ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 11 از 16

ان اللہ تعالیٰ لم یبعث نبیا من اٰدمؑ الی ان صار جدک محمدﷺ قد عرض علیه ولاتیکم اھل البیت ومن قبلھا من الانبیاء سلم وتخلص ومن توقف عنھا وتتعتع فی حملھا لقی ما لقی اٰدمؑ من المعصیۃ ولقی ما لقی نوحؑ من الغرق ولقی ما لقی ابراھیمؑ من النار ولقی ما لقی یوسفؑ من الجب ولقی ایوبؑ من البلاء ولقی داؤدؑ من الخطیئۃ الی ان بعث اللہ یونسؑ فاوحی الیه ان تولی امیر المومنین علیاؓ والائمۃ الراشدین من صلبه قال یونسؑ کیف اقول من لم آرہ ولم اعرفه الی ان التقمه الحوت فلما اٰمن بولاتیکم امر ربیع فقذفته علی الساحل۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہﷺ تک کوئی نبی نہیں بھیجا جس کے سامنے تمہاری امامت کا عقیدہ نہ پیش کیا گیا ہو جس نبی نے یہ عقیدہ قبول کر لیا وہ سلامت رہا اور مصائب سے بچ گیا جس نے توقف کیا اور امامت کے اقرار میں زبان اٹکی مبتلائے مصیبت ہوا جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام گناہ میں مبتلا ہوئے نوحؑ غرق ہوئے کہ یہ مصیبت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں حضرت یوسف

علیہ السلام کنویں میں حضرت ایوب علیہ السلام بدنی مصیبت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں حضرت یوسف علیہ السلام کنویں میں حضرت ایوب علیہ السلام بدنی مصیبت میں حضرت داؤد علیہ السلام گناہ میں۔ حتیٰ کہ اللہ نے حضرت یونس علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ان پر وحی کی کہ سیدنا علیؓ اور ان کی اولاد میں سے اماموں کے امامت قبول کرو اور ان سے دوستی کا عہد کرو حضرت یونس علیہ السلام نے جواب دیا میں نے جن کو دیکھا نہیں جن کو پہچانتا نہیں ان کی امامت کیسے تسلیم کروں تو وہ مچھلی کا لقمہ بنے جب امامت پر ایمان لائے تو اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ اس نے ان کو ساحل پر پھینک دیا۔

 یہاں تک تو امامت کے عقیدے کا ایک پہلو واضح کیا گیا کہ اس عقیدے کے انکار کی وجہ سے انبیاء علیہم السلام اور اولعزم رسول بھی اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکے۔

امامت کا دوسرا پہلو اس سے بھی بڑھ کر ہے یہاں امام وجہ ہلاکت نظر آتے ہیں آگے سنئیے:

سیدنا علیؓ فرماتے ہیں:

وانا والذی اھلکت عادا وثمودا واصحاب الرس وقرونا بین ذلک کثیرا وانا الذی ذللت الجبابر وانا صاحب مدین ومھلک فرعون و منجی موسیٰ وانا القرن الحدید۔

میں نے عادیوں اور ثمودیوں کو ہلاک کیا اصحاب الرس کو میں نے ہلاک اور ان کے درمیان والوں کو میں نے ہلاک کیا بڑے بڑے ظالموں کو میں نے ہلاک کیا فرعون کو میں نے غرق کیا موسیٰ علیہ السلام کو میں نے نجات دی۔

ایک قدم اور آگے:

وانا صاحب العصاء المسیح وانا سخرت السحاب والرعد والبرق والظلم والا نوار والریاح والجبال والبحار والنجوم والشمس والقمر

خلاصہ یہ کہ ساری کائنات اور اس کا نظام میرے تابع ہے ان پر میرا ہی حکم چلتا ہے۔

تو حضور والا! یہ ہے شیعہ ائمہ کا منصب اور امامت کی اصل تصویر۔

بادشاہ: لاحول ولا قوۃ الا بالله یہ تو نرا الحاد ہے اس کے لئے تو کفر کا لفظ بھی بہت ہلکا ہے۔

بادشاہ: دین کے چند بنیادی عقائد کے متعلق کسی قدر اظہارِ خیال ہوچکا اب میں چاہتا ہوں کہ آپ حضرات نفسِ دین کی حقانیت کے متعلق اظہارِ خیال کریں عباسی صاحب پہلے آپ آئیے!

عباسی: حضور والا! دین اور مذہب کے اجزائے ترکیبی دو ہیں

اول مقصد زندگی کا تعین۔

دوم حصول مقصد کے لیے زندگی گزارنے کا انداز۔

دنیا میں دو قسم کے مذہب پائے جاتے ہیں اول وہ جو انسان نے اپنی ذہنی کاوش سے تیار کیے۔

دوم وہ جو انسان کو خالقِ کائنات کی طرف انبیاء کی وساطت سے بذریعہ وحی ملے۔

اسلام وہ دین ہے جو انسان کو خالق کی طرف سے انبیاء علیہم السلام کی وساطت سے ملا جس کی آخری مکمل اور ابدی صورت محمد رسول اللہﷺ کے ذریعے عالمِ انسانیت کو پہنچی لفظ مذہب کے مفہوم میں بالعموم مقصد اور ذریعہ دونوں کا منتہائے مقصودِ دنیوی زندگی کی کامیابی ہے مگر دین کے مفہوم میں زندگی کا تصور ایسا جامع ہے کہ اس کے دو حصے بنتے ہیں۔

ایک دنیوی زندگی جو عارضی ہے اور ذریعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

دوسرا اُخروی زندگی جو ابدی ہے اور مقصد کا درجہ رکھتی ہے اس لیے دین کے تصور میں جامعیت پائی جاتی ہے خالق کی طرف سے دین کے بارے میں اعلان ہے کہ 

ان الدین عند اللہ الاسلام (سورۃ آل عمران آیت نمبر 19)

: یعنی اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام ہے۔

(1) اسلام میں مقصد حیات اللہ کا مقرر کردہ ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۝ (سورۃ الذاریٰت آیت نمبر 56)۔

  یعنی تمہاری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ جو میں کہوں وہ کرو۔

2)اور ذریعہ کا تعین بھی خود خالق نے کر دیا کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ الخ (سورۃ الاخزاب آیت نمبر 21) یعنی تمہارے لیے زندگی گزارنے کا مثالی نمونہ محمد رسول اللہﷺ کی سنت ہے۔

3)اسلام نے بہت زیادہ یہ تعلیم بھی دی ہے کہ انبیاء علیہ السلام کی زندگی میں کچھ پہلو ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں خصائصِ نبوی کہا جاتا ہے وہ صرف نبی کے لیے ہی ہوتی ہے امت اس عمل میں مستثنیٰ ہیں اس لیے نبی کریمﷺ نے ایک ایسی جماعت تیار کی جو ہر صورت میں اُمت کے لیے مثالی زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے نبی کریمﷺ نے اعلان فرمایا کہ اصحابی کا لنجوم بایھم اقتدیتم اھدیتم ۔

اور اللہ کریم نے اعلان فرما دیا کہ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۝ (سورۃ التوبہ آیت نمبر 100)۔

(4) اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ دنیا امتحان گاہ ہے ہر شخص کے ذمے اللہ کی طرف سے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اس دارالعمل سے جانے کے بعد اس کی کارکردگی کو جانچا جائے گا اور ہر شخص کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا۔وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىؕ الخ (سورۃ فاطر آیت نمبر 45)

صفحہ 11 از 16