ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 3 از 16

امام نے تقیہ کہ دین ہونے کے دو ثبوت دیے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اہلِ قافلہ کو چور کہا حالانکہ وہ چور نہیں تھے۔

کوئی پوچھے کہ جو چور نہ ہو اس کو چور کہنا جھوٹ نہیں تو اسے کیا کہا جاتا ہے پھر یہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کون سا خطرہ لاحق تھا کہ امام نے اس جھوٹ کا نام تقیہ رکھا امام تو صاف فرما رہے ہیں کہ جس کو ساری مخلوق جھوٹ کہتی ہے اس کا نام تقیہ ہے اور محبّان امام کہتے ہیں جھوٹ اور چیز ہے اور تقیہ اور چیز ہے۔

حضور والا شیعہ کی ان دونوں اصطلاحوں میں ایک اور فرق بھی ہے کہ تقیہ والا گروہ تقیہ کو صرف جائز ہی نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کی عبادت بھی سمجھتا ہے۔

(1): قال ابو عبداللہ یا معلی ان التقیۃ من دینی ومن دین اٰبائی ولا دین لمن لا تقیّۃ له۔

یعنی تقیہ میرا دین ہے اور میرے آباء کا دین ہے اور جو تقیہ نہیں کرتا اس کا کوئی دین ہی نہیں۔

(2): عن ابی عبداللہ ان تسعۃ اعشار الدین فی التقیّۃ ولا دین لمن لا تقیۃ له۔

یعنی دین میں سے 9 حصے دین تقیہ میں ہے اور جو تقیہ نہیں کرتا وہ بےدین ہے۔

تقیہ اتنی بڑی عبادت ہے کہ آدمی اگر صرف جھوٹ ہی بولتا رہے تو 9 حصّے دین پر عمل ہوگا باقی جتنی عبادات ہیں وہ صرف دین کا دسواں حصّہ ہے شیعہ کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایک بڑا گروہ جھوٹا ہے مگر وہ جھوٹ کو عبادت نہیں سمجھتا دوسرا گروہ جو تین چار افراد پر مشتمل ہے وہ جھوٹ کو اس پایہ کی عبادت سمجھتا ہے کہ صرف جھوٹ بولتے رہنے سے نو حصّہ دین کے تقاضے پورے ہوگئے گویا دسویں حصّے کی کچھ زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں اللہ معاف کر دے گا اس بناء پر اور اس گروہ کے بیان کردہ حدیثوں کی قدر و قیمت کیا ہو سکتی ہے کہ دین کے معاملات میں انہیں فیصلہ کن سمجھا جائے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ شیعہ کو حدیثِ رسولﷺ پر بھی ایمان نہیں یعنی شیعہ مذہب کا ماخذ نہ تو اللہ کا کلام ہے اور نہ اللہ کے رسولﷺ کی حدیث ہے۔

علوی:حضور والا میں عرض کر چکا ہوں کہ ہم لوگ سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جھوٹا نہیں کہتے مثلاً سیدنا مقدادؓ سیدنا سلمانؓ سیدنا ابوذرؓ جھوٹے نہیں ہمارا مذہب ان کی بیان کردہ حدیثوں سے ماخوذ ہے۔

عباسی: حضور والا بقول علوی صاحب ان تین حضرات کے بیان حدیث کی کیفیت ان کے ائمہ کی زبانی سماعت فرمائیں:

(1) ذکرت التقیۃ یوماً عند علی بن الحسینؓ فقال لو علم ابوذرؓ ما فی قلب سلمانؓ لقتله وقد اخا رسول اللہﷺ بینھما فماظنک بسائر الخلق۔

ایک روز سیدنا علی بن حسینؓ(سیدنا زین العابدینؓ) کے سامنے تقیہ کا ذکر ہوا تو فرمایا اگر سیدنا ابوذرؓ کو سیدنا سلمانؓ کے دل کی بات معلوم ہو جاتی تو سیدنا سلمانؓ کو قتل کر دے حالانکہ نبی کریمﷺ نےان دونوں کو بھائی بھائی بنا دیا تھا تو باقی مخلوق کے متعلق کیا پوچھتے ہو۔

یعنی سیدنا سلمانؓ نے اپنے دل کی بات اپنے بھائی تک کو نہیں بتائی تو حدیث کس کے سامنے بیان کی ہوگی۔

