یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 13 از 19
اس آیت کے متعلق کئی جواب ہیں جو منہاجُ السنتہ سے نہایت اختصار کے ساتھ ہم نقل کرتے ہیں اوّل یہ کہ سیدنا علیؓ کے متعلق یہ قصہ جعلی اور موضوع ہے چنانچہ پہلے اور دوسرے طبقے کے مفسرین نے اس کو بیان نہیں کیا دوم یہ کہ وہی ثعلبی جو اس قسم کے سینکڑوں موضوع اور جعلی بیان کرتا ہے اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ بقول سیدنا ابنِ عباسؓ یہ آیت سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے حق میں نازل ہوئی سوم یہ کہ اس تفسیر میں عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابوجعفر محمد بن علی سے اس آیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سے تمام مومنین مراد ہیں اور سیدنا علیؓ بھی مومنین میں سے ہیں چہارم یہ کہ اگر رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دینا موالات کے لئے شرط ہے تو پھر مسلمان سوائے سیدنا علیؓ کے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ اور باقی بنی ہاشم سے موالات نہ رکھیں کیونکہ ان میں یہ شرط نہیں پائی گئی حالانکہ یہ باطل ہے پنجم یہ کہ خدا تعالیٰ انسان کے اس فعل کی تعریف کرتا ہے جو اس کے نزدیک پسندیدہ ہوتا ہے خواہ وہ فعل واجب ہو یا مستحب وغیرہ ہو جب یہ ہے تو پھر نماز کی حالت میں صدقہ دینا یا ہبہ یا ہدیہ یا نکاح یا اجارہ وغیرہ کرنا باتفاق کسی کے نزدیک بھی نہ فرض ہے اور نہ واجب اور نہ سنت اور نہ ہی مستحب ہے بلکہ اکثر علماء کا یہ مذہب ہے کہ ایسا کرنا نماز کو باطل کر دیتا ہے خواہ کلام کرے یا نہ کرے اور اگر ایسا کرنا مستحسن فعل ہوتا تو خود آنحضرتﷺ بھی کرتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی حکم دیتے کہ تم نماز میں زکوٰۃ دیا کرو اور خود سیدنا علیؓ بھی اس واقعہ کے سوا بھی ہمیشہ ایسا ہی کرتے لیکن جب یہ نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ نماز میں صدقہ دینا اعمالِ صالح میں سے نہیں ہے ششم یہ کہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ صدقہ دینا نماز میں ضروری ہے تو پھر رکوع کی تخصیص غیر ضروری ہے کیونکہ قیام اور قعود کی حالت میں زیادہ آسانی کے ساتھ دیاجا سکتا ہے پھر یہ کیسے کہا گیا کہ ولی وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو صرف رکوع کی حالت میں صدقہ دیتے ہیں ہفتم یہ کہ یوتون الزکوۃ وھم راکعون شیعوں کے اس جعلی قصہ کے مطابق یہ چاہتا ہے کہ سیدنا علیؓ نے رکوع کی حالت میں چاندی کی انگوٹھی بطورِ زکوٰۃ دی حالانکہ سیدنا علیؓ عہدِ نبویﷺ میں فقیر تھے اور چاندی کے نصاب میں زکوٰۃ اس شخص پر واجب ہوتی ہے جو سال بھر تک اس نصاب کا مالک رہا ہو اور سیدنا علیؓ کی یہ حالت نہ تھی اور اس کے متعلق زیادہ تفصیل منہاجُ السنہ میں دیکھو مترجم)
کیونکہ تمام اربابِ تفاسیر کا اتفاق ہے کے یہ آیت سیدنا علیؓ کے حق میں اُس وقت نازل ہوئی تھی جبکہ نماز کی حالت میں انہوں نے ایک سائل کو اپنی انگشتری دے دی تھی اس آیت میں لفظ انما حصر کے لئے ہے اور ولی بمعنی اولی منکم بالتصرف ہے میں نے کہا میرے پاس اس آیت کے بہت سے جواب ہیں لیکن قبل اس کے میں جوابی تقریر کروں اہلِ مجلس میں سے ایک شیعہ نے فارسی زبان میں ملا ضباشی علی اکبر سے کہا اس شخص کے ساتھ مباحثہ نہ کرو کیونکہ یہ مجسم شیطان معلوم ہوتا ہے اور تم جس قدر دلائل بیان کرتے جاؤ گے ان سب کا یہ جواب دیتے چلا جائے گا جس سے تمہاری وقعت نہیں رہے گی لہٰذا ملاباشی علی اکبر نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر کہا کہ آپ تو ایک زبردست فاضل ہیں اور تمام دلائل کا مسکت جواب دیتے جاتے ہیں اور میرا مطلب صرف یہ تھا کہ میں بحرُ العلم کے ساتھ مناظرہ کرتا جو میری ان باتوں کا کبھی جواب نہ دے سکتا میں نے کہا کہ چونکہ تم نے اس وقت یہ کہا تھا کہ میرے ان دلائل کا کوئی سُنّی عالم جواب نہیں دے سکتا لہٰذا مجھے مجبوراً تم سے معارضہ کرنا پڑا ورنہ ضرورت نہ تھی اس پر ملاباشی نے کہا کہ میں عجمی آدمی ہوں اور مجھے عربی زبان اچھی طرح بولنی نہیں آتی اور ایسی حالت میں ممکن ہے کہ میری زبان سے کوئی لفظ نکل جائے جو میرے مقصود سے بعید ہو اور اس پر مجھے پشیمان ہونا پڑے۔
نکاحِ اُم کلثومؓ والا لاجواب سوال
اس کے بعد میں نے ملاباشی علی اکبر سے کہا کہ اب میں تم سے دو سوال ایسے پوچھتا ہوں جن کا جواب تمام شیعہ علماء کبھی نہیں دے سکیں گے ملاباشی علی اکبر نے کہا وہ کون سے سوال ہیں میں نے کہا کہ پہلا سوال تو یہ ہے کہ تمہارے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا کیا حکم ہے اس نے کہا کہ تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سوائے سیدنا علیؓ سیدنا مقدادؓ سیدنا ابوذرؓ سیدنا سلیمان فارسیؓ اور سیدنا عمار بن یاسرؓ کے مرتد ہوگئے تھے کیونکہ انہوں نے سیدنا علیؓ کو خلیفہ نہیں بنایا میں نے کہا کہ جب تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کافر تھے تو سیدنا علیؓ نے اپنی لڑکی سیدہ ام کلثوم کی شادی سیدنا عمرؓ کے ساتھ کیسے کر دی تھی ملاباشی علی اکبر نے جواب دیا کہ شاید سیدنا عمرؓ نے زبردستی سیدنا علیؓ سے ان کی لڑکی لے لی ہوگی میں نے کہا کہ خدا کی قسم تم سیدنا علیؓ کو بے عزت بنا کر ان کی سخت ہتک کر رہے ہو اور تم ان کے متعلق ایک ایسی ذلت کا اعتقاد رکھتے ہو جس کو سیدنا علیؓ تو کجا ایک ادنیٰ غیرت مند عرب بھی کبھی گوارا نہیں کر سکتا چہ جائیکہ بنی ہاشم جو تمام عرب کے سردار تھے وہ اس بےعزتی اور بےغیرتی کو قبول کر لیتے پھر سیدنا علیؓ جو شیرِ خدا ہوں اور ذوالفقار قاتلِ کفار ان کے ہاتھ میں ہو وہ ذلیل تریں عربوں سے بھی گر جائیں کہ سیدنا عمر فاروقؓ ان کی لڑکی کو زبردستی لے جائیں اور وہ دیکھتے رہ جائیں۔
صفحہ 13 از 19