ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 5 از 16

عباسی: حضور والا! اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو چیز کفر نہ ہو کیا اس کا کرنا جائز اور حلال ہو جاتا ہے؟

اگر نہیں تو سبِّ و شتم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حرام کیوں نہیں؟۔

رہی دوسری بات حقائق اسلام پر پردہ ڈالنے والا مستحق لعنت ہے تو لعنت کا محل اور موقع تو دیکھ لینا چاہیئے سو وہ مواقع یہ ہیں۔

(1) قال ابو عبداللہ یا سلمان انکم علی دین من کتمه اعزہ اللہ ومن اذاعه اذله اللہ۔

یعنی اے سلمان تم ایسے دین پر ہو(دین شیعہ) کہ جس نے اس کو چھپایا اللہ تعالیٰ اسے عزت دے گا اور جس نے اس کو ظاہر کیا اللہ اسے ذلیل کرے گا۔

ظاہر ہے کہ بقول امام لعنت کا مستحق تو دین شیعہ ہے اور جو سارا دین ہی چھپائے وہ لعنت کے قابل کیوں نہ ہو۔

(2) عن ابی عبداللہ قال یا معلی اکتم امرنا ولم یذعہ اعز اللہ به فی الدنیا وجعله نورا بین عینیه فی الآخرۃ۔

لعنت کے مستحق تو وہ ٹھہرے جو سارا دین چھپائے اور وہ جو دین کو چھپا رکھنے کا حکم دیں اپنے اصول کے مطابق شیعہ لوگوں کو چاہیئے کہ لعنت کا وظیفہ ضرور کریں مگر اپنے دین پر کریں جو ظاہر کرنے کی چیز نہیں اپنے شیعوں پر کریں جو اس فعل کے مرتکب ہوتے ہیں اور اپنے ان پیشواؤں پر لعنت کریں جنھوں نے ان کو دین چھپا رکھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جو ان پر لعنت کرتا ہے۔

حضور والا شیعہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دو گروہ میں بانٹ دیا مگر اللہ نے اس کی تقسیم نہیں کی جیسا کہ ابتداء میں ایمان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور عملِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سلسلے میں آیات پیش کر چکا ہوں اب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق اور ان کو دو گروہوں میں بانٹنے والوں کے متعلق نبی کریمﷺ کے اقوال پیش کرتا ہوں:

(1) قال ان اللہ اختار لی اصحابی فجعلھم اصحابی و اصھاری و سیجئی قوم من بعدی ینقصونھم ویسبو نھم فان ادرکتموھم فلاتناکحوھم فلا تناکحوھم ولا تواکلوھم ولا تشا ربوھم ولا تصلوا معھم ولا تصلوا علیھم۔

(2) قال النبیﷺ ان اللہ اختارنی و اختارلی اصحابی وجعل لی منھم وزراء و انصار روانه سیخرج فی اٰخر الزمان قوم یبغضونھم فلا تواکلوھم ولا تشاربوھم ولا تجالسوھم ولا تصلوا علیھم ولا تصلوا معھم۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے مجھے انتخاب فرمایا پھر میرے مشن کے لیے میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انتخاب فرمائے ان سے کسی کو میرا وزیر بنایا کسی کو معاون بنایا کسی کو میرا خُسر بنایا مگر آخری زمانے میں ایک قوم آئے گی جو اللہ کے ان منتخب افراد سے بُغض رکھے گی انہیں بُرا بھلا کہے گی ان میں نُقص نکالے گی ان لوگوں کے ساتھ کھانا پینا میل جول ممنوع ہے نہ ان کے ساتھ مل کے نماز پڑھنا نہ ان کی نماز جنازہ پڑھنا۔

(3) قال النبیﷺ لاتسبوا اصحابی فمن سبّ اصحابی فعلیه لعنۃ اللہ والمائکۃ والناس اجمعین لا یقبل اللہ یوما القیامۃ منه صرفا ولا عدل۔

یعنی میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جو لوگ بُرا بھلا کہتے ہیں ان پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ان کا کوئی عمل قیامت کے دن قبول نہ ہوگا۔

