ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 15 از 16
  1. امامت کا عقیدہ عبداللہ ابنِ سباء کی ایجاد ہے۔
  2. امام کا مفترض الطاعتہ ہونا۔
  3. خلفائے ثلاثہؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر لعن طعن کرنا۔
  4. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سیدنا علیؓ کا دشمن قرار دینا۔
  5. رجعت کا عقیدہ ایجاد کرنا۔
  6. محبت اہلِ بیت کے نعرہ کے پردے میں اسلام کے خلاف تخریبی کاروائی کرنا۔

یہ سب اس عبداللہ ابنِ سباء یہودی کی ایجاد ہے اور شیعہ مذہب کا تانا بانا ان بنیادی عقائد سے تیار کیا گیا ہے۔

حضور والا! شیعہ مذہب کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کی چند ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو اور کہیں نہیں ملیں گی۔ مثلاً 

(1) شیعہ مذہب کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ:

 اللہ رسول اللہﷺ کی پسند کے خلاف نفرت کا جذبہ پیدا کرنا اور اسے ہوا دینا۔

اللہ تعالی نے فرمایا:اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْۙ-اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ۝ (سورة التوبہ آیت نمبر 20)۔

 شیعہ مذہب کا اصول یہ ہے کہ یہی لوگ سب سے پست اور ناکام ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے:اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ الخ (سورِة الحجرات آیت نمبر 3)۔ 

کہ اللہ نے ان کا امتحان کر لیا ان کے دل تقویٰ سے لبریز ہیں۔

شیعہ کہتے ہیں کہ یہ بظاہر مسلمان تھے ان کے دل میں کفر تھا۔

اللہ تعالی فرماتے ہیں: وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَ كَانُوْۤا اَحَقَّ بِهَا وَاَهْلَهَاؕ الخ (سورة الفتح آیت نمبر 26)۔

کہ تقویٰ ان کے قلوب کی لازمی صفت ہے اور یہی لوگ اس کے زیادہ حقدار اور اہل ہیں۔

شیعہ کہتے ہیں یہی لوگ منافق تھے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ ۝ فَضْلًا مِنَ اللّٰهِ (سورة الحجرت آیت نمبر 6 7)کہ ان کے دلوں کو ہم نے ایمان سے مزین کیا کفر اور عصیان سے محفوظ رکھا اور یہی لوگ ہدایت کے ستارے ہیں۔

شیعہ کہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں ایمان سرے سے تھا ہی نہیں نبی کریمﷺ فرماتے ہیں: اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ستاروں کی مانند ہے کسی ایک کی بھی اتباع کر لو فلاح کو پہنچ جاؤگے۔

شیعہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سارے کے سارے گمراہ ہیں اور جھوٹے ہیں اکثر نے اپنا جھوٹ نفاق کے پردے میں چھپائے رکھا جو بچے رہے انہوں نے اپنا جھوٹ تقیہ کی چادر میں لپیٹے رکھا۔

(2) شیعہ مذہب کی دوسری خصوصیت یہ ہے:

کہ برائی کو عبادت کا درجہ دے کے مسلمانوں کو اخلاقی اور دینی اعتبار سے کھوکھلا کر دیا جائے چنانچہ جھوٹ جو دنیا کے ہر مذہب میں برائی شمار ہوتا ہے ان کے ہاں جھوٹ اتنی بڑی عبادت ہے کہ دین شیعہ کا 9/10 حصہ جھوٹ میں مضمر ہے زنا ہر جگہ اور ہر زمانے میں گھناؤنا اخلاقی جرم ہے مگر شیعہ کے ہاں اس کا یہ مقام ہے کہ عمر بھر میں ایک دفعہ کرو تو حسین کے برابر دو دفعہ کرو تو حسن کے برابر تین دفعہ کرو تو علی کے برابر اور چار دفعہ کرو تو رسول کے برابر درجہ ہے۔

گالی گلوچ کرنا ہمیشہ برائی شمار ہوتا ہے مگر شیعہ کے نزدیک اہلِ حق کو گالی دینا بہت بڑی عبادت ہے۔

(3) تیسری خصوصیت یہ ہے کہ: 

