یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 1 از 19
بسم الله الرحمٰن الرحيم
یہ زورِصداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سُنّی کیا
 ہمارے دوست مولوی عبدالرحمٰن صاحب نے جن کے دل میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  کی خاص عقیدت ہے جو اس شہرہ آفاق مناظرے کا عربی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے اس کا تمام مسلمانوں کو منونِ احسان ہونا چاہیئے ہم نے اس مضمون کو پڑھا ہے اور مزے لے لے کر پڑھا ہے اس سے مذہبِ اہلِ سنت والجماعت کے حق پر ہونے کا ہمیں اور بھی یقین واثق ہو گیا ہے امید ہے جو اہلِ بصیرت اس کا تعصب کی عینک اتار کر مطالعہ کریں گے وہ کبھی پسند نہیں کریں گے کہ ایک لمحہ کے لیے بھی شیعہ مذہب میں رہیں۔
نادر شاہ کا شیعہ سے سُنی ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے کوئی شخص کبھی خواب میں بھی وہم نہیں کر سکتا کہ نادر شاہ جیسا جواں مرد بہادر تقیہ سے سُنی ہو گیا ہو نادر کے حالات کا وقتِ نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد ثابت ہو گا کہ وہ کسی دباؤ یا حرص سے سُنّی نہیں ہوا بلکہ صداقت نے اسے مجبور کیا کہ وہ ایسے مذہب کو خیر باد کہے جو حق کو چھپانے کی تلقین کرتا ہے اور اسی لیے اس قابل نہیں کہ کوئی شجاع اور غیور انسان اسے ایک ساعت کے لیے بھی قبول کرے۔
نادر ایران میں اس وقت پیدا ہوا جب یہ فاروقی مجاہدوں کی پاک کردہ سر زمین سلاطینِ صفویہ کی شیعیت نوازی سے قریباً پونے دو سو سال سے رفض و بدعت کا گھر بن چکی تھی وہاں جو لڑکا پیدا ہوتا تھا اس کے کان میں صحابہ کرامؓ  کے حق میں کبھی کلمہ خیر نہیں پڑھ سکتا تھا اسی لئے جب نادر جوان ہوا تو اس نے شیعی دین کی حمایت کو اپنا نصبُ العین قرار دیا چنانچہ زور حاصل کر کے جو اس نے پہلا کام کیا وہ سُنی افغان بادشاہ اشرف کی حکومت کا ایران سے استیصال تھا اشرف چار سال سے فارس کا بادشاہ چلا آتا تھا چونکہ وہ اہلِ سنت والجماعت سے تعلق رکھتا تھا اس لئے نادر نے سن 1143 ھ 1729ء میں اس کی بادشاہی کا خاتمہ کر کے اس کی جگہ طہماسپ صفوی شیعی کو بادشاہ بنا دیا۔
اس کے تعصب کا یہیں خاتمہ نہیں ہو گیا بلکہ وہ اور آگے بڑھا اور غیر شیعہ اقوام کو ایران سے خارج کر کے اس نے قابل و قندھار بھی فتح کر لیا ہمارے شہر لاہور میں بھی آیا اور یلغار کرتا ہوا دہلی جانچا جہاں سن 1150ھ میں اس نے قتل عام کرایا اور 30 کروڑ کی مالیت کا مالِ غنیمت لیکر ایران کو واپس چلا گیا۔
اس وقت سلطنتِ عثمانیہ دنیا میں بہت بڑی اسلامی سلطنت تھی جس کا مذہب بفضلہ اہلِ سنت والجماعت تھا نادر چونکہ شیعہ مذہب کا بڑا حامی تھا اس لئے اس نے اس پر بھی دھاوا بول دیا اِس حملہ سے بھی اس کی اصلی غرض شیعہ مذہب کو فروغ دینا اور اس کا کعبہ میں پانچواں مصلیّٰ قائم کرانا تھا یہ ہماری رائے ہی نہیں ہے بلکہ تمام معتبر تاریخیں ہمارے بیان کی تصدیق کرتی ہیں دیکھو تاریخِ ملکم تاریخِ عثمانی صفحہ، 239 اور تاریخِ خاندانِ عثمانیہ صفحہ، 91 وغیرہ حق کا زور دیکھو صداقت کی طاقت ملاخطہ کرو کہ وہی نادر جو شیعہ مذہب کو کل جہان میں فروغ دینا چاہتا تھا صدق و راستی کے سامنے اس قدر مجبور ہوا کہ نہ صرف خود سُنّی بن گیا بلکہ اس نے حکم دے دیا کہ شیعہ مذہب میں جو کفریات بھری ہیں ان کو چھوڑ دیا جائے اور خطبوں میں بڑے زور سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیقؓ یا سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کے نام کی منادی ہو چنانچہ یہ حکم نادری نافذ ہوتے ہی عمل پذیر ہو گیا اور کوفہ کی جامع مسجد سب سے پہلے ان مبارک ناموں سے گونج اٹھی کیا ہے کوئی سوچنے والا! جو سوچے اور سمجھے کہ نادر جیسے طاقتور انسان کو کس نے مجبور کیا کہ مذہب حق کی تائید کرے صاحبان یہ مذہب اہلِ سنت والجماعت کی صداقت ہے جس کے سامنے بڑے بڑے گردن کشوں کے سر تسلیم خم ہو جاتے ہیں نادر ایک غیور بہادر تھا اس کے لئے شیعہ رہنا واقعی باعثِ ننگ و عار تھا وہ شیر تھا اگرچہ بھیڑوں کے گلے میں اس کی نشوونما ہوئی تھی جب اس نے اپنے ہم جنس شیروں (ترکوں) کو دیکھا تو وہ حق کا قائل ہو گیا اور اس نے ایسے دین میں رہنا پسند نہ کیا جس کے اظہار میں بقول جعفر صادق رحمۃ اللہ ذلت ہو اور جس کے پیروؤں نے دنیا میں کبھی کوئی قابلِ فخر اسلامی کام نہ کیا ہو آپ اس رسالہ کا نام جس کا ترجمہ پیش کیا جاتا ہے معلوم کرنے کے لئے بیتاب ہوں گے سو عرض ہے کہ یہ "الحج القطعية لاتفاق فرق الاسلامیہ" سے موسوم ہے اور اس کے مصنف علامہ سید عبداللہ آفندی بن حسین بن مرعی بن ناصر الدین بغدادی عباسی ہیں جو سویدی کے لقب سے مشہور ہیں اور جن کا ذکر اصل کتاب میں با رہا آیا ہے یہ کتاب سن 1323ھ میں مطبع موسوم السعادة واقع مصر کی طبع شدہ ہے۔
 اِعْتِذَار
 ہم مترجم رسالہ ہذا سے طالبِ معافی ہیں کہ انہوں نے اس عجالہ نافعۂ کے ترجمہ کرنے میں جو تکالیف "خالصاً لوجہ اللہ" گوارا فرمائیں اس سے ہم نے بردرانِ اسلام کو اس قدر دیر کے بعد مستفیض کیا اصل بات یہ ہے کہ جب مولوی صاحب کی یہ تالیف موصول ہوئی ہم نے اسے چند علماءِ کرام کو دکھایا مضمون تھا ہی ایسا دلچسپ کہ سب کو پسند آتا مگر چونکہ ہم بغیر اچھی طرح اطمینانِ قلب حاصل کر لینے کے کوئی رسالہ نہیں چھاپتے اور تقیہ شعار مخالفین کی طرح بے تکی نہیں ہانکتے اس لئے ہم نے مترجم صاحب سے استدعا کی کہ وہ اصل عربی کتاب بھی ارسال فرمائیں تاکہ اس سے مقابلہ کر کے رسالہ شائع کیا جائے مولوی صاحب موصوف نے فرمایا کہ وہ کتاب دوسری کتابوں کے ساتھ مجلد ہے جب وہ لاہور آئیں گے ساتھ لیتے آئیں گے اس کے بعد آپ سے ملاقات نہ ہوئی اور مسودہ کاغذوں میں ایسا دبا کہ یاد ہی سے اتر گیا حال ہی میں ایک اور مولوی صاحب نے ذکر کیا کہ ہمارے پاس عربی میں ایک صحیح تاریخی مناظرہ کی کتاب ہے جس کا ترجمہ ہم نے شروع کر دیا ہے اسے دائرۃ الاصلاح ضرور شائع کرے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ وہی کتاب ہے جس کا ترجمہ ہمارے پاس موجود ہے پس ترجمہ کو اصل کے مطابق پاکر ہم نے اپنے فاضل دوست کی محنت کی داد دی اور رسالہ فوراً کاتب کو دے دیا امید ہے مولوی صاحب یہ بیان سُن کر اس دیر کو حق بجانب قرار دیں گے کیونکہ:
اگر دیر آمدم شیر آمدم شیر 
 دائرة الاصلاح لاہور
 مقدمہ
صفحہ 1 از 19