ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 8 از 16

ماجاء به علیؓ اخذ به وما نھی عنه انتھی عنه جری له من الفضل مثل ماجری لمحمدﷺ و لمحمدﷺ الفضل علی جمیع ما خلق اللہ عزوجل والمعتقب علیه فی شیئی من احکامه کالمعتقب علی اللہ وعلی رسوله والراد علیه فی صغیرۃ و کبیرۃ علی حد الشرک باللہ کان امیر المومنینؓ باب اللہ الذی لایؤتی الامنه وسبیله الذی من سلک بغیره لیھلک وکذلک یجری لائمۃ الھدی واحد بعد واحد۔

میں ان احکام پر عمل کرتا ہوں جو سیدنا علیؓ لائے ہیں اور ان کاموں سے باز رہتا ہوں جن سے سیدنا علی نے منع کیا ان کی شان محمدﷺ کی مثل ہے اور محمد رسول اللہﷺ کی فضیلت تمام مخلوق پر ہے سیدنا علیؓ کے حکم پر اعتراض کرنے والا ایسا ہے جیسے خدا و رسولﷺ کے حکم پر اعتراض کرنے والا اور علی کی کسی چھوٹی بڑی بات کا انکار کرنا اللہ سے شرک کرنے کے برابر ہے سیدنا علیؓ اللہ کا دروازہ ہے جس کے بغیر کوئی شخص اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا وہ اللہ کا راستہ ہیں جو اس راہ کے بغیر کسی دوسری راہ پر چلا ہلاک ہوا اسی طرح اماموں کی عظمت اور شان ہے امام اول کو رسولﷺ کے مقام پر کھڑا کر کے باقی تمام اماموں کے لیے وہی مقام تسلیم کیا اور یہ سیدنا جعفر کا قول ہے۔

(3)۔ اماموں کے پاس سامانِ امامت یا نبوت بھی موجود ہے۔

ثم قال یا ابا محمد وان عندنا الجامعۃ وما یدریھم ما الجامعۃ قال قلت جعلت فداک وما الجامعۃ قال صحیفۃ طولھا سبعون زراعا یذراع رسول اللہﷺ واملاءہ من فیه وخط علی بیمنیه فیھا کل حلال و حرام وکل شیئی یحتاج الیه الناس۔

پھر فرمایا اے ابو محمد ہمارے پاس جامعہ بھی ہے اور لوگ کیا جانے جامعہ کیا ہے

(6)۔ یہ تو اماموں کا مستقل سرمایہ ہے جو اتنا ضیخم ہے کہ کسی نبی کو اتنا سرمایہ نہ ملا خاتم النبیینﷺ کو صرف قرآنِ کریم ملا مگر اماموں کے پاس ایک فرضی قرآن کے علاوہ جامعہ جفر اور مصحفِ سیدہ فاطمہؓ بھی ہے جو قرآن سے تین گنا ہے اسی پر بس نہیں سیدنا باقر فرماتے ہیں۔

انه لینزل فی لیلۃ القدر الی اولی الامر نفسهٖ بکذا وکذ وفی امر الناس بکذا وکذا۔

شب قدر میں بلاشبہ امام کی طرف امام کی ذات کے لیے اور لوگوں کی ہدایت کے لیے احکام نازل ہوتے ہیں۔

(7)۔ یا خثیم نحن شجرۃ النبوۃ و بیت الرحمۃ و مفاتیح الحکمۃ ومعدن العلم و موضع الرسالۃ و مختلف الملائکۃ۔

سیدنا جعفر نے فرمایا اے خثیمہ ہم نبوت کے درخت ہیں رحمت کے گھر ہیں حکمت کی کنجیاں ہیں علم کی کان ہیں رسالت کا مقام اور جگر ہیں ہمارے پاس فرشتوں کی آمدورفت رہتی ہے۔

(8)۔ تنزل الملائکۃ والروح الی الاوصیاء یأتونھم بامر 

لم یکن رسول اللہ قد علمه۔

اماموں کی طرف فرشتے اور جبرائیلؑ نازل ہوتے ہیں ان کو ایسے امور بتاتے ہیں جن کا محمد رسول اللہﷺ کو بھی علم نہیں تھا۔

(9)۔ وکون ائمتنا علیھم السلام افضل من سائر الانبیاء ھوالذی لا یرتاب فیه من تبتع اخبارھم علی وجه الازعان والیقین والاخبار نی ذلک اکثر من ان تحصی وعلیه عمدۃ الامامیۃ۔

