ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 4 از 16

عباسی: حضور والا اہلِ سنّت والجماعت کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ جماعت ہے جن کا مُعلم محمد رسول اللہﷺ ہیں اور حضور اکرمﷺ نے 23 برس اس گروہ کی تعلیم و تربیت میں صرف کرکے وَيُزَكِّيھمۡ‌ۚ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَـٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ ۝ (سورۃ البقرہ آیت نمبر 129) کا فریضہ پورا کیا اور اپنے ان شاگردوں کو رازدارِ نبوت بنا کر وحی الٰہی کا امین بنایا اور اشاعتِ دین کا فریضہ ان لوگوں کو سونپ کر اللہ تعالیٰ کا نبیﷺ اس دنیا سے رخصت ہوا اور حضورﷺ نے 23سال کی محنت سے ان کی نسبت رضا مندی کی اللہ تعالیٰ سے جوڑ دی اس نسبتِ رضا کے پختہ اور ناقابلِ شکست ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ نے مختلف پیرایوں میں فرمایا:

(1) ایمان: فرمایا فَإِنۡ اٰمَنُواْ بِمِثۡلِ مَآ اٰمَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهۡتَدَواْ‌ۖ الخ (سورۃ البقرہ آیت نمبر 137)۔

 یعنی اے گروہ صحابہ کعام رضوان اللہ علیہم اجمعین! قیامت تک آنے والے انسان اگر اس طرح ایمان لائے جیسے تم لائے ہو تو وہ ہدایت کو پالیں گے اور اگر تمہاری طرح ایمان نہ لائے تو ان کا ایمان ہی مقبول نہیں۔

یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان کو اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کے لئے معیاری ایمان قرار دیا۔

(2) امانت: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ۝ (سورۃ التوبہ آیت نمبر 119)۔

وقتِ نزول مہاجرین وانصار کے علاوہ اور کون تھا جس کی معیت کا حکم دیا جا رہا ہے۔

(3) عمل: حضور اکرمﷺ نے 23 برس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عملی زندگی جس سے سانچے میں ڈھالی تھی اللہ تعالیٰ کو وہ کچھ اس طرح پسند آئی کے اٹل فیصلہ دے دیا۔

السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْه الخ (سورۃ التوبہ آیت نمبر 100)۔

بندے کا منتہائے مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے اور یہ وہ نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حیثیت بتا دی و رضوان من اللہ اکبر اللہ تعالیٰ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے تو یہاں فرمایا میں صرف تین جماعتوں سے راضی ہوں اول مہاجرین دوئم انصار سوئم ان دونوں کی سچے دل سے اتباع کرنے والے مہاجرین اور انصار کے وصف سے متصف ہونے کے لئے ایک خاص دور تھا جو بیت چکا اب کوئی اس گروہ میں شامل نہیں ہوسکتا تیسری جماعت قیامت تک آنے والے انسانوں میں سے وہ ہے جو سچے دل سے مہاجرین و انصار یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتباع کرے۔

 یعنی قیامت تک ان کی اتباع کے بغیر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہو سکتی یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت ایسی جماعت کہ ان کا ایمان دوسروں کے ایمان جانچنے کی کسوٹی اور دوسروں کے عمل کے قبول و عدم قبول کا مدار اس پر ہے کہ اس میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اتباع کا جزبہ کس درجے کا ہے۔

(4) حضور والا جب نبی کریمﷺ نےنبوت کا اعلان کیا تو عرب کے لوگ تین گروہوں میں بٹ گئے۔

(1) مشرکین یہ حضورﷺ کے جانی دشمن تھے۔

(2) اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) یہ حضورﷺ کو (معاذ اللہ) دجال سے تعبیر کرتے تھے۔

(3) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت یہ لوگ نزولِ قرآن کے حضورﷺ کی نبوت کے چشم دید گواہ ہیں پہلے دو گروہوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اسلام کی دولت بعد میں آنے والی نسلوں کو منتقل کریں عبث ہے تیسرے گروہ کو اگر جھوٹا مان لیا جائے تو نبوت کا ثبوت کہاں سے ملے گا نزولِ قرآن کا گواہ کون ہوگا۔

(5) حضور والا اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت ناقابلِ اعتبار اور جھوٹی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے 23 برس میں کونسے انسان تیار کئے حضورﷺ کے یہاں سے جاتے ہی تین رہے وہ تقیہ کی دلدل میں پھنس گئے تو ثابت ہوا کہ حضورﷺ نے 23 برس میں ایک فرد بھی ایسا تیار نہ کیا جو سچی بات زبان پر لاسکے اس سے بڑھ کر نبی کریمﷺ کی توہین کا کوئی تصور ہو سکتا ہے۔

بادشاہ: واقعی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین

کی عظمت کا قائل ہونا جُزوِ دین ہے۔

علوی صاحب آپ بیان فرمائیں:

علوی: حضور والا ہمارا عقیدہ یہ ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کچھ ایسے تھے جو دل و جان سے ایمان لائے اور یہ وہی تھے جو نبی کریمﷺ کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ایمان پر قائم رہے۔ اور وہ سیدنا مقدادؓ سیدنا سلمانؓ اور سیدنا ابوزرؓ ہیں۔

ان کے علاوہ جتنے بھی تھے وہ دنیوی مفاد کی خاطر مسلمان ہوئے جب نبی کریمﷺ کی آنکھیں بند ہوئیں وہ مرتد ہوگئے جو سچے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسلمان تھے ہم ان کے غلام ہیں۔

بادشاہ: آپ کے عقیدے کے مطابق ان تین سچے مسلمانوں سے دین نقل ہو کر آیا اور دنیا میں پھیلا۔

علوی: جی ہاں حضور یہی بات ہے۔

بادشاہ: کیوں نظامُ الملک کیا یہ بیان درست ہے؟ 

نظامُ الملک: حضور والا! عباسی صاحب اس پر روشنی ڈالیں۔

عباسی: حضور والا! علوی صاحب نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی کہ جن کو یہ مرتد سمجھتے ہیں ان کے حق میں ان کا رویہ عقیدہ کیا ہے۔

علوی: حضور والا! ہم ان لوگوں پر سبِّ وشتم کرنا جائز سمجھتے ہیں۔

بلکہ ہم یہ کہتے ہیں ایسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر جن میں خلفائے ثلاثہؓ شامل ہیں سبّ کرنا نہ کفر ہے نہ فسق ہے نہ گناہ کبیرہ ہے نہ صغیرہ ہے بلکہ جن پر اللہ لعنت کرے ان پر لعنت کرنا تو ثواب ہے۔

 اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِۙ-اُولٰٓىٕكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ۝ (سورۃ البقرہ آیت نمبر 159)

جو لوگ حقائق اسلام پر پردہ ڈالتے ہیں وہ لعنت کے مستحق ہیں۔

عباسی: حضور والا! پہلے کفر و فسق کی بحث طے ہونی چاہیے۔

سوال یہ ہے کیا زنا کفر ہے اور زنا کار کافر ہے؟ کیا سود کھانا کفر ہے اور سود خوار کافر ہے؟ کیا شراب پینا کفر ہے اور شرابی کافر ہے؟

علوی: حضور والا! یہ اعمال کفر نہیں اور ان کا مرتکب کافر بھی نہیں ہاں یہ گناہ ہے۔ 

صفحہ 4 از 16