اس روایت سے دوسری بات جو اس سے بھی زیادہ شدید ہے یہ ثابت ہوتی ہے کہ سیدنا سلمانں کے دل میں وہ بات تھی کہ اگر ظاہر کرتے ہیں تو اس کی سزا قتل ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سزا تو مرتد کی ہے تو سیدنا سلمان کی حیثیت کیا قرار پائی۔

(2) قال ابو عبداللہ یا سلمانؓ لو عرض علمک علی مقدادؓ لکفرو یا مقدادں لو عرض علمک علی سلمانؓ لکفر۔

علم سیدنا مقدادؓ کا ہو سیدنا سلمانؓ کا ہو یا سیدنا ابوذرؓ کا اگر وہ ظاہر کرتے ہیں تو بقول شیعہ اس کی سزا قتل تھی اور وہ قتل نہیں کیے گئے لہٰذا انہوں نے اپنا علم جیسا کچھ تھا وہ ظاہر ہی نہیں کیا تو حدیث کہاں سے حاصل ہوسکتی تھی۔

(3) عن ابی بصیر قال سمعت ابا عبداللہ یقول رسول اللہﷺ یا سلمانؓ لو عرض علمک علی مقدادؓ او لکفر یا مقدادؓ لو عرض علمک علی سلمانؓ لکفر

لیجیٔے بات امام تک نہ رہی رسولﷺ تک پہنچا دی مگر راویوں نے اتنا نہ سوچا کہ سیدنا سلمانؓ یا سیدنا مقدادؓ کے پاس علم آیا کہاں سے تھا ظاہر ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ سے ہی حاصل کیا تھا مگر اس علم کی قیمت شیعوں کے ہاں یہ ٹھہری کہ اگر وہ علم ظاہر کرتے تو سننے والا کافر ہو جاتا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقام تو پھر بھی اپنا ہے شیعوں نے تو اللہ کے رسولﷺ کو بھی معاف نہیں کیا۔

حضور والا یہ تو اصولی بات ہے اب رہا معاملہ واقعات کا تو شیعہ کُتب میں ان تین حضرات کی روایات کی تعداد ہی دیکھ لی جائے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ملے گی ان کی اکثر روایات ذرارہ اور ابوبصیر کی تیار کردہ ہیں لہٰذا یہ امر ثابت ہوگیا کہ شیعہ مذہب کا حدیثِ رسولﷺ سے کوئی تعلق نہیں۔

علوی: حضور والا ہم حدیث رسولﷺ کو مانتے ہیں اور تین حضرات سے جو حدیثیں ہمیں پہنچی ہیں ہمارے دین کا مدار انہی پر ہے۔

بادشاہ: اے گروہِ علماء جانبین کے خیالات سُن کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اصول یہ ہے کہ فیصلہ کن بات اسی کی ہوتی ہے جس پر جانبین کو اعتماد ہو قرآن و حدیث کو حق و باطل کے پرکھنے کا معیار وہی بتا سکتا ہے جس کو پورا یقین ہو کہ قرآنِ کریم اللہ کی کتاب ہے اور جُوں کی تُوں محفوظ ہے اور حدیثِ رسولﷺ کو بیان کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سچے اور نہایت امین تھے مگر شیعہ امام قرآن کو محرف مانتے ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ناقابلِ اعتماد اس لیے وہ قرآن و حدیث کے فیصلے کو قبول کر ہی نہیں سکتے لہٰذا اس بحث کو میں اس انداز سے جاری رکھنا چاہتا ہوں کہ دونوں اطراف کے علماء اپنے اپنے عقیدے کے مطابق میرے سوالات کا جواب دیں۔ 

میرا پہلا سوال صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

 کے متعلق ہے کیونکہ یہ جماعت رسولﷺ اور امت کے درمیان واسطہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی بات اللہ تعالیٰ کے بندوں تک اللہ تعالیٰ کے نبی کے بغیر کوئی نہیں پہنچا سکتا اور نبی کی بات نبی کی امت تک اس کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بغیر کوئی نہیں پہنچا سکتا لہٰذا دینِ خداوندی میں نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خاص اہمیت حاصل ہے لہٰذا اس جماعت کے متعلق آپ حضرات اپنے عقائد بیان کریں عباسی صاحب پہلے آپ بیان کریں:

صفحہ 3 از 16