ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 2 از 16

بادشاہ: جہاں احقاقِ حق ضروری ہے وہاں ابطالِ باطل بھی لازمی ہے آپ جانبین کہ علماء کو جمع کریں میں اس بات کو گومگو کی حالت میں رکھنا نہیں چاہتا۔

وزیر نے بادشاہ کا حکم قطعی سن کر جانبین کے سر کردہ علماء کو دعوت دے دی اور اس کے بعد علماء کو حاضر ہونے کا حکم بھیج دیا۔

مقامِ بحث: مدرسہ نظامیہ

شرائط:

  1. جانبین بولنے کے لیے اپنے میں سے ایک عالم کو منتخب کریں گے وہ دلائل کے لیے دوسروں سے مدد لے سکیں گے مگر بولے گا وہی۔
  2.  یہ بحث تین روز تک جاری رہے گی۔
  3.  نماز اور کھانے کے اوقات اور حوائج ضروریہ کے علاوہ سارا دن بحث جاری رہے گی۔
  4. علماء مجھے مخاطب کر کے دلائل پیش کریں گے۔
  5. فریقین کی مستند اور معتبر کُتب سے حوالے دیے جائیں گے۔
  6. نظامُ الملک اس کی کاروائی تحریر کریں گے۔

نظامُ الملک نے علماء کو افتتاحی تقریر کرتے ہوئے تاکید کی اپنے مقام اور منصب کا بھی خیال رکھیں اور اخلاق سے گری ہوئی کوئی بات کسی کے حق میں زبان پر نہ آنے پائے۔

اہلِ سنّت کے علماء نے عباسی صاحب کو اور شیعہ نے علوی صاحب کو اپنا نمائندہ بنایا۔

عباسی: حضور والا پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ حق اور باطل کا معیار کیا ہوگا قولِ فصیل کس کا قول ہوگا؟

علوی: حضور والا قرآنُ و حدیث ہی تو معیار ہیں اور یہی شریعت کے بنیادی ماخذ ہیں۔

عباسی: حضور علوی صاحب نے بات تو اصولی کہی مگر اس میں ایک مشکل پیش آئے گی۔

بادشاہ: وہ کونسی؟۔

عباسی: حضور جو قرآن مسلمانوں کے پاس ہے اس پر تو شیعہ کا ایمان نہیں اور جس قرآن پر شیعہ کا ایمان ہے وہ کسی نے دیکھا نہیں وہ ہاتھوں ہاتھ اماموں کو ملتا رہا بارہواں امام اسے لے کر غارمیں چھپ گیا اب کس قرآن کو معیار قرار دیں گے۔

علوی: حضور والا عباسی صاحب کی بات کو میں الزام کہوں یا بہتان مگر حقیقت نہیں کہہ سکتا ہم شیعہ تو اس قرآن پر ایمان رکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔

عباسی: حضور والا علوی صاحب تقیہ کا ثواب حاصل کرنے کے لیے یہ فرما رہے ہیں لیکن ایک سوال قابلِ غور ہے کہ علوی صاحب سچے ہیں یا ان کے امام؟۔

علوی: حضور والا ہم تو ائمہ اطہار کی جوتیوں کی خاک ہیں ان کو معصوم عن الخطاء مانتے ہیں۔

عباسی: حضور والا سیدنا باقر فرماتے ہیں:

لو قری القرآن کما انزل لا یغتنا فیه مسیمن۔

قرآن جس طرح نازل ہوا اگر اسی طرح پڑھا جاتا تو ہمارے نام اس میں موجود پاتے۔

اس قرآن میں کسی امام کا نام نہیں۔

پھر سیدنا باقر فرماتے ہیں:

لولا انه زید فی القرآن اونقص ماخفی حقنا علی ذی حجی۔

اگر قرآن میں کمی زیادتی نہ کی جاتی تو ہمارا حق کسی ذی عقل سے مخفی نہ رہتا۔

امام فرماتے ہیں قرآن میں کمی بھی ہوئی اور زیادتی بھی ہوئی۔

امام فرماتے ہیں:

ان القرآن الذی جاء به جبرئیلؑ الی محمد سبعۃ عشر الف آیۃ۔

یعنی جو قرآن جبرائیلؑ حضرت محمدﷺ کے پاس لے کر آئے تھے وہ 17 ہزار آیت کا تھا۔

موجودہ قرآن تو اس کا کوئی تیسرا حصہ بنتا ہے اگر یہ تسلیم کرتے ہیں کہ امام سچے ہیں تو علوی صاحب کے متعلق وہی لفظ استعمال ہوسکتا ہے جو سچ کا برعکس ہو۔

