ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 10 از 16

اقرار نمبر 6: ضروریاتِ دین میں سے ہونا کہ اگر کوئی شیعہ عالم تحریفِ قرآن کو اپنا عقیدہ نہ قرار دے تو وہ ضروریاتِ دین کا منکر ہوگا اور ضروریاتِ دین کا انکار کفر ہے۔

لہٰذا اگر کوئی شیعہ کہے میں تحریفِ قرآن کا قائل نہیں ہوں تو وہ شیعہ مذہب کے نزدیک کافر ہے کیونکہ ضروریاتِ دین کا منکر ہے۔

لہٰذا امام کے بیان اور اکابر علمائے شیعہ کے ان چھ اقراروں کے باوجود علوی صاحب کا یہ کہنا کہ ہم عدمِ تحریر کا عقیدہ رکھتے ہیں ان کی ذاتی رائے کے سواء کیا کہا جاسکتا ہے اس پر مستزاد یہ کہ علوی صاحب نے بے خیالی میں یہ کہنے کی جرأت کر ڈالی یہ نہ سوچا کہ ایک تو وہ ضروریاتِ دین کا انکار کر کے خود کافر ہو رہے ہیں دوسرا اپنے امام پر کافر ہونے کا فتویٰ بھی دے رہے ہیں۔

علوی: عالیجاہ! تحریف کا عقیدہ تو سُنیوں کا ہے ان کے ہاں روایت موجود ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ نے قرآن جمع کیا اور کچھ جلا دیا۔

عباسی: سیدنا عثمان غنیؓ نے قرآن نہیں جلایا تھا بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قرآنی آیات کے ساتھ حاشیے میں جو تفسیری نوٹ لکھ رکھے تھے وہ الگ کر دیے تاکہ بعد میں آنے والے ان تفسیری الفاظ و عبارات کو قرآن کا متن نہ سمجھ لیں پھر یہ کہ کوئی ایک روایت عقیدہ نہیں بن جاتی اگر علوی صاحب اس پر جمے ہوئے ہیں تو اہلِ سنّت و الجماعت کی کتابوں میں سے ان 6 اقراروں کے ساتھ تحریفِ قرآن کا عقیدہ اہلِ سنّت کے ہاں ثابت کر دیں۔

بادشاہ: علوی صاحب! فرمائیے۔

علوی: سر جھکائے منہ ٹکائے کھڑے ہیں گویا 

"دو لب بر چہرہ زخمے بود و بہ شد"

عباسی: حضور والا! تحریفِ قرآن کا پہلو تو واضح ہوگیا اب دوسری خصوصیت کے متعلق ان کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن کے علاوہ امام کے پاس ہدایت کا سامان اور بھی ہوتا ہے یعنی: 

  1. جامعہ: جس کا طول 70 گز ہے اور اس میں تمام حلال و حرام اور وہ چیزیں جن کی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے لکھی ہوئی ہیں۔
  2. جفر: چمڑے کا تھیلا جس میں تمام انبیاء علیہم السلام اور اوصیاء کا علم ہے۔
  3. صحفِ سیدہ فاطمہؓ: جو قرآن سے تین گنا ہے اور اس میں اللہ کی کتاب قرآنِِ کریم کا ایک حرف بھی نہیں۔
  4. ہر سال لیلۃ القدر میں لوگوں کی ہدایت کے لیے امام پر احکام نازل ہوتے ہیں۔

بادشاہ: کیوں علوی صاحب! کیا یہ درست ہے؟

علوی: ٹِک ٹِک ویدم دم ناک کشیدم کی تصویر بنے کھڑے ہیں۔

بادشاہ: نظامُ الملک! بات صاف ہوگئی کہ اللہ کی آخری کتاب قرآنِ کریم پر شیعہ کا ایمان نہیں ہے۔

اب ہم لفظ امام اور منصبِ امامت کے متعلق آپ کے عقائد معلوم کرنا چاہتے ہیں عباسی صاحب کہیے۔

عباسی: عالی جناب! اسلامی عقائد میں امام نہ تو نبی کی طرح کی کوئی خاص شخصیت ہے نہ امامت کوئی منصب ہے۔

