ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 12 از 16

(5) نبی کریمﷺ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد امت کے ہر فرد پر لازم ہے کہ اپنی بساط بھر اللہ کے پیغام کو اللہ کے بندوں تک پہنچاتے كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ الخ (سورۃ آل عمران آیت نمبر 110) یہ امور اسلام کے حقانیت اور اس کی جامعیت کا خلاصہ کہے جا سکتے ہیں۔

علوی: اسلام کے حقانیت کے جو دلائل عباسی صاحب نے دیے ہیں وہی ہمارے دین شیعہ کی جو عین اسلام ہے حقانیت کی دلیل ہے البتہ عباسی صاحب نے ایک اہم پہلو چھوڑ دیا ہے وہ یہ کہ ہمارے دین شیعہ کے مطابق نبی کے بعد قابلِ اتباع اس کا وصی ہوتا ہے اس لئے جب تک امامت کا عقیدہ نہ اپنایا جائے اسلام و ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی ہم امام کے بغیر کسی کو قابلِ اتباع نہیں سمجھتے لہٰذا ہمارا دین حق ہے کامل ہے جامع ہے۔

عباسی: حضور والا! علوی صاحب میں اجمال پر اکتفاء کیا ہے حالانکہ ان کی جامعیت کا عقیدہ تفصیل طلب ہے۔

آپ نے جو یہ فرمایا کہ نبی کے بعد قابلِ اتباع اس کا وصی ہوتا ہے اس میں وہ ذرا سا تقیہ کر گئے ہیں ان کا عقیدہ نبی کے بعد کا نہیں بلکہ اصل مطاع صرف امام ہوتا ہے چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ:

ان العلم لیس ما یحصل بالسماع وقراۃ الکتب وحفظھا فان ذلک تقلید وانما العلم ما یفیض من عند اللہ سبحانه علی قلب المؤمن یوما نیوما وساعۃ ساعۃ فیکشف بہ من الحقائق ما تطمئن بہ النفس وینشرح لہ الصدور وتنور القلب والحاصل ان ذلک مؤکدہ و مقرر عما علم مسابقا یوجب مزید الایمان والیقین والکرامۃ الشرف فا فاضۃ العلم علیھم (ائمۃ) بغیر واسطۃ المرسلین والنبین بل بغیر واسطۃ الملائکۃ۔

یعنی علم وہ نہیں جو کتابوں سے پڑھ کر یا سن کر یاد کیا جاتا ہے یہ تو تقلید ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر آن مومن کے دل پر فیضان کی صورت میں نازل ہوتا ہے اس علم سے چیزوں کے حقائق واضح ہوتے ہیں شرح صدور ہوتا ہے منور ہوتا ہے۔اس علم کا فیضان اماموں کے دلوں پر اس طرح ہوتا ہے کہ کسی نبی یا رسول یا فرشتہ کا واسطہ درمیان میں نہیں ہوتا۔

(1) ظاہر ہے کہ اللہ کی کتاب کو پڑھ کر یا اللہ کی رسول کی باتیں سن کر جو دین سیکھا جائے وہ تو تکلید ہوئی۔

(2) امام کو رسول کے واسطہ کی ضرورت نہیں اسے براہِ راست اللہ سے ہدایت اور علم ملتا ہے شیعہ کا امام اللہ کے رسول سے بے نیاز ہے ان کے سیدنا موسیٰ کاظم کا ارشاد ہے:

فبلغ علمنا علی ثلاثۃ وجوہ ماض و غابر و حارث فاما الماضی قمفسر واما الغابر فمز بور واما الحارث فقذف فی القلوب و نقرنی السماع وھو افضل علمنا۔

خلاصہ یہ کہ اصل اماموں کا علم وہ ہے جو اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی اماموں کے دلوں اور کانوں میں ڈالا جاتا ہے۔

اور ان کے سیدنا جعفر کا مذہب ہے۔

ما جاء به علی اخذ به وما نھی انتھی عنه۔

یعنی میرا مذہب یہ ہے کہ اوامر اور نواہی وہ ہے جو سیدنا علیؓ نے مقرر کیےدینِ اسلام اور دینِ شیعہ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ اسلام میں اوامر و نواہی کا ماخذ اور مرکز رسول ہے اور دینِ شیعہ میں یہ حیثیت تمام کی ہے جو رسول کے واسطہ سے بے نیاز ہے اس لیے دینِ شیعہ کو اسلام کا نام دینا علوی صاحب کی زیادتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں ادلہ شرعیہ چار ہیں۔

