ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 6 از 16

بادشاہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق جانبین کے خیالات معلوم ہوگئے یہاں ایک ضمنی مسئلہ کی وضاحت بھی ضروری ہے وہ یہ کہ خلفائے راشدینؓ اور خلافت کی متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

علوی صاحب: پہلے آپ بیان کریں۔

علوی: حضور والا! اس مسئلہ میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خلافتِ منصوصی ہے حضور اکرمﷺ نے بحکمِ الٰہی سیدنا علیؓ کو خلیفہ مقرر فرمایا تھا خلیفہ اوّل وہی ہے خلافت ان کا حق تھا دوسرے لوگوں نے ان سے خلافت کا حق غضب کیا اسلام کو بدنام کیا ان کی فتوحات نے اسلام دشمنی مول لی۔

عباسی: اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ کا تقرر مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے اللہ و رسولﷺ نے خلیفہ کے اوصاف کو نشاندہی فرما دی اور امت کو یہ ذمہ داری سونپ دی کہ اصحاب حل و عقد باہمی مشورہ سے ان اوصاف کا حامل خلیفہ منتخب کر لیں خلافت کوئی منصوصی ہی نہیں علوی صاحب نے نص بیان نہیں فرمائی۔

علوی: نبی کریمﷺ کا فرمان من کنت مولاہ خلافت سیدنا علیؓ کے لیے نص ہے۔

عباسی: حضور والا! لغت میں لفظ مولیٰ کے 22 معنیٰ ہیں یعنی یہ لفظ کئی معنوں میں مشترک ہے اسے نص قرار دینا ہی نری جہالت ہے نص تو یوں ہوسکتی ہے کہ جیسے ارشادِ ربانی ہے:

يَـٰدَاوُدُ إِنَّا جَعَلۡنَـٰكَ خَلِيفَةً۬ فِى ٱلۡأَرۡضِ الخ (سورۃ ص آیت نمبر 26) 

 اسی طرح ارشادِ ربانی یا ارشادِ نبویﷺ یہ ہوتا یا علیؓ انا جعلنٰک خلیفۃ تو اسے نص قرار دیا جاسکتا تھا۔

پھر شیعہ کے نزدیک امامت تو نبوت سے بھی افضل ہے تو اس کے لیے دلائل قطعی درکار ہیں دلائل ظنی سے یہ منصوص نہیں بن سکتا نص یہ ہے کہ ما سیق الکلام لاجله لہٰذا صریح نص پیش کریں یا حدیثِ رسولﷺ متواتر کے وہ مدلول مطابقی قطعی دلیل ہو۔

رہی دوسری بات کے خلفائے ثلاثہؓ کی فتوحات نے اسلام دشمنی مول لی اس میں علوی صاحب کا یہ اعتراف پایا جاتا ہے کہ خلفائے ثلاثہؓ نے کفار کے ملک فتح کیے اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ سیدنا علیؓ کی خلافت کے دور میں سلطنت اسلامی میں ایک انچ زمین کا اضافہ بھی نہیں ہوا۔

رہا فحتوحات کے اثرات کا معاملہ تو شیعہ کہتے ہیں کہ:

کون کثیر من البلاد فتح فی خلافۃ عمرؓ و تلقن اصحاب تلک البلاد و سنن عمرؓ فی خلافۃ من نوابه رھبۃ ورغبۃ کما یلقنوا شھادۃ ان لا الٰه الا اللہ وان محمد رسول الله فنشاء علیھا الصغیر ومات علیھا الکبیر ولم تعتقں اصحاب تلک البلاد التی فتحت ان عمرؓ تقدم علی تغییر شیئی من سنن نبیھم ولا احد من المسلمین یوافقه علیٰ ذلک واضل عمرؓ نوابه التابعین له اصل نوابه من تبعھم۔

یعنی سیدنا عمر فاروقؓ کے زمانے میں کثیر تعداد میں شہر اور ملک فتح ہوئے وہاں کے باشندوں کو سیدنا عمر فاروقؓ کے مذہب کی تعلیم دی گئی جیسے انہیں اقرار شہادتین کی تعلیم دی گئی اسی سیدنا عمر فاروقؓ کے مذہب پر بچے پیدا ہوئے اور نشوونما پائی اور اسی کے مذہب پر بڑے لوگ عمر گذار کے چل دیے ان مفتوحہ لوگوں کو علم نہ تھا کہ سیدنا عمرؓ اپنے نبیﷺ کا دین تبدیل کر چکا ہے سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے ماتحت حاکموں کو گمراہ کیا اور انہوں نے ساری مخلوق کو گمراہ کیا۔

