں میں ایمان کی محبت اور کفر، گناہ اور نافرمانی سے نفرت و کراہیت من جانب اللہ راسخ کر دی گئی تھی اور الیکم میں حرف اِلیٰ سے مستفاد ہوتا کہ یہ ایمان کی محبت اور کفر و فسق سے نفرت انتہا درجے کو پہنچی ہوئی تھی، کیونکہ اِلیٰ عربی میں انتہا و غایت کے معنی بیان کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے، نیز آیت پاک سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے جو لغزشیں صادر ہوتی ہیں اس کی بنیاد ضعفِ ایمان اور فسق و عصین کا (نعوذ باللہ) استحسان نہیں، بلکہ بہ تقاضائے بشریت ان کا صدور ہو گیا ہے، جس سے ان کے رشد پر کوئی حرف نہیں آ سکتا، اس لیے ان کی معدودے چند لغزشوں کی بناء پر انھیں تنقید و تنقیص کا نشانہ بنانا کسی طرح بھی درست نہیں ہے، چنانچہ علامہ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں:
ما ذکر عن الصحابۃ من السیئات کثیر منہ کذب و کثیر منہ کانوا مجتہدین فیہ لکن لا یعرف کثیر من الناس وجہ اجتہادہم ما قدر انہ کان فیہ ذنب من الذنوب لہم فہو مغفور لہم، امام بتوبۃ واما بحسنات ماحیۃ، و اما بمصائب مکفرۃ واما بغیر ذلک، فانہ قد قام الدلیل الذی یجب القول بموجبہ انہم من اہل الجنۃ، فامتنع ان یفعلوا ما یوجب النار لا محالۃ وإذا لم یمت احدہم علی موجب النار لم یقدح ذلک فی استحقاقہم للجنۃ 
(المنتقیٰ: صفحہ، 219، 220)
ترجمہ: بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف جو برائیاں منسوب کی گئی ہیں ان میں بیشتر خود ساختہ ہیں اور ان میں بہت سی ایسی ہیں جن کو انھوں نے اپنے اجتہاد (سے حکمِ شرعی سمجھ کر) کیا، مگر لوگوں کو ان کے اجتہاد کی وجہ معلوم نہ ہو سکی اور جن کو گناہ ہی مان لیا جائے تو ان کا وہ گناہ معاف ہو گیا، یہ عفو و مغفرت یا تو توبہ کی بناء پر ہے یا ان کی (کثرت) حسنات نے ان گناہوں کو مٹا دیا، یا دنیاوی مصائب ان کے لیے کفارہ بن گئیں، علاوہ ازیں دیگر اسبابِ مغفرت بھی ہو سکتے ہیں، کیونکہ قرآن و سنت سے ان کا جنتی ہونا ثابت ہو چکا ہے، اس لیے یہ ناممکن ہے کہ کوئی ایسا عمل ان کے نامہ اعمال میں باقی رہے جو جہنم کی سزا کا سبب بنے، تو جب حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی ایسی حالت میں وفات نہیں پائے گا جو دخولِ جہنم کا ذریعہ ہے تو اب کوئی چیز ان کے استحقاقِ جنت میں مانع نہیں ہو سکتی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان و اخلاص، دیانت و عدالت پر اس قرآنی شہادت کے بعد کسی تاریخی مفروضہ کی بنیاد پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسلام کو استسلام سے تعبیر کرنا ایمان بالقرآن سے میل کھاتا ہے؟ پرستارانِ تاریخ و دلدادگان سید قطب و طہٰ حسین کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس سے رشتہ توڑ رہے ہیں اور کس سے ناطہ جوڑ رہے ہیں۔
بقول دشمن پیمانِ دوست بشکستی
ببیں از کہ بریدی و باکہ پیوستی
قرآن مقدس کی مندرجہ بالا آیات بصراحت ناطق ہیں کہ
1: بغیر کسی استثناء کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنتی ہیں۔
2: سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ تعالیٰ کی دائمی رضا و خوشنودی حاصل ہے۔
3: جملہ اصحابِ رسولﷺ‏ آپس میں برادرانہ الفت و اخوت رکھتے تھے۔
4: سبھی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ و رسولﷺ‏ کے معاملے میں نسبی و قبائلی عصبیت سے بالکل پاک تھے۔
5: ہر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کا دل ایمان و اخلاص کی محبت سے مزین اور کفر، فسق اور نافرمانیوں سے متنفر تھا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام حدیث کی نظر میں:
کتابِ الہٰی کی ان واضح تصریحات کے ساتھ رسولِ خداﷺ‏ کے ارشادات بھی پیشِ نظر رکھیں تاکہ بات بالکل منقح ہو جائے اور کسی تاویلِ باطل سے آپ شکوک و شبہات میں گرفتار نہ ہوں۔
آنحضرتﷺ‏ کا پاک ارشاد ہے:
1: خیر الناس قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم، فلا ادری ذکر قرنین او ثلاثۃ الخ۔ 
(السنۃ الامالکا جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 201 طبع الہند)
ترجمہ: سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر ان کا جو اس سے متصل ہیں، پھر ان کا جو اس سے متصل ہیں، راویِ حدیث کہتے ہیں مجھے یاد نہیں رہا کہ ثم الذین یلونہم آنحضرتﷺ‏ نے دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ۔
