یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 14 از 19
(اس مقام پر اس امر کا بیان کر دینا ضروری ہے کہ موجودہ شیعہ حضرات اس شادی کے متعلق طرح طرح کی تاویلوں سے کام لے کر اس واقعہ کا انکار کرتے ہیں لیکن تمام قدما اس کو تسلیم کرتے چلے آتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ کے ساتھ سیدہ ام کلثوم بنتِ علیؓ کی شادی ہوئی تھی چنانچہ اس بنا پر ملاباشی علی اکبر جو شیعہ علماء کا صدر تھا اس واقعہ سے انکار تو نہ کر سکا اور اس میں زبردستی کی تاویل کی غور کا مقام ہے کہ اگر یہ تاریخی واقعہ غلط ہوتا تو اس وقت ستر سے زائد شیعہ علماء موجود تھے جن کی پشت پر ان کی امداد کے لئے نادر شاہ کی قہار فوجی طاقت بھی موجود تھی پھر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ بولا کہ یہ واقعہ غلط ہے اور سیدنا عمرؓ کے ساتھ یہ شادی نہیں ہوئی جب یہ ہے تو پھر اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ ستر سے زائد شیعہ مجتہدوں نے اس واقعہ کو اسی طرح صحیح تسلیم کر لیا جیسا کہ ان سے پہلے لاکھوں شیعہ علماء اس کو تسلیم کرتے چلے آئے تھے اس لئے موجودہ شیعہ کا انکار جہالت اور مکابرۀ محض ہے اس موضوع پر ملاحظہ ہو:
(دائرة الاصلاح لاہور کابرسالہ قرآن الیعدن مترجم)
اس کے بعد ملاباشی جیسا کہ غرق ہونے والا آدمی ہاتھ پاؤں مارتا ہوا کسی چیز کا سہارا ڈھونڈھتا ہے جب یہ سمجھا کہ زبردستی والا اعتقاد تو اور اپنی اس تباہی کا موجب بنا جس سے سیدنا علیؓ کو بے عزت تسلیم کرنا پڑتا ہے تو وہ دیوانہ وار کہنے لگا کہ شاید وہ عورت جس کی شادی سیدنا علیؓ کے ساتھ ہوئی تھی وہ حقیقت میں سیدہ ام کلثوم بنتِ علیؓ نہ ہو بلکہ کوئی بھوتنی اور جننی عورت ہو جس نے سیدہ ام کلثوم بنتِ علیؓ کی شکل اختیار کر لی ہو میں نے جواب دیا کہ تمہاری یہ تاویل پہلی تاویل سے بھی زیادہ بری اور تباہ کن ہے کیونکہ اگر اس تاویل کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر شریعت کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں اور اس ایک شرعی (بلکہ غیر شرعی امر میں بھی یہی تاویل چل سکے گی مثلاً کوئی شخص اپنی عورت کے پاس جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ عورت یہ کہدے کہ تو جن ہے جو میرے خاوند کی شکل بن کر آیا ہے میرے پاس سے چلا جا پھر اگر وہ شخص دو عادل گواہ پیش کرے کہ میں وہی تیرا خاوند ہوں تو پھر بھی یہی احتمال ہوگا کہ وہ دونوں عادل گواہ جن ہوں جنہوں نے انسانی شکل اختیار کر لی ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان کسی کو قتل کر کے یہ کہدے میں نے اس کو نہیں مارا۔ بلکہ میری شکل کسی جن نے اختیار کر لی ہو گی اور اس نے یہ قتل کیا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سیدنا جعفر صادق جس کی بابت تمہارا خیال ہے کہ تم اس کے مذہب پر ہو اور تمہارے جو عقائد ہیں وہ اس کے عقائد تھے وہ حقیقت میں کوئی جن ہو جس نے سیدنا جعفر صادق کی شکل اختیار کر لی ہو اور تم کو عقائد سکھانے آگیا ہو پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جس شخص نے سیدنا علیؓ کو قتل کیا ہے وہ کوئی جن ہو جس نے ابنِ ملجم کی شکل اختیار کر لی ہو اور اس طرح کربلا کے معرکہ میں ابنِ زیاد اور شمر وغیرہ کی شکلیں جنات نے اختیار کر کے سیدنا حسینؓ کو شہید کر دیا ہو اور تمہارا وہ امام جو سرمن رائے علاقہ شام کی غار میں جا کر چھپ گیا ہے وہ حقیقت میں کوئی جن ہوجس نے امام منتظر کی شکل اختیار کر لی ہو کیا سچ کہا ہے۔ 
ان الروافض قوم لاخلاف لهم من اجھل الناس فی علم واكذبه۔
اس پر ملاباشی علی اکبر خاموش ہو گیا۔
 اصحابِ ثلاثہؓ کے عہد کے جائز جہاد
 اس کے بعد میں نے ملاباشی سے کہا کہ دوسرا سوال تم سے یہ کیا جاتا ہے کہ بتاؤ تم شیعوں کے نزدیک ظالم خلیفہ کے افعال کا کیا حکم ہے کیا وہ شرعاً درست اور نافذ ہو سکتے ہیں؟ ملا باشی نے کہا کہ ہرگز نہیں یعنی ہمارے نزدیک جابر اور ظالم خلیفہ کے افعال شرعاً درست نہیں ہو سکتے میں نے کہا کہ میں تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ بتاؤ محمد بن حنیفیہ بن علی کی ماں کسی قبیلے میں سے تھی اس نے کہا کہ بنی حنیفیہ میں سے میں نے پوچھا کہ بتاؤ بنی حنفیہ کس کے عہد میں اسیرِ جنگ ہو کر آئے تھے ملاباشی نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا ملاباشی نے یہ جھوٹ بولا کیونکہ وہ جانتا تھا لیکن اس وقت شیعہ علماء میں سے ایک شخص نے کہا کہ بنی حنفیہ کو سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی فوج نے اسیر کیا تھا میں نے کہا کہ سیدنا علیؓ سے یہ کیسے توقع ہو سکتی ہے کہ وہ ایک ایسے ظالم خلیفہ کی اسیر کردہ لونڈی کو جس کا جہاد تمہارے نزدیک شرعاً درست نہیں اپنے تصرف میں کر کے اس سے اولاد پیدا کرے کیونکہ نکاح تو ثابت نہیں و الاحتیاط فی الفروج امر مقرر ملاباشی نے جواب دیا کہ شاید محمد بن حنیفیہ کی ماں کو اس کے والیوں نے سیدنا علیؓ کو شادی کر کے دے دیا ہو میں نے کہا کہ اس کا ثبوت پیش کرو اس پر ملاباشی علی اکبر خاموش ہو گیا والحمد لله على ذلک (یہی اعتراض شہر بانو بنت کسریٰ کے متعلق ہو سکتا ہے جو کہ فاروقی عہد میں اسیر ہو کر آئی اور سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا حسینؓ کو یہ شہزادی عطا کر دی تھی اگر یہ واقعہ درست ہے تو پھر یا تو شیعہ لوگ سیدنا عمر فاروقؓ کو ظالم کہنا چھوڑ دیں یا یہ ماننا پڑے گا کہ سیدنا حسینؓ کرتے رہے اور وہ تمام سید جو اس لونڈی سے پیدا ہوئے وہ ہیں کیونکہ جب سیدنا عمر فاروقؓ کا جہاد ان کے نزدیک شرعاً درست نہیں ہے تو پھر یہ لونڈی لونڈی نہیں ہے اور ایسی عورت سے اولاد پیدا کرنا شرعاً درست نہیں ہے کیونکہ وہ مشرکہ ہے(مترجم)
تقیہ میں اصل مذہب معلوم نہیں ہو سکتا
صفحہ 14 از 19