حضور والا! یہ آپ کی سلطنت بھی سیدنا عمر فاروقؓ کی فتوحات میں داخل ہے شیعہ کے مطابق آپ کو بھی یہ گمراہی ورثے میں ملی ہے صرف یہ ملک ہی نہیں تمام دیگر ممالک اسلامیہ کے لوگ جو سیدنا عمر فاروقؓ کی تبلیغ سے مسلمان ہوئے سب بقول شیعہ گمراہی کو ہی ورثے میں حاصل کیے چلے جا رہے ہیں تو اسلام کہاں پھیلا اور کب پھیلا؟۔

پھر اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے عہد میں اس سنِّت سیدنا عمر فاروقؓ میں کوئی تبدیلی کی؟تاریخ شاہد ہے اور شیعہ کُتب میں سیدنا علیؓ کا اعتراف موجود ہے کہ میں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیدنا علیؓ خود معاذ اللہ گمراہی کو سینے سے لگائے عمر گزارتے رہے اور اپنی ساری رعیت کو گمراہی میں پھلتے پھولتے دیکھ کر ان کی غیر دینی میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی۔

پھر ایک اور پہلو یہ ہے اگر یہ حضرات بقول شیعہ غاصب تھے تو سیدنا علیؓ نے ان کی بیعت کیوں کی؟

علوی:حضور والا! اس وقت حالات ایسے تھے کہ سیدنا علیؓ بیعت نہ کرتے اور مخالفت کرتے تو امت میں انتشار پیدا ہوتا لہٰذا آپ نے تقیہ کر کے بیعت کر لی۔

عباسی: حضور والا! شیعہ اگر شیرِ خدا سیدنا علیؓ کو ایسا ہی بزدل مانتے ہیں تو چلیئے خلفائے ثلاثہؓ کے عہد میں تو ڈر کے مارے تقیہ کی پناہ میں دن گزار دئیے۔

مگر اپنے عہدے خلافت میں ڈر کس کا تھا؟ تقیہ کر کے گمراہی کو کیوں قبول کیے رکھا؟ ڈر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ایک ہمہ مقتدر حکمران بھی ڈر سے کانپتا رہے تو اس کی حکومت کس کے لیے رحمت ثابت ہوگی۔

پھر ایک اور پہلو سامنے آتا ہے کہ بقول شیعہ سیدنا علیؓ ایسے ہی بزدل تھے خدانخواستہ اگر حضورﷺ کے بعد مسیلمہ کذاب یا اسی قسم کا کوئی کافر حکومت پر قبضہ کر لیتا تو سیدناعلیؓ اس کی بیعت بھی کر لیتے تو تقیہ وہاں ڈھال کا کام بھی دیتا اور اسلام تو پہلے مرحلے میں ہی ختم ہو جاتا۔

پھر ایک اور پہلو قابلِ غور ہے کہ سیدنا علیؓ نے تقیہ کر کے خلفائے ثلاثہؓ کی بیعت کئے رکھی تو سیدنا حسینؓ نے تقیہ کر کے اپنی جان کیوں نہ بچائی شیرِ خدا باپ ہے یا بیٹا؟ اور ان دونوں میں سے حق پر باپ تھا یا بیٹا؟۔

پھر ایک بات قابلِ غور ہے کہ جہاں شیعوں کے ہاں قولِ امام حجت ہے وہاں فعل معصوم بھی حجت ہے تو جب سیدنا علیؓ نے بقول شیعہ تقیہ کرکے خلفائے ثلاثہؓ کے حق ہونے پر بیعت کر لی تو تم اپنے امام کے عمل کو حجت قرار دے کر تقیہ کر کے سہی خلفائے ثلاثہؓ کی خلافت کو حق کیوں نہیں تسلیم کرتے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شیعہ کے نزدیک عمل معصوم کی مخالفت کرنا ہی اصل دین ہے ان کے دوسرے امام نے اپنی آزاد مرضی سے سیدنا امیر معاویہؓ کو حکومت کیوں سونپ دی۔

ان کے تیسرے امام نے سیدنا امیر معاویہؓ کی بیعت کیوں کی اور 20 برس تک بقول شیعہ کے ایک کافر کے وظیفہ خوار کیوں رہے۔

صفحہ 6 از 16