ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 7 از 16

پھر ایک اور پہلو قابلِ غور ہے کہ سیدنا علیؓ اگر اتنے طویل تقیہ کہ عادی تھے تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ انہوں نے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ بھی تقیہ کر کے نہ پڑھا ہو پھر شیعہ کو یہ مشکل پیش آئے گی کہ وہ اپنے امام کا کوئی مذہب بھی ثابت نہیں کر سکیں گے اور واقعی نہیں کرسکتے۔

بادشاہ: شیعہ مذہب میں تقیہ تو بڑی اہمیت کا حامل نظر آتا یہ عقیدہ شیعہ مذہب کا سنگِ بنیاد محسوس ہوتا ہے ذرا اس پر تفصیلی بحث کی جائے عباسی صاحب کہیے:

عباسی :حضور والا! میں تو پہلے عرض کرچکا ہوں کہ شیعہ کے ہاں دین کے دس حصوں میں سے نو حصے تقیہ میں پنہاں ہیں۔

علوی صاحب ہی اپنے اس متاعِ عزیز کے مناقبات بیان فرمائیں:

علوی: عالی جاہ ہمارے ائمہ کا یہ فرمان ضرور ہے کہ التقیه من دینی ومن دین آبائی لادین لمن لا تقیۃ له کہ تقیہ میرا دین ہے اور میرے آباؤ اجداد کا دین ہے اور جو تقیہ نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں لیکن اس کا مطلب وہ نہیں جو عباسی صاحب بیان کرتے ہیں۔

بادشاہ: آپ مطلب کی فکر نہ کریں اپنی بات کہتے جائیں۔

 علوی: حضور والا! یہ ہمارے دین کا اہم عقیدہ ہے۔بادشاہ:عباسی صاحب! آپ اس کے متعلق کچھ وضاحت کر سکتے ہیں۔

عباسی: عالی جناب! تقیہ کی اہمیت جو شیعہ کے ہاں مسلّم ہیں اس کی وجہ ان کی ایک مجبوری ہے اور وہ یہ کہ اس سیاسی تحریک کا بنیادی نعرہ یہ ہے کہ سیدنا علیؓ خلیفہ بلافصل ہیں اور خلفائے ثلاثہؓ غاصب ہیں مگر سیدنا علیؓ کا خود ان حضرات کی خلافت کا حق تسلیم کر لینا اور ان کی بیعت کر لینا ان کے اس دعویٰ کی عملی تردید ہے جس سے یہ بنیادی ھباء منثورا ہو جاتی ہے اس لئے انہیں یہ عقیدہ وضع کرنا پڑا کہ سیدناعلیؓ نے تقیہ کے طور پر بیعت کی تھی چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ:

مامن الامۃ احد بایع مکرھا غیر علی واربعتنا۔

کہ پوری امت میں کوئی شخص بھی نہیں پایا جاتا جس نے آزاد مرضی سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیعت نہ کی ہو سوائے سیدنا علیؓ اور ہمارے چار آدمیوں کے۔

اس سے ظاہر ہے کہ نبی کریمﷺ کی پوری امت میں سے صرف پانچ آدمیوں نے تقیہ کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ تقیہ کہ عقیدہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

کس تاریخی جھوٹ پر بس نہیں کہ بلکہ خود اپنے سیدنا علیؓ کی زبانی اس کا اعتراف کرایا گیا۔

ثم نادی قبل ان یبایع یابن ام ان القوم استضعفونی وکادوا یقتلوننی۔

یعنی سیدنا علیؓ نےفرمایا! اے میرے ماں جائے قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا مجھے قتل کر دیتے۔

ثم تناول ید ابوبکرؓ فبایع۔

یعنی پھر آپ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کر لی یہ ہے وہ تصویر جو شیعہ نے اپنے پہلے امام کی پیش کی کہاں وہ شان اسد اللہی کہاں دروازہ خیبر اکھاڑنا اور کہاں اپنے قتل ہونے کے خوف سے بقول شیعہ وہ کچھ کرنا جو بقول شیعہ کفر سے کم نہیں۔ 