برائی کے لیے ایک نئی اصطلاح وضع کرو پھر اسے عبادت قرار دو چنانچہ انہوں نے جھوٹ کے لیے تقیہ کہ اصطلاح وضع کی زنا کے لیے متعہ کی گالی گلوچ کے لیے براءت کی اور اس وصف کی صورت بعینہٖ یہی ہے کہ کتے کا نام بکری رکھ دو اور بسم اللہ پڑھ کے خوب مزے سے کھاؤ۔

(4) چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ:  

دنیا بھر میں یہ اصول مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر مصلح ہر مفکر اور ہر نبی کے مخاطبین اول جو اس کے گرد جمع ہوں اور جن کی وہ تربیت کرے وہ اس جماعت کے بہترین اور مثالی افراد ہوتے ہیں۔

شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اسلام میں بدترین وہ لوگ تھے جن کی نبی کریمﷺ نے 23 برس تک تربیت فرمائی اچھا آدمی اگر کوئی پایا جاتا ہے تو وہ اس جماعت کے باہر مل سکتا ہے اس کے اندر کوئی نہیں۔

(5) شیعہ مذہب کی پانچویں خصوصیت یہ ہے:

 کہ یہ جن حضرات کو اپنا امام اور معصوم کہتے ہیں انہی کو کافر بھی کہتے ہیں اور انہی کے قتل کے درپے رہتے ہیں ان کی توہین بھی کرتے ہیں چنانچہ سیدنا علیؓ کو خود شیعہ نے کافر بھی کہا اور قتل بھی کیا عبدالرحمٰن ابنِ ملجم نے سیدنا علیؓ سے بیعت کی اور بیعت کر کے سیدنا علیؓ کو شہید کیا۔

دوسرے سیدنا حسنؓ نے جب سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صلح کی تو شیعوں نے کہا واللہ یرید ان یصالح معاویۃؓ ویسلم الامر الیه کفرو اللہ الرجل کما کفر ابوہ فانتبھوا فسطاطه حتیٰ اخذوا مصلاہ من تحته ونزع مطرفه عبدالرحمٰن بن جعال وطعنه جراح بن سنان فی فخذہ۔

شیعوں نے کہا خدا کی قسم سیدنا حسنؓ کا ارادہ ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ سے صلح کر لے اور حکومت اسے دے خدا کی قسم سیدنا حسنؓ کافر ہو گیا جیسے کہ اس کا باپ کافر ہو گیا تھا پھر انہوں نے سیدنا حسنؓ کے خیمے پر حملہ کر دیا ان کے نیچے سے مصلیّٰ گھسیٹ لیا ان کی چادر چھین لی اور ان کی ران کو نیزہ مار کے زخمی کر دیا اور سیدنا حسنؓ کو یا مزلل المؤمنین یعنی مومنوں کو ذلیل کرنے والا کے نام سے پکارتے تھے تیسرے سیدنا حسینؓ کو 12 ہزار خط لکھ کر کوفہ میں بلایا اور خود پانی بند کر کے اپنے ہاتھوں سے ذبح کیا اور جھوٹ موٹ سے ماتم کرنے کا ڈرامہ کرنا شروع کر دیا چنانچہ زین العابدین نے یہ منظر دیکھ کر کہا ان ھؤلاء یبکون ومن قتلنا غیرھم کہ یہ لوگ ماتم جو کر رہے ہیں تو بتاؤ کہ ان کے بغیر ہمارا قاتل کون ہے۔

یعنی چوتھے امام کی شہادت یہ ہے کہ ہمیں شیعوں نے قتل کیا اور سیدہ فاطمہؓ دخترِ سیدنا حسینؓ نے تو کوئی بات ڈھکی چھپی نہ چھوڑی کہا یا اھل الکوفۃ یا اھل المکروا لغدد والخیلا کزبتمونا و کفرتمو فاورایتم قتالنا حلالا واھوالنا نبھا کانا اولاد المترک کما قتلتم جدنا بالامس وسیوفکھم یقطر من ومائنا اھل البیت لحقد متقدم قرت بذالک عیونکم و فرحت قلوبکم اجتراء منکم علی اللہ ومکرتم واللہ خیرا الماکرین۔

صفحہ 15 از 16