ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق - سنی شیعہ مناظرے | دفاع…

ملک شاہِ سلجوق کی ایک تاریخی تحقیق

  مولانا اللہ یار خانؒ

صفحہ 9 از 16

علمائے شیعہ نے بیان کیا اور ائمہ کی حدیثوں میں ہے کہ خدا کی عبادت کا حق پورا یوں ادا ہوتا ہے کہ اسے جاہل مان لیا جائے خدا نے کوئی ایسا نبی نہیں لیا جس سے بَداء اقرار نہ لیا ہو یعنی جب وہ خدا کے جاہل ہونے کا اقرار کرتا ہے تب اسے نبی بنایا جاتا۔

(3) جہاں تک لاشریک ہونے کا عقیدہ ہے اس کی تفصیل یہ ہے:

قال علی علیه السلام کنت مع ابراہیم فی النار وانا الذی جعلتھا بردا و سلاما وکنت مع النوح فی السفینۃ فانجیته من الغرق وکنت مع موسیٰ فعلمته التوراۃ والظقت عیسیٰ فی المھد وعلمته الانجیل وکنت مع یوسف فی الجب فانجیته من کیدا خوته وکنت مع سلیمان علی البساط وسخرت له الریاح۔

 سیدنا علیؓ نے فرمایا میں آگ میں حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے ساتھ تھا آگ کو ٹھنڈا اور سلامت میں نے بنایا میں حضرت نوح علیہ اسلام کے ساتھ کشتی میں تھا کشتی کو غرق ہونے سے میں نے بچایا میں حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے ساتھ تھا میں نے انہیں تو رات پڑھائی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام سے پنگھوڑے میں نے باتیں کرائیں۔ میں حضرت یوسف علیہ اسلام کے ساتھ تھا کنویں میں میں نے انہیں بھائیوں سے بچایا اور حضرت سلیمان علیہ اسلام کے ساتھ تخت پر میں ہوتا تھا ہوا کو میں نے مسخر کر رکھا تھا پھر بھی اللہ لا شریک ہے۔

علوی: حضور والا! اہلِ سنّت نے اللہ کے متعلق عجیب عقائد بنا رکھے ہیں مثلاً خدا اپنا پاؤں جہنم میں رکھے گا وہ سرد ہو جائے گی۔

عباسی: حضور والا! جنت دوزخ مکلّفین کے لیے ہیں دوزخ محلِ غضب ہے جنت محلِ رحمت ہے جیسا کہ اس کی ذات بے مثل ہے اسی طرح اس کا قدم بھی بے مثل و بے مثال ہے مراد یہ کہ جنت اور دوزخ میرے قدم قدرت کے نیچے ہیں محاورے میں کہتے ہیں فلاں کا سر میرے قدموں کے نیچے ہیں یا جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے مگر محاورہ کی بات سمجھنا علم کا کام ہے یہ تو بات وہی بنی کہ "شعر مرا بمدرسہ کہ برد"۔

حضور والا! میں شیعوں کا عقیدہ توحید بیان کر رہا تھا سو عرض ہے۔

ان الائمۃ یعلمون علم ما کان وما یکون وانه لایخفیٰ علیھم شیئی صلوات اللہ علیھم۔

امام کو ماضی اور مستقبل کا پورا پورا علم ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی چیز امام سے مخفی نہیں ہوتی۔

یہ توحید فی العلم ہوئی۔

بادشاہ: توحید کے عقیدہ کا عجیب نقشہ ہے کہ ایک طرف اللہ کے علم کو ناقص تسلیم کرنا ضروری قرار دیا گیا تو دوسری طرف اماموں کا علم محیط علیٰ کل شی ثابت کر کے ائمہ کو مقام الوہیت اور فائز کر دیا گیا ہے گویا شرک کا نام توحید رکھ دیا گیا ہے عقیدہ توحید کے ساتھ اس سے بڑھ کر مذاق کیا ہوسکتا ہے۔

اچھا اب آپ حضرات ایمان بالکتب کے متعلق اپنا اپنا عقیدہ بیان کریں۔

علوی صاحب پہلے آپ بولیں:

علوی: عالیجاہ! ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے ہمیشہ انبیاء علیہم السلام پر کتابیں نازل کرتا رہا قرآنِ کریم اللہ کی آخری کتاب ہے۔

عباسی: اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ اللہ نے روزِ اول حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا تھا:

فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَاخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۝

(سورۃ البقرہ: آیت 38)