بادشاہ: کیوں علوی صاحب آپ اپنے امام کے کسی قول کی تردید کرسکتے ہیں؟

علوی: سر جھکائے خاموشی سے نگاہیں نیچے کیے رہے۔

عباسی: حضور والا علوی صاحب کی خاموشی ہی جواب ہے کہ امام نے سچ فرمایا لہٰذا اس سے دو امور ثابت ہوئے۔

اول: یہ کہ شیعہ کا قرآن پر ایمان نہیں۔

دوئم: یہ کہ شیعہ مذہب قرآن سے ماخوذ نہیں اس کا ماخذ کوئی اور ہے۔

حضور والا دین کا دوسرا ماخذ حدیث ہے مگر حدیث روایت ہے جس کا پہلا راوی لازماً صحابی ہونا چاہیے اور شیعہ کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سارے کے سارے جھوٹے ہیں (معاذ اللہ)۔

علوی: حضور والا ہم لوگ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جھوٹا نہیں کہتے بعض کو کہتے ہیں۔ لہٰذا عباسی صاحب کی بات کو اگر جھوٹی کہہ دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

عباسی: حضور والا یہ سب کو جھوٹا کہتے ہیں فرق یہ ہے کہ ان لوگوں نے جھوٹ کو دو اصطلاحوں میں بانٹ دیا ہے۔

بادشاہ: جھوٹ بہر حال جھوٹ ہے دو اصطلاحوں کا کیا مطلب؟۔

عباسی: حضور والا ان کے سیدنا باقر کے دو قول پیش کرتا ہوں۔

عن ابی جعفر قال کان الناس اھل الردۃ بعد النبیﷺ الاثلاثۃ قلت من الثلاثۃ قال المقدادؓ و ابوذرؓ و سلمانؓ۔ 

یعنی سیدنا باقر نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ کے بعد تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہوئے سوائے تین کے میں نے پوچھا وہ کون فرمایا سیدنا مقدادؓ و سیدنا ابوذرؓ اور سیدنا سلمانؓ۔

دوسری روایت:

عن ابی جعفر قال ان رسول اللہﷺ لما قبض صار الناس کلھم اھل جاھلیۃ الااربعۃ علی والمقدادؓ و سلمانؓ و ابوذرؓ۔

پہلی روایت میں تو سیدنا علیؓ کو بھی ارتداد کا نشانہ بنا گئے دوسری روایت میں ذرا احتیاط برت لی اور سیدنا علیؓ کو ارتداد سے بچا گئے مگر ایک چوک پھر بھی ہوگئی کہ الناس کُلّہم کا اطلاق اگر سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا حسنینؓ پر بھی ہوسکتا ہے تو یہ تین حضرات بقول سیدنا باقر ارتداد سے نہ بچ سکے۔

بہرحال 3 یا 4 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک طرف اور باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دوسری طرف بڑے گروہ نے بقول شیعہ جو جھوٹ اختیار کیے رکھا اس کا اصطلاحی نام نفاق ہے۔

چھوٹے گروہ کے جھوٹ کے لیے شیعہ نے ایک اپنی اصطلاح ایجاد کی اور وہ ہے تقیہ۔

علوی: حضور والا یہ سَراسَر بہتان ہے کہ تقیہ کا معنیٰ جھوٹ نہیں ہے تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی انسان کو خطرہ ہو تو زبان پر جھوٹ لائے اور دل میں صدق ہو صرف زبان پر جھوٹ ہو معلوم ہوا کہ تقیہ میں دو پہلو ہوتے ہیں ایک صدق کا جو دل میں ہے دوسرا کذب کا جو زبان پر ہے کتنا ظلم ہے کہ صدق کا جو پہلو ترک کر دیا جائے صرف کذب کا پہلو لے لیا جائے کہ تقیہ کا معنیٰ جھوٹ ہے یہ بڑی بے انصافی ہے۔

عباسی: حضور والا ان بیچاروں کی مصیبت یہ ہے کہ ان کے امام کچھ کہتے ہیں یہ کچھ کہتے ہیں جتنے منہ اتنی باتیں۔

قال ابو عبداللہ التقیۃ من دین اللہ قلت من دین اللہ قال ای واللہ من دین اللہ لقد قال یوسف ایتھا العیر انکم لسارقون واللہ ماکانو! سرقوا شئیاً ولقد قال ابراھیم انہ سقیم واللہ ماکان سقیما۔

صفحہ 2 از 16