اس حدیث پاک سے متعین طور پر معلوم ہو گیا کہ عہدِ نبوی کے بعد سب سے بہتر زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے۔ 
اصابہ کے مقدمہ میں مشہور شارحِ حدیث حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں:
وتواتر عنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خیر الناس قرنی ثم الذین یلونہم الخ  
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث محدثین کے نزدیک متواتر ہے جس سے علم یقینی حاصل ہوتا ہے۔
2: عن جابر قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اللّٰہ اختار اصحابی علی الثقلین سوی النبیین والمرسلین، رواہ البزار بسند رجالہ موثقون
ترجمہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے میرے اصحاب کو انبیاء و مرسلین کے علاوہ تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے۔
یہ حدیث پاک اس بات پر نص ہے کہ تمام حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ کے منتخب و برگزیدہ ہیں، جماعتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد گروہ جن و انس میں سے کوئی بھی ان کے مقام و مرتبہ کو نہیں پا سکتا، شرفِ صحابیت ایک ایسا شرف ہے جس کے مقابلے میں ساری فضیلتیں ہیچ در ہیچ ہیں، اسی لیے حضرت سعید بن زید (یکے از عشرۂ مبشرہ) قسم کھا کر فرماتے ہیں:
واللّٰہ لشہد رجل منہم مع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یغبر فیہ وجہہ خیر من عمل احدکم ولو عمّر عمر نوح 
(جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 202)
ترجمہ: خدا کی قسم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کی رسول اللہﷺ‏ کے ہمراہ کسی جہاد میں شرکت جس سے اس کا (صرف) چہرہ غبار آلود ہو جائے غیر صحابی میں سے ہر فرد کی عمر بھر کی عبادت و عملِ صالح سے بہتر ہے اگرچہ اس کو عمر حضرت نوح علیہ السلام مل جائے۔
صحابی رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپﷺ‏ نے فرمایا:
3: اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا من بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم ومن اذاھم فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللّٰہ فیوشک ان یاخذہ 
(للترمذی جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 201)
ترجمہ:  اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معاملہ میں میرے بعد ان کو (طعن و تشنیع) کا نشانہ نہ بناؤ، کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے ان کو ایذا پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا پہنچائی اور جو اللہ کو ایذا پہنچانا چاہے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو عذاب میں پکڑ لے۔
آیت کریمہ فِىۡ بُيُوۡتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنۡ تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ۞ الخ (سورۃ النور: آیت 36) کی تفسیر میں امام قرطبیؒ نے آنحضرتﷺ‏ کی درج ذیل حدیث ذکر کی ہے جس سے حدیث بالا کی تائید ہوتی ہے۔
4: من احب اللّٰہ عزوجل فلیحبنی ومن احبنی فلیحب اصحابی ومن أحب أصحابی فلیحب القرآن ومن احب القرآن فلیحب المساجد الخ 
(الجامع لاحکام القرآن: جلد، 21 صفحہ، 266)
ترجمہ: جو اللہ سے محبت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ مجھ سے محبت رکھے اور جو مجھ سے محبت رکھے اسے چاہیے کہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم سے محبت رکھے اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت رکھے اسے چاہیے کہ قرآن سے محبت رکھے اور جو قرآن سے محبت رکھے اسے چاہیے کہ مساجد سے محبت رکھے۔
کوئی انتہا ہے حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رفعت مقام کا کہ سید المرسلین، محبوب رب العالمین، خلاصہ کائنات، فخرِ موجودات محمد رسول اللہﷺ‏ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت کو اپنی محبت بتا رہے ہیں اور ان سے بغض و عناد کو اپنے ساتھ بغض و عناد قرار دیتے ہیں، جس کے دل میں نبی کریمﷺ‏ کی ادنیٰ درجہ کی محبت بھی ہو گی وہ اصحابِ رسولﷺ‏ کی شان میں لب کشائی کی جرأت کر سکتا ہے؟ اور جب کہ آپﷺ‏ نے صاف فرما دیا ہو کہ دیکھو میرے بعد میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا اور انھیں اپنے اعتراضات کا ہدف نہ بنانا۔
ایک حدیث میں آپﷺ‏ کا ارشاد ہے:  
لا تسبوا اصحابی فمن سبہم فعلیہ لعنۃ اللّٰہ والملائکۃ والناس اجمعین لا تقبل اللّٰہ منہ صرفا ولا عدلا 
(شرح الشفاء للملا علی قاری: جلد، 2 صفحہ، 755)