حضور والا! غور فرمائیے نبی کریمﷺ نے لعنت کے محل کی نشاندہی فرما دی لعنت کا محل بُغضِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہے اور یہ لعنت صرف شیعہ کے حصے میں آئی جس پر اللہ اور فرشتے لعنت بھیجیں وہ بھلا لعنت کا مستحق کیوں نہ ہو۔

(4) قال النبیﷺ یجمع الناس غداً یوم القیامۃ فی المواقف ثم یلتیقط منھم قذفۃ اصحابی ومغبضوھم فیحشر الی النار۔

یعنی کل قیامت کو اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا ان میں سے لوگوں کو الگ کرے گا جو میرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بُغض رکھنے والے ہیں پھر انہیں جہنم میں داخل کر دے گا۔

 ان چار احادیثِ نبویﷺ کا حاصل یہ ہے کہ:

(1)۔ اللہ کے مقرب و مُختار نبی کریمﷺ اور پھر حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔

(2)۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بُغض رکھنے والے ان کو سبّ و شتم کرنے والے جہنمی ہیں۔

(3)۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض رکھنے والوں (شیعوں) کے ساتھ کھانا پینا میل جول حرام ہے ان کا ذبیحہ حرام ہے ان کے ساتھ نکاح حرام ہے ان کی مجلس میں جانا حرام ہے ان کی نماز جنازہ پڑھنا حرام ہے۔

(4)۔ ان پر اللہ کی لعنت فرشتوں کی لعنت اور تمام انسانوں کی لعنت ہے یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

علوی: حضور والا! نبی کریمﷺ نے خود بُعضِ اصحاب پر لعنت کی ہے مثلاً فرمایا: جھز واجیش اسامه لعن اللہ من تخلف عنھا۔

عباسی: حضور والا! ان حضرات کی مجبوری ہے کہ قرآنِ کریم سے جب ان کا کوئی اختراعی مسئلہ ثابت نہیں ہوسکتا تو قرآن کے الفاظ کے ساتھ اپنے پاس سے اپنی مرضی کے الفاظ بڑھا کر کہہ دیتے ہیں واللہ ھکذا نزلت اسی طرح یہاں حدیثِ رسولﷺ کے ساتھ سلوک کیا ہے لعن اللہ من تخلف عنھا کا جُملہ نبی کریمﷺ کا فرمودہ نہیں ان لوگوں نے اپنی فطرت سے مجبور ہو کر حدیثِ رسولﷺ سے یہ سلوک کیا ہے کسی مستند کتاب میں اس حدیث میں یہ الفاظ دکھا دیں۔

حضور والا! اس پر یوں بھی غور کیا جائے تو حقیقت سامنے آ جاتی ہے جھز وجیش اسامه کی عموم کلام میں متکلم داخل ہے یا نہیں یہ کہیں گے خارج ہے یعنی نبی کریمﷺ عموم کلام سے خارج ہوئے تو آپ کا جانشین بھی خارج ہوا۔

پھر یہ کہ جب یہ لشکر واپس آیا تو نبی کریمﷺ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو مسلمانوں کو نماز پڑھانے کے لیے امام مقرر فرمایا اگر لعن اللہ من تخلف حضورﷺ نے فرمایا تو خود ہی اس کو تمام مسلمانوں کا امام بنایا جس پر اللہ کی لعنت کی تہدید سنائی کیا ملعون بھی قابلِ امامت ہوتا ہے کیا اللہ کا رسول یہ اقدام کر سکتا ہے۔

پھر کیا یہ حکم وجوب متعین کے لیے تھا کہ متعین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے حکم تھا جب وجوب متعین کے لیے نہیں تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کا نام کیوں لیا جاتا ہے۔

پھر اس اختراعی جملہ کو بفرض ماحول درست مان لیا جائے تو لفظ من عموم کے لیے ہے جس میں سیدنا علیؓ سیدنا سلمانؓ سیدنامقدادؓ اور سیدنا ابوذرؓ بھی شامل ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ و سیدنا عمر فاروقؓ کا نام تو نہیں ہے۔

صفحہ 5 از 16