اول: احکام بذریعہ وہی ہوں گے پھر وحی کی دو صورتیں ہیں وہی جلی یا متلویہ قرآنِ کریم ہے۔

دوم وحی خفی یا غیر متلو۔

دوم: یہ حدیثِ رسولﷺ ہے یعنی پہلا مآخذ قرآن دوسرا حدیث۔

سوم: وہ حکم دینی اجتہاد اور رائے سے ثابت ہے اگر یہ اجتہاد قرآن و سنت سے مستبنط کُل کی رائے ہے تو اسے اجماع کہتے ہیں۔

چہارم: اگر یہ اجتہاد ماخود از کتاب و سنت بعض کی رائے ہے تو وہ قیاس کہلاتا ہے۔

اور اگر کوئی حکم کتاب و سنت سے ماخوذ نہیں تو وہ مردود ہے مگر شیعہ کے نزدیک احکامِ ذندگی کے لئے مرکز و محور امام ہے کتابُ اللہ اور سنتِ رسولﷺ سے کوئی واسطہ نہیں احکام صرف امام سے لئے جائیں گے۔

تیسری بات یہ ہے کہ دین شیعہ سرے سے کوئی دین یا مذہب ہی نہیں بلکہ یہ ایک خفیہ سیاسی تحریک ہے اس لئے اس کو خفیہ رکھنے کا پورا پورا اہتمام کیا گیا ہے۔ مثلاً:

(1) قال ابو عبداللہ یا سلمان انکم علی دین من کتمه اعزہ اللہ ومن اذاعه اذله اللہ۔

یعنی تم اس دین پر ہو کہ جس نے اسے چھپا رکھا اللہ اسے عزت دے گا اور جو اس دین کو ظاہر کرے گا اللہ اسے ذلیل کرے گا وہ ظاہر ہے کہ ذلت کی زندگی بسر کرنا کون پسند کرتا ہے۔

(2) قال ابو عبداللہ مازال سرفا مکتو ما حتیٰ صارنی یدیٰ ولد کیسان فتحدثوا به فی الطریق وقریٰ۔

یعنی ہماری امامت کا مسئلہ (دین شیعہ کا محور) ہمیشہ پوشیدہ رہا تھا حتیٰ کہ دھوکہ بازوں اور دغا بازوں کی اولاد نے راستوں اور شہروں میں بیان کرنا شروع کر دیا۔

(3) قال ابو جعفر ولایۃ اللہ اسرھا الی جبرئیلؑ واسرھا جبرئیلؑ الی محمدﷺ واسرھا محمدﷺ الی علیؓ واسرھا علیؓ الی من یشاء اللہ ثم انتم قدیعون ذلک۔

یعنی امامت کا مسئلہ ایک پوشیدہ راز تھا جو اللہ نے جبرائیلؑ کو راز میں بتایا جبرائیلؑ نے چپکے سے محمدﷺ کو بتایا اور محمدﷺ نے سرگوشی کے طور پر سیدنا علیؓ کے کان میں کہہ دیا اور سیدنا علیؓ نے راز کے طور پر اسے بتایا جسے اللہ نے چاہا مگر تم (اے شیعہ) ایسے ہو کے اس راز کو ظاہر کر رہے ہو۔

ظاہر ہے کہ یہ راز ظاہر کرنا اللہ کی مخالفت رسولﷺ کی مخالفت اور امام اول کی مخالفت ہوئی۔

(4) قال ابو الحسن موسیٰ بن جعفر یا خلف سر اللہ سر اللہ فلا تذیعوہ ولا تعلمو ھذا الخلق اصول دین اللہ بل ارضوا لھم ما رضی اللہ لھم من ضلال۔

ان کے سیدنا موسیٰ نے فرمایا اے خلف! شیعہ مذہب کے ایک راز ہے اس کو تشہیر مت کرو اور اللہ کے دین کے اصولِ احکام مت بیان کرو بلکہ تم بھی مخلوق کی گمراہی پر راضی رہو جب اللہ ان کی گمراہی پر راضی ہے. 

(5) قال ابو عبداللہ من اذاع علینا حدیثنا سلبه اللہ الایمان۔

ان کے سیدنا جعفر نے فرمایا جس نے ہماری حدیث ظاہر کیں اللہ تعالیٰ اس کا ایمان سلب کر لے گا۔

صفحہ 12 از 16