یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 10 از 19
خدا کی قسم اگر میں سیدنا علیؓ کی خلافت کے متعلق دو دلیلیں اس کے سامنے پیش کروں تو وہ ان کا جواب کبھی نہیں دے سکے گا بلکہ وہ دو دلیلیں ایسی ہیں کہ تمام اکابر اہلِ سنّت بھی ان کا جواب دینے سے عاجز ہیں ملاباشی نے اس جملے کو تین دفعہ دوہرایا آخر کار مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے پوچھا کہ بتائیے وہ کونسی ایسی دو دلیلیں ہیں جن کا جواب کوئی سُنی عالم نہیں دے سکتا ملاباشی نے کہا کہ تعیین بحث سے پہلے میں آپ سے صرف یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا آنحضرتﷺ نے سیدنا علیؓ کو یہ نہیں فرمایا تھا کہ "انت منی بمنزلة هارونؑ من موسىٰؑ الا انه لا نبی بعدی" اور کیا آپ اس کو مرفوع صحیح حدیث تسلیم کرتے ہیں یا نہیں میں نے کہا ہاں یہ ایک مشہور حدیث ہے اور اس کی صحت اور سقم پر آگے چل کر بحث کریں گے تم اپنا مطلب بیان کرو ملاباشی نے کہا کہ یہ حدیث بلحاظ اپنے صریح اور صاف مفہوم کے اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ آنحضرتﷺ کے بعد خلیفہ برحق سیدنا علیؓ ہیں میں نے پوچھا کہ خلافتِ سیدنا علیؓ پر اس حدیث سے کس طرح استدلال کرتے ہو تفصیلاً بیان کرو اس نے کہا کہ اس حدیث میں آنحضرتﷺ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے تمام مراتب سوائے نبوت کے سیدنا علیؓ کے لئے ثابت کر دیئے ہیں اور صرف نبوۃ کو مستثنیٰ قرار دیا ہے اور استثناء معیار العلوم ہے لہٰذا سیدنا علیؓ کے لئے خلافت ثابت ہوئی کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام کے مناصب میں سے ایک خلافت بھی ہے اب اگر حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے نہ مر جاتے تو وہ ان کے بعد خلیفہ ہوتے میں نے کہا کہ تمہارے صریح کلام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قضیہ موجبہ کلیہ ہے تو بتاؤ کہ اس ایجاب کلی کا سور (وہ علامت جو کلیت پر دلالت کرتی ہے) کیا ہے؟ اس نے کہا اس کا سور بقرینہ استثناء وہ اضافت ہے جو استغراق میں ہے میں نے کہا بہتر ہے اب تفصیلی جواب سنو تمہارا یہ مذہب ہے کہ خلافت کے ثبوت کے لئے نص جلی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ حدیث نص جلی نہیں کیونکہ محدثین میں سے کوئی تو اس کو صحیح ٹھہراتا ہے اور کوئی حسن اور کوئی ضعیف بلکہ علامہ ابنِ جوزی نے اس کو موضوع قرار دیا ہے لہٰذا یہ حدیث خلافتِ سیدنا علیؓ کو ثابت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ تمہارے مذہب کے مطابق نص جلی نہ رہی ملاباشی علی اکبر نے کہا کہ بیشک ہمارا یہی مذہب ہے کہ ثبوت خلافت کے لئے نص جلی کی ضرورت ہے اور میں اس امر کو بھی تسلیم کرتا ہوں کہ یہ حدیث نص جلی نہیں اور ہم تو مذکورہ بالا حدیث سے خلافتِ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ثابت نہیں کرتے بلکہ ہم تو "حدیث الطائر" اور "حدیث سلموا علی علی اموءة المومنین" سے حضرت علیؓ کی خلافت ثابت کرتے ہیں اور یہ دونوں حدیثیں حضرت علیؓ کی خلافت پر نص جلی ہیں لیکن چونکہ اہلِ سنّت ان دونوں حدیثوں کو موضوع قرار دیتے ہیں لہٰذا میں نے ان دونوں حدیثوں کو چھوڑ کر آپ سے یہ سوال کیا ہے کہ آپ اس حدیث سے خلافتِ سیدنا علیؓ کو کیوں نہیں ثابت کرتے جو کہ آپ کی کتابوں میں موجود ہے۔
 شیعی دلائل کا عالمانہ رَد
 میں نے کہا کہ یہ حدیثِ خلافتِ سیدنا علیؓ پر دلیل نہیں ہو سکتی اوّل تو اس لئے کہ تمام مراتب حضرت ہارون علیہ السلام کا استغراق سیدنا علیؓ کے لئے ممنوع ہے کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بھی نبی تھے حالانکہ سیدنا علیؓ بالاتفاق نہ تو آنحضرتﷺ کی زندگی میں نبی تھے اور نہ ہی آپﷺ کے بعد اس لئے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کے تمام مراتب سیدنا علیؓ کے لئے ثابت کئے جائیں تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ سیدنا علیؓ آنحضرتﷺ کی موجودگی میں اور آپﷺ کے بعد بھی نبی ہوں "واللازم باطل فالملزوم مثلہ" کیونکہ مطلق نبوت جو حضرت ہارون علیہ اسلام کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے مستثنیٰ نہیں کی گئی بلکہ مستثنیٰ تو نبوت بعد النبیﷺ ہے دوم یہ کہ حضرت ہارون علیہ السلام کے مراتب میں سے مثلاً ایک امر یہ بھی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حقیقی بھائی ہیں حالانکہ سیدنا علیؓ رسولﷺ کے حقیقی بھائی نہیں ہیں اور یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے "العام اذا تخصص من غير استثناءٍ صارت دلالتہ ظنيةً" لہٰذا اس حدیث سے صرف ایک ہی مرتبہ مراد لیاجا سکتا ہے چنانچہ لفظ "بمنزلت" میں تا "وحدت" کا بھی یہی مقتضیٰ ہے جب یہ ہوا تو پھر یہ اضافتِ "عہدی" ہوئی نہ کہ "استغراقی" جیسا تمہارا خیال ہے "والاصل فی الاضافتہ ان تكون للعہا" اور لفظ "الا" اس حدیث میں معنیٰ لٰکن ہے جیسے کہتے ہیں "فلان جواد الا انه جيان" پس یہ قضیہ موجبہ کلیہ نہ ہوا جیسا کہ تمہارا خیال ہے بلکہ یہ قضیہ مہملہ ہے جس میں افراد کی کمیت بیان نہیں کی جاتی اور جس میں مناطقہ کے نزدیک بعض غیر معین افراد ہی مراد لیے جاتے ہیں اور تعیین کرنے والا کوئی خارجی امر ہوتا ہے اور یہاں اس حدیث میں وہ خاص مرتبہ معینہ مراد ہے جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں حاصل ہوا تھا جب کہ ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر جاتے ہوئے اپنی قوم میں اپنا جانشین چھوڑ گئے تھے چنانچہ آیت اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ الخ (سورة الاعراف آیت نمبر 142) اس پر دلالت کرتی ہے۔ 
 نبیﷺ کی زندگی میں خلافت
صفحہ 10 از 19