لہٰذا یہ مجبور تھے کہ تقیہ کا عقیدہ ایجاد کر کے سیدنا علیؓ کے اپنے بنائے ہوئے امیج پر سے غبار دور کرتے پھر اس میں مزید رنگ بھرنے کے لئے روایات گھڑ لی گئیں کہ امام نے فرمایا

التقیۃ من دین اللہ قلت من دین اللہ؟ قال ای واللہ من دین اللہ اوران تسعۃ اعشارالدین فی التقیۃ۔

یہ قدرتی بات ہے کہ ایک جعل سازی کو چھپانے کے لئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اس لئے شیعہ نے اس پہلی جعل سازی کو چھپانے کے لیے تقیہ کا اتنا پروپگینڈا کیا کہ دین شیعہ از اول تا آخر تقیہ ہی تقیہ بن گیا۔

بادشاہ: اب میں عقیدہ رسالتﷺ کے متعلق جانبین کے عقائد سننا چاہتا ہوں عباسی صاحب آپ بیان کریں۔

عباسی: حضور والا! ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے مختلف زمانوں میں اپنے برگزیدہ بندے مبعوث فرماتا رہا اور سب سے آخر محمد رسولﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر دین مکمل کر دیا ہر نبی مامور من اللہ ہوتا ہے مفترض الطاعتہ ہوتا ہے اور معصوم عن الخطاء ہوتا ہے اور ہر نبی آتا اس لیے ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذۡنِ ٱللَّهِ‌ۚ الخ (سورۃ النساء آیت نمبر 64)۔

 ہر شخص کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر نبی کی رائے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔

علوی: حضور والا! ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے ہاں اتنا اضافہ ہے کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے اور نبیﷺ کے وصی سیدنا علیؓ ہیں۔

عباسی: حضور والا! علوی صاحب نے بات پوری نہیں بیان کی اوّل یہ کہ یہ ختمِ نبوت کے قائل نہیں بلکہ اجرائے نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں. 

علوی: حضور والا! یہ تہمت ہے ہم ختمِ نبوت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔

عباسی: حضور والا! آپ نے نوٹ فرمایا کہ لفظوں سے کھیلتے ہیں جھوٹ کا نام تقیہ رکھا پھر تقیہ کو 9/10 حصہ بنا دیا۔

اسی طرح ان کا عقیدہ یہ ہے کہ امام مامور من اللہ ہوتا ہے مفترض الطاعتہ ہوتا ہے اور معصوم عن الخطاء ہوتا ہے اور یہ تینوں خصوصیات نبوت کی ہیں لہٰذا یہ لوگ نبی کریمﷺ کے بعد 12 مزید انبیاء کی نبوت کے قائل ہیں صرف نام بدلا ہے کہ نبی نہ کہا امام کہا۔

چنانچہ ائمہ کے متعلق ان کا عقیدہ یہ ہے۔

(1)۔ عن محمد سنان قال کنت عند ابی جعفر الثانی فاجریت اختلاف الشیعۃ فقال یا محمد ان اللہ تبارک و تعالیٰ لم یزل منفردا ابوحد انیته ثم خلق محمداًﷺ وعلیاًؓ و فاطمۃؓ فمکثوا الف دھرثم خلق جمیع الاشیاء فاشھدھم خلقھا واجری طاعتھم علیھا وفوض امورھا الیھم فھم یحلون ما یشاؤن و یحرمون ما یشاؤن ولن یشاؤ الا ماشاءاللہ۔

محمد سنان کہتا ہے میں سیدنا محمد تقی کے پاس بیٹھا تھا شیعوں کے مذہبی اختلاف کا ذکر چلا فرمایا اے محمد اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں منفرد تھا اس نے محمد ﷺ سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کو پیدا کیا اور ان کو اپنی مخلوق پر گواہ بنایا اور ان کی اطاعت مخلوق پر فرض کی اور مخلوق کے تمام معاملات ان کے سپرد کیے یہ لوگ جس چیز کو چاہے حلال کہیں جسے چاہیں حرام کہیں یہ وہی چاہتے ہیں جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔

حضور والا! یہ ہے شیعوں کے نزدیک امامت کا مقام

(2)۔ اب پہلے امام کے اختیارات سنئیے:

سیدنا جعفر فرماتے ہیں

صفحہ 7 از 16