پھر اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد کے مطابق ہر زمانے میں انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے اور ان پر کتابیں اور صحف نازل فرمائے وہ تمام کتابیں اللہ کی طرف سے تھی اور حق تھیں تا آنکہ آخری نبیﷺ پر قرآن نازل فرمایا جو قیامت تک تمام انسانوں کے لیے مکمل کتاب ہدایت ہے۔

قرآنِ کریم کی دو صفات پر بالخصوص ایمان لانا ضروری ہے کہ اوّل یہ کتاب محفوظ اور جوں کی توں موجود ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گی۔

دوم یہ کہ ہدایت کے لیے قرآن اس کے علاوہ کسی اور منزل من اللہ کتاب کی احتیاج نہیں وہ شیعہ ان دونوں امور پر ایمان نہیں رکھتے۔

علوی: حضور والا! ہم پر یہ بہتان ہیں ہم قرآن کو کامل و محفوظ سمجھتے ہیں۔

عباسی: عزت مآب! علوی صاحب جو کچھ فرما رہے ہیں اسے ان کی ذاتی رائے کہا جا سکتا ہے مگر شیعہ عقیدہ یہ نہیں ہے۔

علوی: حضور والا! میں آپ کو کیسے یقین دلاؤں کہ یہ میری رائے نہیں بلکہ ہمارا عقیدہ یہی ہے۔

بادشاہ: عباسی صاحب! کہیے آپ کے پاس اس امر کی کیا دلیل ہے کہ یہ علوی صاحب کی ذاتی رائے ہے ان کے مذہب کا عقیدہ نہیں۔

عباسی: عالیجاہ! یہ تو ثابت ہوچکا ہے کہ شیعہ مذہب کے ماخذ اللہ رسول نہیں بلکہ وہ روایات جو اماموں سے منسوب ہیں لہٰذا اس مذہب کا عقیدہ وہ ہوگا جو امام کا ارشاد ہوگا کسی عالم کی رائے کو عقیدہ نہیں کہا جاسکتا ان کے امام کا ارشاد ہے:

ان القرآن الذی جاء به جبرئیلؑ الی محمدﷺ عشرۃ الف اٰیۃ

یعنی وہ قرآن جو جبرائیلؑ محمد رسولﷺ کے پاس لے کر آئے وہ 70 ہزار آیت کا تھا۔

اور شیعہ عقیدہ کے مطابق موجودہ قرآن 6236 آیت کا ہے پھر قرآن محفوظ کیسے ہوا۔

پھر قرآن تحریف کے متعلق شیعہ اکابر علماء کا اقرار چھ قسم کا موجود ہے کہ:

  1.  تحریفِ قرآن کی روایات کثیرہ ہیں زائد از دو ہزار ہیں اور روایات امامت سے کم نہیں ہیں۔
  2. یہ روایات تحریف پر صاف دلالت کرتی ہیں نہ تاویل کی ضرورت نہ شک کی گنجائش۔
  3. یہ روایت تحریف متواتر ہیں۔
  4. تحریفِ قرآن کا عقیدہ عقل کے عین مطابق ہے۔
  5. تحریفِ قرآن کا عقیدہ شیعہ مذہب کی ضروریاتِ دین میں سے ہے اور ضروریاتِ دین کا انکار کفر ہے اس لیے قرآن کی تحریف کا انکار بھی کفر ہے۔
  6.  ان روایات کے مطابق شیعہ کا عقیدہ ہے۔

اقرار نمبر1: روایات کا کثیر ہونا اس امر کا اعتراف ہے کہ اگر چند روایات ہوتیں تو تردید ہوسکتی تھی اب تو یا امامت کو چھوڑنا پڑے گا یا قرآن سے دستبردار ہونا قبول کیا۔

اقرار نمبر 2: صریح دلالت قید سے ظاہر ہے کہ ان روایات کی تاویل نہیں ہوسکتی۔

اقرار نمبر3: متواتر سے ظاہر ہے کہ قرآن تواتر سے ثابت اگر روایات غیر متواتر ہوں تو تحریفِ قرآن ثابت نہیں ہوسکتی۔

اقرار نمبر 4: مطابقِ عقل ہونے کا اعتراف یہ ثابت کرتا ہے کہ مرتدین کے ہاتھوں جمع کیا ہوا قرآن کا صحیح ہونا عقلاً محال ہے۔

اقرار نمبر 5: عقیدہ کہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تحریفِ قرآن کوئی محض علمی مسئلہ نہیں کہ اس میں اختلاف رائے کی گنجائش ہو بلکہ یہ تو شیعہ کا اجتماعی عقیدہ ہے۔

صفحہ 9 از 16