جو شخص دین کے کسی شعبے میں کوئی خاص تحقیقی تعمیری اور مابہ الامتیاز علمی یا عملی کوئی کام کرے اسے اس فن کا امام کہتے ہیں نہ اس پر ایمان لانا واجب ہوتا ہے نہ اس کے غیر مشروط اطاعت کرنا فرائض میں داخل ہے جیسے ائمہ تفسیر ائمہ فقہ ائمہ حدیث وغیرہ۔

علوی: حضور والا! ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے محمد رسول اللہﷺ کے وصی سیّدنا علیؓ ہیں اور ان کی اولاد میں گیارہ افراد امامت کے منصب پر من جانب اللہ فائز ہیں امام مامور من اللہ ہوتا ہے مفترض الطاعتہ ہوتا ہے اور معصوم عن الخطاء ہوتا ہے۔

بادشاہ: یہاں تو بات اور الجھ گئی یہ تین خصوصیات تو انبیاء علیہم السلام کی ہوتی ہیں اس سے تو شیعہ کا عقیدہ اجرائے نبوت ظاہر ہوتا ہے اور ختمِ نبوت کا انکار ہے۔ 

عباسی: عالیجاہ! علوی صاحب نے ائمہ کے متعلق پوری تفصیل نہیں دی اجازت ہو تو بندہ عرض کرے۔

بادشاہ: ہاں کہیئے۔

عباسی: جہاں تک امامت اور اس سے انکار کا تعلق ہے شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ امامت کا انکار نہ صرف کفر ہے بلکہ دنیوی ہلاکت اور اُخروی عذاب کا مستحق ہوتا ہے کل من حجدھم (ائمۃ) او انکر امامتھم اوشک فی ذلک فھو کافر الکفر قوله واعتقاد۔ 

جس شخص نے اماموں کی امامت کا انکار کیا یا اماموں کی امامت میں شک کیا وہ کافر ہے اس کا قول بھی کفر اعتقاد بھی کفر۔

اس عقیدہ کے الفاظ ذرا وضاحت طلب ہیں۔

یہ قضیہ موجبہ کلیہ ہے کل موجبہ کلیہ کا داخل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انکار کرنے والا نبی ہو رسول ہو یا عامی شخص ہو کافر ہے مگر یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جو منطق سے واقف ہو لہٰذا اس کمی کو یوں پورا کیا گیا۔

قال امیر المومنینؓ ان اللہ تعالیٰ عرض ولایتی علی اھل السمٰوٰت والارض اقربھا من اقربھا وانکرھا من انکرھا و انکرھا یونسؑ حبه فی بطن الحوت حتیٰ اقربھا۔

ان کے سیدنا علیؓ نے فرمایا کہ میری ولایت اہلِ آسمان اور اہلِ زمین پر پیش کی گئی کسی نے اقرار کیا کسی نے انکار کیا حضرت یونس علیہ السلام نے انکار کیا تو اللہ نے ان کو مچھلی کے پیٹ میں قید کر دیا حتیٰ کہ انہوں نے اقرار کر لیا جہاں تک کہ عقاب و ہلاکت کا تعلق ہے ارشاد ہوتا ہے۔

اما واللہ ما ھلک من کان قبلکم وما ھلک من ھلک حتیٰ یقیم قائمتنا الا فی ترک ولایتنا وحجود حقنا۔

خدا کی قسم! تم سے پہلے جو ہلاک ہوئے وہ ہماری امامت کا انکار کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور جو امام مہدی کے آنے تک آئندہ ہلاک ہونگے وہ ہماری امامت کے انکار کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔

ولا یخفی ان ھلاک الاھم کان سبب ترک ولایتنا۔

یہ امر مخفی نہیں کہ پہلی امتیں جو ہلاک ہوئیں وہ ہماری امامت کے عقیدہ کو ترک کرنے کے سبب ہلاک ہوئیں۔

عقیدہ امامت کے اہمیت کا اندازہ کیجئے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا۝ (سورۃ بنی. اسرائیل آیت نمبر 15) کی دھجیاں بکھر رہی ہیں۔

امتوں کا تو کیا کہنا انبیاء علیہم السلام بھی ہلاکت سے بچ نہ سکے۔

صفحہ 10 از 16