ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 13 از 16

حضور والا! غور فرمائیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں دین پھیلاؤ تمہاری یہ ڈیوٹی ہے اور ان کے امام فرماتے ہیں دین چھپاؤ ورنہ تمہارا ایمان سلب ہو جائے گا پھر یہ لوگ اپنے مذہب کو اسلام کا نام بھی دیتے ہیں حالانکہ اسلام اور دین شیعہ ایک دوسرے کے بالکل ضد ہیں امر بالمعروف کے فریضہ کو دین سے خارج کرنے کے لیے ان لوگوں نے اللہ کی کتاب میں یہاں تک تحریف کر دی کہ قرآن کہ اصلی لفظ یہ تھے کہ کنتم خیر ائمۃ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بدل کر خیر امۃ بنا دیا۔

علوی: حضور والا! قرآن میں تقیہ کا حکم موجود ہے کہ الا من اکرہ و قلبه مطمئن بالایمان (سورة النخل آیت نمبر 106) جس سے مراد یہ ہے کہ خوف جان ہو تو کلمہ کفر بھی زبان پر لایا جا سکتا ہے۔

عباسی: حضور والا! تقیہ و اکراہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے کہ اکراہ سے رضا مندی سلب ہوتی ہے اختیار باقی رہتا ہے اور یہ عمل وقتی ہوتا ہے۔

پھر اکراہ میں کلمہ کفر زبان پر لانا یہ عزیمت نہیں رخصت ہے اگر زبان پر نہ لائے اور مارا جائے تو عظیم ثواب کا مستحق ہوگا۔

اس کے برعکس شیعہ مذہب میں تقیہ نہ کرے اور مارا جائے تو حرام کی موت مرا پھر تقیہ تو فرض ہے اور ابدی ہے یعنی ان کے امام مہدی کے ظاہر ہونے تک فرض ہے۔

حضور والا! میں علوی صاحب کے اجمال کی تفصیل بیان کر رہا تھا اس سلسلے میں ایک پہلو کی وضاحت ابھی باقی ہے۔

دینِ اسلام میں عقیدہ آخرت اعمال کی جزا و سزا اور ہر شخص کو اپنے کیے کا بدلہ ملنے کا یقین بنیادی عقائد میں سے ہے دین شیعہ میں یہ پہلو اتنا مختلف ہے کہ اس اختلاف کی بجائے تضاد کہنا زیادہ مناسب ہے ان کے امام کے سامنے شیعوں کی بد اعمالیوں کا شکوہ کیا گیا اور اہلِ سنّت کے شوق اطاعت کا بیان کیا گیا تو انہوں نے عقیدہ آخرت کی وضاحت فرما دی۔

اذ کان یوم القیامۃ نزع اللہ عزوجل مسحۃ الایمان منھم (اھل النسة) فردھا الی شیعتنا و نزع ما اکتسبوا من السئیات فردھا الی احدائنا قال (ای راوی) قلت جعلت فداک تؤخذ حسناتھم فقرو الینا تؤخذ سئیاتنا فترد الینا و تؤ ذ سئیاتنا فتود الیھم قال ای واللہ لا الہ الا ھو قلت جعلت فداک اتجدھا فی کتاب اللہ قال نعم یا ابا اسحاق اما تتلوا ھذہ الآیۃ اولئک یبدل اللہ سئیاتھم حسنات۔

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اہلِ سنّت کا ایمان ان سے چھین کر شیعوں کو دے دے گا اور شیعوں کی تمام برائیاں ان سے لے کر سُنیوں کو دے دے گا راوی کہتا ہے میں نے کہا قربان جاؤں کیا سُنیوں کی نیکیاں شیعوں کو اور شیعوں کی برائیاں سُنیوں کو دے دی جائیں گی؟ کیا یہ عقیدہ کتابُ اللہ میں ہے امام نے ایک قسم کھا کر فرمایا اے ابواسحاق کیا تم نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی کہ اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔

اس عقیدہ میں اللہ کی صفتِ عدل کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ تو اپنی جگہ اس امر کا اعتراف بھی ہے کہ شیعہ ایمان سے خالی ہے اور سُنی اس دولت سے مالا مال ہیں جب آخرت کے متعلق یہ عقیدہ ہو تو جی بھر کے برائی کرنے کی آزادی تو یقیناً ہے لیکن اس عقیدہ کے باوجود دین شیعہ کو اسلام کا نام دینے کی جرأت اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اندھیری رات کو روز روشن کے نام سے پکارنے لگے۔

