یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 12 از 19
میں نے کہا کہ دلیل کی وجہ بیان کرو کہ خلافتِ سیدنا علیؓ کو کس طرح اس آیت سے ثابت کرتے ہو اس نے کہا کہ جب نجران کے عیسائی مباہلہ کے لئے آئے تو آنحضرتﷺ نےاپنی آلِ بیت یعنی سیدنا حسینؓ اور سیدنا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کو بلایا اور دعاء کے لئے نکلے اور دعاء کے لئے اس شخص کو پیش کیاجا سکتا ہےجو افضل ہو میں نے جواب دیا کہ اس سے صرف مناقب ثابت ہو سکتے ہیں نہ کہ فضائل فضائل اور چیز ہیں اور مناقب اور ہر ایک صحابی جیسا کہ کُتبِ سیر سے معلوم ہوتا ہے ایک خاص قسم کی منقبت رکھتا تھا جو دوسرے میں نہیں پائی جاتی تھی دوم یہ کہ قرآنِ مجید کا نزول محاورت عرب کے مطابق ہوا ہے مثلاً دو قبیلوں کے دو بڑے بڑے سرداروں میں لڑائی کی صورت پیدا ہو جائے اور ان میں سے ایک دوسرے سے کہے کہ تم بھی اپنے قبیلے کے چند خاص آدمیوں کو بلاؤ یعنی لڑائی کے لئے اور میں بھی اپنے قبیلے کے چند خاص آدمیوں کو لیکر نکلتا ہوں اور کوئی غیر آدمی نہ تو تمہارے ساتھ ہو اور نہ ہی میں ساتھ لاؤں گا تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دو بڑے سرداروں کے پاس سوا ان کے چند خاص آدمیوں کے اور کوئی بہادر نہیں ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو بہادری میں ان کے اپنے قبیلے کے لوگوں سے زیادہ ہوں لیکن چونکہ دشمن نے یہ شرط لگائی ہے کہ جانبین میں سے صرف اپنے ہی قبیلے کے لوگ ہوں لہٰذا لڑائی کے لیے انہی کو بلایا جائے گا سوئم یہ کہ اس واقعہ میں آنحضرتﷺ نے اپنے اقارب کو اس لئے بلایا تھا کہ اقارب کے روبرو اور ان کی معیت میں دعاء میں خشوع اور خضوع زیادہ ہوتا ہے جس سے دعا جلدی قبول ہوتی ہے ملاباشی علی اکبر نے کہا کہ خشوع اور خضوع دعا میں سوائے کثرتِ محبت کے پیدا نہیں ہو سکتا لہٰذا رسولﷺ کو اپنی اہلِ بیت کے ساتھ نسبت اور لوگوں کے زیادہ محبت ہو گی میں نے کہا کہ انسان کو اپنی اولاد یا خویش و اقارب سے جو محبت ہوتی ہے وہ طبعی اور جبلی محبت ہوتی ہے اور انسان بالطبع اپنی جان کو اور اپنی اولاد وغیرہ کو تمام دوسرے لوگوں سے جو اس کی اولاد سے افضل بھی ہوتے ہیں زیادہ محبوب رکھتا ہے اور اس طبعی محبت پر کوئی ثواب یا عذاب مرتب نہیں ہو سکتا بلکہ وہ محبت جو موجبِ ثواب یا عذاب ہے وہ اختیاری محبت ہے نہ کہ اضطراری ملاباشی علی اکبر نے کہا کہ اس آیت میں ایک اور بات بھی ہےجو سیدنا علیؓ کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے وہ یہ کہ اس میں آنحضرتﷺ کے نفس کو سیدنا علیؓ کا نفس اور ان کی جان کو سیدنا علیؓ کی جان قرار دیا گیا ہے کیونکہ ابناءنا سے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ مراد ہیں اور نساءنا سے سیدہ فاطمہؓ مراد ہیں اور باقی لفظ انفسنا میں سوائے آنحضرتﷺ اور سیدنا علیؓ اور کوئی باقی نہیں رہا میں نے جواب دیا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں نہ تو علمِ اصول سے واقفیت ہے اور نہ ہی عربی زبان کی تم قواعد جانتے ہو کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہاں لفظ انفسنا ذکر کیا ہے اور لفظ انفس جمع قلت ہے جو نا علامت جمع متکلم کی طرف مضاف ہے ومقابلة الجمع بالجمع يقتضى تقسیم الاحاء علم معانی وغیرہ کا ایک مسلمہ اصول ہے مثلاً جب ہم یوں کہتے ہیں رکب القوم دوابھم تو اس کے یہ معنیٰ ہوتے ہیں رکب کل واحد دابتہ اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو تمام کتبِ اصول میں مذکور ہے اور یہاں جو جمع کا اطلاق ما فوق الواحد پر کیا گیا ہے یہ بھی مسموعی امر ہے جو اہلِ زبان سے سنا گیا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ الخ (سورۃ النور آیت نمبر 26) مبرءون جمع کا صیغہ ہے جس سے صرف سیدہ عائشہؓ اور صفوان مراد ہے۔ اور پھر فرمایا فقد فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَاۚ (سورۃ التحریم آیت نمبر 4) قلوب جمع قلب کی ہے حالانکہ دو آدمیوں کے صرف دو ہی دل ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ منطق والے جمع کا اطلاق ما فوق الواحد پر بھی کرتے ہیں لہٰذا یہاں ابناء جو جمع کا لفظ ہے اس سے مجازاً صرف سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اور نساء سے بھی جو جمع ہے فقط سیدہ فاطمہؓ مجازاً مراد ہیں ہاں اگر لفظ انفسنا سے بجائے نفسی ہوتا تو البتہ اس کے لئے بظاہر کوئی نہ کوئی وجہ ہو سکتی تھی نیز اگر اس آیت سے سیدنا علیؓ کی خلافت ثابت ہو سکتی ہے جیسا کہ تمہارا خیال ہے تو پھر اس سے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی خلافت بھی ثابت ہونی چاہیئے حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں کیونکہ سیدنا حسنؓ و سیدنا حسینؓ اس وقت چھوٹے بچے تھے اور سیدہ فاطمہؓ باقی عورتوں کی طرح خلافت کا استحقاق نہیں رکھتی تھیں اس پر ملاباشی خاموش ہوگیا (دائرہ رساله دخترانِ نبیﷺمیں بھی اس مسئلہ پر لطیف بحث کر چکا ہے)۔
نماز میں زکوٰۃ دینے سے استحقاقِ خلافت
اس کے بعد ملی باشی علی اکبر نے کہا کہ میرے پاس سیدنا علیؓ کی خلافت پر ایک اور آیت کی دلیل بھی ہے یعنی اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ (سورۃ المائدہ 55)
صفحہ 12 از 19