ایک دوسری حدیث میں یہ الفاظ ہیں:  
اذا رائیتم الذین یسبون اصحابی فقولوا لعنۃ اللّٰہ علی شرکم 
(الترمذی جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 201)
ان حادیث پاک پر بطورِ خاص ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو مؤرخین کی گری پڑی روایتوں اور ان کے طبع زاد مفروضوں کو بنیاد بنا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اخلاق و اعمال کی ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جسے وہ خود اپنے یا اپنے بڑے بوڑھوں کے بارے میں قطعاً گوارہ نہیں کر سکتے تو کیا (نعوذ باللہ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں فروتر اور پست تھے؟ (العیاذ باللہ)
5: عن انس قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مثل اصحابی فی امتی کالملح فی الطعام لا یصلح الطعام الا بالملح 
(مشکوٰۃ شریف بحوالہ شرح السنۃ: صفحہ، 554)
ترجمہ: حضور اکرمﷺ‏ نے ارشاد فرمایا: میری امت میں میرے اصحاب کی وہی حیثیت ہے جو نمک کی کھانے میں ہے کہ بغیر نمک کا کھانا پسندیدہ نہیں ہوتا۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح عمدہ سے عمدہ تر کھانا بے نمک کے پھیکا اور بے مزہ ہوتا ہے بعینہٖ یہی حال امت کا ہے کہ اس کی ساری صلاح و فلاح اور اس کا تمام تر شرف و مجد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت کا مرہون احسان ہے اگر اس جماعت کو درمیان سے الگ کر دیا جائے تو امت کے سارے محاسن و فضائل بے حیثیت اور غیر معتبر ہو جائیں گے۔
الحاصل اس حدیث میں واضح اشارہ ہے کہ امت مسلمہ کے دین کی صحت و درستگی کے لیے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال و اعمال حجت و سند اور معیار کا درجہ رکھتے ہیں۔
ان حادیث سے معلوم ہوا کہ
1: عہدِ نبویﷺ‏ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور سارے زمانہ سے بہتر ہے۔
2: حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ کے منتخب و برگزیدہ ہیں، جماعتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ جن و بشر کا کوئی بھی فرد ان کے مقام و مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
3: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت محبتِ رسولﷺ‏ کی علامت اور ان سے بغض و عناد رسول اللہﷺ‏ سے بغض و عناد کی نشانی ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ایذا پہنچانا خود نبی پاکﷺ‏ کو اذیت پہنچانے کے مترادف ہے۔
4: حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تنقید و تنقیص کا ہدف بنانا ناجائز و حرام ہے۔
5: امت کا سارا شرف و مجد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ وابستگی پر موقوف ہے اور ان کا قول و عمل امت کے لیے حجت ہے۔
آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبویﷺ‏ کے نصوص سے ثابت شدہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اسی امتیازی مقام و مرتبہ کو ایک دو گمراہ فرقوں کے علاوہ ساری امت ہمیشہ سے مانتی چلی آ رہی ہے، ان کے حق میں طعن و تشنیع، سبِّ وشتم اور اس کی عیب جوئی اور اہانت کو اکبر کبائر میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔
چنانچہ امام نوویؒ لکھتے ہیں:
1: واعلم ان سب الصحابۃ حرام من فواحش المحرمات سواء لابس الفتنۃ منہم او غیرہ 
(شرح مسلم: جلد، 2 صفحہ، 310)
ترجمہ: اچھی طرح سمجھ لو کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نازیبا الفاظ سے ذکر کرنا حرام ہے اور بڑے حراموں میں سے خواہ وہ صحابی باہمی جنگ کے فتنہ میں مبتلا ہوئے ہوں یا اس سے بری ہوں۔ 
امام مالکؒ کا قول مشہور شارح حدیث ملا علی قاریؒ ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
2: من شتم احدا من اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ابابکر او عمر او عثمان او علیا او معاویۃ او عمرو بن العاص فان قال شاتمھم کانوا علی ضلال او کفر قتل وان شتم بغیر ھذا نکل نکالا شدیدا 
(شرح الشفاء: جلد، 2 صفحہ، 755)
ترجمہ: جس نے اصحابِ رسول اللہﷺ‏ میں سے کسی کو، مثلاً سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ، سیدنا علیؓ، سیدنا امیرِ معاویہؓ، سیدنا عمرو بن عاصؓ کو گالی دی اگر انھیں گالی دینے والا یہ کہتا ہے کہ وہ کفر و ضلالت پر تھے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اگر اس کے علاوہ کچھ اور کہتا ہے تو اسے سخت عبرت ناک سزا دی جائے گی۔