بادشاہ: آپ حضرات کے بیانات سے بلا کسی ادنیٰ شبہ کے واضح ہوگیا کہ شیعہ مذہب کا ماخذ نہ تو قرآن ہے نہ حدیث نہ اس مذہب کا اللہ سے کوئی تعلق ہے نہ رسولﷺ سے واسطہ مگر میں اس مذہب کا ماخذ معلوم کرنا چاہتا ہوں۔

عباسی صاحب کیا آپ اس پر کوئی روشنی ڈال سکیں گے؟۔

عباسی: حضور والا! شیعہ مذہب کہ دو پہلو ایک نمائشی اور ضابطے کی کاروائی دوسرا حقیقی۔

جہاں تک ضابطے کی خانہ پوری کا تعلق ہے اس مذہب کی ابتداء خود انہی کی زبانی سماعت فرمائیں۔

فکان الامام علی ثم کان حسن بن علیؓ ثم کان حسین بن علیؓ ثم کان علی بن الحسین ثم کان محمد بن علی ثم جعفر علیه السلام وکانت الشیعۃ قبل ان یکون ابوجعفر لا یعرفون مناسک حجھم ولا حلالھم ولا حرامھم حتیٰ کان ابوجعفر علیه السلام ففتح لھم و بین لھم مناسک حجھم و حلالھم و حرامھم حتیٰ صار الناس یحتاجون الیھم من بعد ما کانوا یحتاجون الی الناس۔

یعنی پہلے امام سیدنا علیؓ تھے پھر سیدنا حسن بن علیؓ پھر سیدنا حسین بن علیؓ پھر علی بن حسین (زین باقر) پھر محمد بن علی (باقر) پھر جعفر اور محمد باقر سے پہلے شیعہ نہ تو حج کے مناسک جانتے تھے نہ انہیں حلال کا علم تھا نہ حرام کا سیدنا باقر نے ان کے لئے حج کے احکام بیان کئے حلال اور حرام میں تمیز کے مسائل بتائے یہاں تک کہ دوسرے لوگ مسائل دینی میں شیعہ کے محتاج ہوئے جبکہ اس سے پہلے دین کے معاملے شیعہ دوسرے لوگوں کے محتاج تھے۔

حضور والا! آپ جانتے ہیں دین یا مذہب کی ابتداء ہی حلال و حرام اور جائز و ناجائز میں حد فاصل کے تعین سے ہوتی ہے اور یہ بات سیدنا باقرؒ سے شروع ہوئی یعنی شیعہ مذہب سیدنا باقرؒ سے شروع ہوا ان سے پہلے چار اماموں کے نام بطورِ تبرک یا خانہ پُری کے لکھ دیے گئے انہوں نے حلال و حرام میں فرق بھی شیعوں کو نہیں سکھایا اگر اس مذہب کا اسلام سے کچھ تعلق ہوتا تو بات واضح ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنی 23 برس کی نبوی زندگی میں تمام مسائل دینی اپنی امت کو سکھا دیئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا اعلان حُجتہُ الوداع کے موقع پر فرمادیا کہ: 

 ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِينً۬ا‌ۚ الخ (سورة المآئدہ آیت نمبر 3)۔ 

شیعہ کا مذہب اگر اسلام ہوتا تو یہ کہنے کی حاجت نہ تھی کہ پانچویں امام نے آ کر ہمیں دین کی بنیادی باتوں کی تعلیم دی اور شیعہ کو یہ اعتراف کرنا یا اس حقیقت کا اظہار کرنا پڑا کہ دین شیعہ اماموں سے چلا ہے۔

لیکن یہ بھی صرف دعویٰ ہے اس کی حقیقت بھی اتنی ہے کہ شیعہ مذہب ان روایات پر مبنی ہے جو ائمہ شیعہ سے منسوب کر کے مختلف راویوں نے بیان کی ہیں گویا دین شیعہ کی حقانیت کا مدار راویوں کی ثقاہت اور صداقت پر ہے ان راویوں میں سرِفہرست دو بزرگ ہیں زرارہ اور ابو بصیر جن سے قریباً دو تہائی دینِ شیعہ مروی ہے اس لئے ان کے متعلق ان کے ائمہ کی شہادت ملاحظہ ہو۔

صفحہ 13 از 16