ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 14 از 16

قال ابو عبداللہ زرارہ شرمن الھیود و انصاریٰ ومن قال ان اللہ ثالث ثلاثه۔

یعنی امام نے فرمایا زرارہ یہود و نصاریٰ سے بھی برا ہے اور ان لوگوں سے بھی برا ہے جو تثلیث کے قائل ہیں۔

قال ابو عبداللہ لعن اللہ زرارہ لعن اللہ زرارہ لعن اللہ زرارہ۔

یعنی امام نے تین دفعہ تاکید سے فرمایا کہ زرارہ ملعون ہے۔

حالانکہ زرارہ وہ شخص ہے قال اصحاب زرارہ من ادرک زرارہ بن اعین فقد ادرک ابا عبداللہ یعنی جسے زرارہ مل گیا گویا اسے سیدنا جعفر مل گیا۔

ابوبصیر کا حال یہ ہے کہ امام کو لالچی اور رشوت لینے والا سمجھتا ہے اسی طرح ان کے راوی محمد بن مسلم یزید بن معاویہ ہشام بن سالم اور جابر جعفی وغیرہ ان راویوں کو امام جعفر وغیرہ ائمہ نے ملعون اور کذاب کے القاب دیے حاصل یہ شیعہ مذہب کا مدار ان راویوں کی روایت پر ہے جن کو خود ائمہ نے ملعون اور کذاب کے القاب سے نوازا ہے بہرحال ان روایات کی مدد سے شیعہ مذہب کا وہ پہلو تیار کیا گیا جس کی بنا پر یہ کہا جا سکے کہ یہ واقعی ایک مذہب ہے۔

اس کا دوسرا اور حقیقی پہلو یہ ہے کہ ایک سیاسی اور خفیہ تحریک ہے جو یہود نے دینِ اسلام کے خلاف اسلام کے نام سے ایک کفر ایجاد کیا ہے اس اجمال کی تفصیل یہ ہے۔

اس سازش کا بانی عبداللہ ابنِ سباء یہودی ہے جس کے متعلق شیعہ کا بیان یہ ہے کہ: 

وحکی جماعۃ من اھل العلم من اصحاب علی علیه السلام ان عبداللہ بن سباء کان یھودیا فاسلم و والی علی علیه السلام کان یقول وھو ولی یھودیۃ فی یوشع بن نون وصی موسیٰؑ بالغلو فقال فی اسلام بعد وفات رسول اللہﷺ فی علیؓ مثل ذلک وکان اول من اشتھر بالقول بفرض امامۃ علیؓ واظھر البرأۃ من اعدائه و کاشف مخالفیه واکفر فمن ھناک قال من خالف الشیعۃ اصل التشیع والرفض ماخوذ من الیھودیۃ۔

یعنی اصحابِِ سیدنا علیؓ میں سے اہلِ علم نے بیان کیا ہے کہ عبداللہ ابنِ سباء یہودی تھا پھر وہ اسلام کا دعویٰ کرنے لگا اس نے سیدنا علیؓ سے محبت کا دعویٰ کیا وہ یہودیت کے زمانے میں یوشع بن نون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصی کہتا تھا دعویٰ اسلام کے بعد وہ غلو کر کے سیدناعلیؓ کو نبی کریمﷺ کا وصی کہنے لگا یہ عبداللہ ابنِ سباء پہلا شخص تھا جس نے امامتِ سیدنا علیؓ کے عقیدہ کو فرض قرار دے کر اسے شہرت دی ان کے دشمنوں سے تبراء کیا انہیں کافر کہا اس وجہ سے شیعہ کے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ شیعہ مذہب دراصل یہودیت کی ایک شاخ ہے۔

اس اعتراف سے ظاہر ہے کہ شیعہ مذہب کا بنیادی عقیدہ سیدنا علیؓ کو نبی کریمﷺ کا وصی تسلیم کرنا ہے پھر ان کی امامت کا عقیدہ رکھنا فرض ہے پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص خلفائے ثلاثہؓ کو کافر کہنا ہے اور یہ تینوں عقیدے اسی یہودی کی ایجاد ہیں اس سے پہلے کسی کا یہ عقیدہ نہیں تھا۔

اس کا پسِ منظر یہ ہے کہ اسلام نے یہودیت کی بیخ کنی کی اور یہود نے محسوس کر لیا کہ سیاسی میدان میں اسلام کا مقابلہ ممکن نہیں اس لیے زیرِ زمین کوئی ایسی تحریک چلائی جائے کہ اسلام کی نظریاتی استحکام کو کھوکھلا کیا جا سکے یہود نے اس غرض کو پورا کرنے کے لیے عبداللہ ابنِ سباء کا انتخاب کیا اس نے اپنے مسلمان ہونے کا دعویٰ کیا مگر پہلا قدم یہ اٹھا یا کہ نبی کریمﷺ کی شخصیت کو ثانوی بلکہ کوئی حیثیت نہ دیتے ہوئے سیدنا علیؓ کی شخصیت کو سامنے لا کر ان کی محبت کا دعویٰ کیا اور قبائلی عصبیت کو زندہ کر کے اسے ہوا دی اور اسلام کے نظامِ خلافت میں یوں نقب لگائی کے اصل حق سیدنا علیؓ کا تھا باقعی غاصب ہے اور معاذ اللہ کافی ہیں۔

شیعوں کا دوسرا اعتراف:

عبداللہ ابنِ سباء کان فمن اظھر الطعن علی ابی بکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و الصاحبۃ وتبراء منھم وقال ان علیا علیھم السلام امرہ بذلک فاخذہ علی فسأله عن ذلک قوله ھذا فاقر به فامر لقتله فصاح الناس الیه یا امیر المومنین اتقتل رجلا یدعوابی حبکم اھل البیت والی ولا تیک والبرأۃ من اعدائک نصیرہ الی مدائن۔

یعنی عبداللہ ابنِ سباء ان لوگوں میں سے تھا جس نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ و سیدنا عثمانؓ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعن طعن کرنا شروع کیا اور تبراء بازی کی اور یہ دعویٰ کیا کہ مجھے سیدنا علیؓ نے ایسا کرنے کا حکم دیا سیدنا علیؓ کو اطلاع ملی تو آپؓ نے اسے گرفتار کیا اور اس سے پوچھا کہ واقعی اس نے ایسا کہا تو اس نے اس کا اقرار کیا تو اس نے اس کا اقرار کیا تو آپؓ نے اسے قتل کر دینے کا حکم دیا یہ سن کر اس کی پارٹی کے لوگ چیخ اٹھے کہ کیا آپؓ اس شخص کو قتل کرتے ہیں جو آپؓ کی محبت کا دعویٰ اور آپؓ کی ولایت کے عقیدہ کی دعوت دیتا ہے اور آپؓ کے دشمنوں پر تبراء بازی کرتا ہے سیدنا علیؓ نے مجبور ہو کر اسے مدائن کی طرف جلا وطن کر دیا۔

اس سے ظاہر ہے کہ سیدنا علیؓ نے وصی اور امامت کے عقیدہ کو ایسا جرم قرار دیا جس کی سزا قتل ہے۔

دوسری بات یہ ظاہر ہے کہ اس نے اپنے ہم خیال لوگوں کی جماعت تیار کر لی جن کی اجتماعی قوت سیدنا علیؓ کو یہاں تک مجبور کر چکی تھی کہ وہ اپنے شرعی فیصلوں کو نافذ بھی نہیں کر سکتے تھے۔

تیسری بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تخریبی کاروائیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے محبت اہلِ بیت کے نعرے سے خوب کام لیا۔

شیعہ کا تیسرا اعتراض

ولما بلغ عبداللہ بن سباء نقی علی بالمدائن قال للذی نعاہ کذبت لو جئنا برماغهٖ سبعین مرۃ واقمت علی قتله سبعین عدلا لعلمنا انه لم یمت ولم یقتل ولا یموت حتیٰ یملک الارض۔

جب مدائن میں عبداللہ ابنِ سباء کو سیدنا علیؓ کے شہید ہونے کی اطلاع ملی تو خبر دینے والے سے کہا تم جھوٹ کہتے ہو اگر تم سیدنا علیؓ کا دماغ نکال کر بھی لاؤ اور اس پر 70 عادل گواہ بھی پیش کر دو تو میں نہیں مانتا سیدنا علیؓ جب تک ساری دنیا کے حکمران نہ بن جائیں وفات نہیں پائیں گے۔

شیعہ کے ان بیانات سے اظہر من الشمس ہے کہ

صفحہ 14 از 16