عظیم المرتبت محدث امام ابوزرعہ الرازیؒ فرماتے ہیں:
3: اذا رأیت الرجل ینتقص احدا من اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاعلم انہ زندیق وذٰلک ان الرسول حق، والقرآن حق وما جاء بہ حق وانما روی الینا ذٰلک کلہ الصحابۃ وہؤلاء یریدون ان یجرحوا شہودنا لیبطلوا الکتاب والسنۃ والجروح بہم اولیٰ وہم زنادقۃ 
(الاصابۃ: جلد، 1 صفحہ، 11)
ترجمہ: جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ یہ زندیق ہے اور یہ اس لیے ہے کہ رسول اکرمﷺ‏ حق ہیں، قرآن حق ہے، قرآن نے جو کچھ بیان کیا ہے حق ہے اور ان سب کو ہم تک پہنچانے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں تو یہ عیب جویاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گواہوں اور واسطہ کو مجروح کر دیں تاکہ وہ کتاب و سنت کو باطل اور بے اصل ٹھہرا دیں، لہٰذا یہی بدگو مجروح ہونے کے زیادہ مستحق ہیں یہ لوگ تو زندیق ہیں۔
امام ذہبیؒ اپنی مشہور کتاب الکبائر میں لکھتے ہیں:
4: من ذم اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بشیء وتتبع عثراتہم وذکر عیبا واضافہ الیہم کان منافقا الخ (صفحہ، 239)
ترجمہ: جس نے آنحضرتﷺ‏ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کسی نوع کی مذمت کی اور ان کی عیب جوئی اور لغزشوں کی تلاش کے پیچھے لگا رہا یا کسی عیب کا ذکر کر کے اس کی نسبت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جانب کر دی تو وہ منافق ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ کا قول ان کے تلمیذ المیمونی ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔
5: سمعت احمد یقول ما لھم ولمعاویۃ نسأل اللّٰہ العافیۃ وقال لی یا ابا الحسن اذا رأیت احدا یذکر اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بسوء فاتھمہ علی الاسلام (مقام صحابہ: صفحہ، 77)
ترجمہ: میں نے امام احمد رحمۃ اللہ سے فرماتے ہوئے سنا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ حضرت امیرِ معاویہؓ کی برائی کرتے ہیں ہم اللہ سے عافیت کے طلب گار ہیں پھر مجھ سے فرمایا کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذکر برائی سے کر رہا ہے تو اس کے اسلام کو مشکوک سمجھو۔
حضرات ائمہ و محدثین کے ان اقوال کا حاصل یہی ہے کہ حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اہانت، برائی اور ان کے اوپر طعن و تشنیع عظیم تر گناہ کبیرہ ہے، کسی مخلص سچے مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ رسولِ خداﷺ‏ کے مخلص و جاں نثار ساتھیوں کو ہدفِ ملامت اور نشانہ مذمت بنائے ایسی شنیع جسارت کوئی زندیق، منافق اور مشکوک الاسلام ہی کر سکتا ہے۔ (نعوذ باللہ منہ)
محقق ابنِ ہمامؒ اسلامی عقائد پر اپنی جامع کتاب مسایرہ میں لکھتے ہیں:
واعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ وجوبا باثبات العدالۃ لکل منہم والکف عن الطعن منہم والثناء علیہم (مقام صحابہ: صفحہ، 132)
ترجمہ: اور اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر صحابی رضی اللہ عنہ کے لیے عدالت ثابت کرتے ہوئے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تزکیہ کیا جائے، ان پر طعن سے باز رہا جائے اور ان کی تعریف کی جائے۔
علامہ ابنِ تیمیہؒ نے شرح عقیدہ واسطیہ میں اس عقیدہ کی تصریح ان الفاظ میں کی ہے:
عن اصول اہل السنۃ سلامۃ قلوبہم والسنتہم لاصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (مقام صحابہ: صفحہ، 403)
ترجمہ: اہلِ سنت والجماعت کے اصول عقائد میں سے ہے کہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے معاملے میں صاف رکھتے ہیں۔
عقائد کی معروف کتاب شرح مواقف میں سید شریف جرجانی رقم طراز ہیں:
المقصد السابع انہ یجب تعظیم الصحابۃ کلہم والکف عن القدح فیہم لان اللّٰہ عظیم واثنیٰ علیہم فی غیر موضع فی کتابہم 
(عقیدہ سے متعلق یہ تینوں حوالے مقام صحابہ از مفتی محمد شفیعؒ سے ماخوذ ہیں)
ترجمہ: ساتواں مقصد اس بیان میں ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم اور ان پر طعنہ زنی سے رکنا واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ عظیم ہے اور اس نے اپنی کتاب میں ان حضرات کی بہت سے مقامات میں تعریف بیان کی ہے۔
مزید دیکھیں:
دلیلِ قرآن رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اللہ ان سے راضی ہوا
عظمتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین