یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 11 از 19
 اور سیدنا علیؓ کا وہ خاص مرتبہ اس حدیث میں جو کہ ان کو آنحضرتﷺ کی زندگی میں حاصل ہوا جب کہ آنحضرتﷺ نے ان کو واقعہ غزوہ تبوک میں مدینہ منورہ میں اپنا جانشین بنایا تھا ملاباشی نے کہا کہ آنحضرتﷺ کا سیدنا علیؓ کو خلیفہ بنانا اس امر کی دلیل ہے کہ سیدنا علیؓ افضل ہیں اور ان کے بعد خلافت انہی کا حق ہے میں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں کیونکہ پھر تو ابنِ ام مکتوم کا بھی یہی حق ہے کہ وہ آنحضرتﷺ کے بعد خلیفہ ہوں کیونکہ ان کو بھی آنحضرتﷺ نے مدینہ منورہ پر خلیفہ بنایا تھا لہٰذا سیدنا علیؓ کی تخصیص تم نہیں کر سکتے جب کہ اس استخلاف میں سب برابر ہیں اور نیز اس واقعہ میں سیدنا علیؓ کا مدینہ منورہ میں خلیفہ بنایا جانا اگر باعثِ فضیلت ہوتا تو خود سیدنا علیؓ اس کے برخلاف احتجاج نہ کرتے اور اس پر راضی ہو جاتے حالانکہ سیدنا علیؓ اس پر راضی نہ تھے چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں میں چھوڑ چلے ہیں جس کے جواب میں آنحضرتﷺ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے یہ فرمایا تھا "اما ترضى ان تكون منى الخ"۔
 اس پر ملاباشی علی اکبر نے یہ کہا کہ تمہارے اصولِ فقہ میں یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ "العبرة لعموم اللفظ لالخصوص السبب" میں نے جواب دیا کہ میں نے خصوصِ سبب کو دلیل نہیں ٹھہرایا بلکہ خصوصِ سبب حرفِ قرینہ ہے جو کہ ایک مبہم رہم فرد کی تعیین کرتا ہے اس پر ملاباشی خاموش ہو گیا۔
 خلافتِ سیدنا علیؓ پر دوسری دلیلِ مباہلہ اور اس کی حقیقت
 اس کے بعد اس نے کہا کہ میرے پاس ایک اور دلیل ہے جو کسی تاویل کو قبول نہیں کر سکتی اور وہ خدا تعالیٰ کا یہ قول ہے:
فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ (سورۃ آلِ عمران آیت 61)
صفحہ 11 از 19