ہمارے شیعہ اماموں کا تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل ہونا وہ حقیقت ہے کہ جس نے شیعہ احادیث کو پورے یقین کے ساتھ پڑھا وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔اس بارے میں اتنی حدیثیں ہیں جن کا شمار نہیں ہوسکتا اور اسی عقیدہ پر امامیہ فرقہ کا مدار ہے۔

حضور والا! اماموں کا مامور من اللہ ہونا مفترض الطاعتہ ہونا اور اماموں پر وحی کا سلسلہ جاری رہنا ثابت ہوگیا اس پر مستزاد یہ کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق اماموں کا تمام انبیاء علیہم السلام سے افضل ہونا بھی ثابت ہوچکا اور اماموں کو ان باتوں کا علم ہونا بھی ثابت ہوگیا جن کا معاذ اللہ محمد رسول اللہﷺ کو بھی علم نہیں تھا۔

بادشاہ: وزیر! میں یہ کیا سن رہا ہوں یہ افسانہ ہے خواب کی باتیں ہیں یا حقیقت ہے؟۔ 

وزیر: حضور والا! ان کی یہ باتیں تو اکثر ان کی مایہ ناز کتاب اصولِ کافی میں موجود ہیں اور یہ کتاب امام کی مصدقہ ہے۔

علوی: حضور والا! عباسی صاحب نے جو روایات بیان کی ہیں الفاظ تو وہی ہیں جو ائمہ نے فرمائے مگر مانی وہ نہیں جو عباسی صاحب نے بیان کیے ہمارا عقیدہ اجرائے نبوت کا نہیں۔

بادشاہ: الفاظ آپ کے اماموں کے ہیں تو مفہوم سمجھنے کے لیے ہم عباسی صاحب کے محتاج نہیں الفاظ کا مفہوم ہم خود خوب سمجھتے ہیں۔

رسالت کے متعلق شیعہ کا عقیدہ معلوم ہوگیا اب توحید کے متعلق پہلے آپ بیان فرمائیں۔

علوی: حضور والا! ہمارے ہاں تمام جہات سے توحید کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے۔

(اول) وہ ذات کے اعتبار سے واحد ہے واجب الوجود ہے۔

(دوم) وہ صفات کے اعتبار سے واحد ہے لا شریک ہے۔

(سوم) توحید فی العبادۃ کہ اس کہ بغیر کسی کی عبادت جائز نہیں۔

(چہارم) اس کی صفات ثبوتیہ مثلاً علم قدرت ارادہ حیات سب اس کی عین ذات ہے۔

(پنجم) اس کی صفات ثبوتیہ سے ایک صفت عدل ہے۔

عباسی: حضور والا! توحید کے بارے میں ہمارا عقیدہ سورۃ اخلاص اور آیۃ الکرسی میں جامعیت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے مگر شیعہ کا عقیدہ جو علوی صاحب نے بیان کیا وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو ان کی بنیادی کتابوں میں درج ہے،مثلاً 

(1) لانه تعالیٰ جسم کاجسام وانه فی صورۃ شاب حسن الصورۃ ینزل کل لیلۃ جمعۃ راکباً علی فیک برامر الارض الی الجمعۃ الاخریٰ حتیٰ انھم ربما وصنعو الحمارہ شعیرۃ فوق سطوحھم وبعضھم صنعوا له شریکا فی التمر۔

محقق بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جسم ہے مثل دوسرے اجسام کے نہایت خوبصورت جوان کی طرح ہے اور گدھے پر سوار ہو کر ہر جمعہ کی رات کو نازل ہوتا ہے اور زمین کے امور کی تدبیر فرماتا ہے جو دوسرے جمعہ تک چلتے ہیں حتیٰ کہ وہ خدا کے گدھے کے لیے مکانوں کی چھتوں پر جَو کے دانے ڈال رکھتے ہیں اور بعض لوگ جو میں کھجوریں بھی ملا دیتے ہیں۔

یہ ہے اللہ کی ذات کے متعلق عقیدہ۔

(2) اللہ کی صفات کے متعلق ایک عقیدہ بَداء کا ہے کہ خدا تعالیٰ بھول جاتا ہے اور جاہل بھی ہے (معاذ اللہ) اور جب کوئی کام ہوچکا ہے تو اس کو خبر ہوتی ہے اور یہ عقیدہ رکھنا اتنا ضروری ہے کہ:

القول بالبداء کما قال اصحابنا وفی اخبارنا عن الائمۃ انه ماعبداللہ بشیئ مثل البد وان اللہ لم یرسل بنیا حتیٰ اقرللہ بالبداء ۔

صفحہ 8 از 16