یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 15 از 19
اس کے بعد میں نے ملاباشی علی اکبر سے یہ سوال کیا کہ تم سیدنا جعفر صادق کے مذہب کی تعیین کرو کہ حقیقی طور پر ان کا اصلی مذہب کیا تھا کیونکہ یہ مذہب جو تم لوگوں نے اختیار کیا ہوا ہے یہ ایک باطل مذہب ہے جو کسی مجتہد کے اجتہاد سے نہیں ملتا ملاباشی نے جواب دیا کہ مذہب سیدنا جعفر صادق کا اپنا اجتہاد تھا میں نے کہا کہ یہ غلط ہے اس میں سیدنا جعفر صادق کے مذہب کی کوئی بات نظر نہیں آتی کیونکہ تم ہرگز امام مذکور کے مذہب کو معین نہیں کر سکتے کیونکہ اگر امام موصوف کے مذہب میں تقیہ ہے تو پھر شیعوں میں سے کوئی بھی اس کے مذہب کو پہچان نہیں سکتا کیونکہ اس صورت میں اس مذہب کے ہر ایک مسئلہ میں یہی احتمال ہو گا کہ وہ تقیہ پر مبنی ہے مثلاً تمہاری کتابوں میں لکھا ہے کہ کنواں جب پلید ہو جائے تو اس کے متعلق امام مذکور سے تین قول ہیں اول یہ کہ کنواں ایک سمندر کی طرح ہے جو کبھی پلید نہیں ہو سکتا اور دوم یہ کہ اس کا تمام پانی نکالا جائے اور سوم یہ کہ اس میں سے صرف سات یا چھ ڈول نکالے جائیں اور میں نے ایک دفعہ تمہارے ایک عالم سے دریافت کیا کہ تم ان متضاد اقوال میں کسی طرح تطبیق دیتے ہو اس نے کہا کہ ہمارا یہ مذہب ہے کہ جب کسی شیعہ عالم میں اجتہاد کا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ امام مذکور کے اقوال میں اجتہاد کر کے ایک قول کو صحیح کر لیتا ہے اور پھر اس صحیح کردہ قول پر عمل کرتا ہے میں نے پوچھا کہ باقی دو اقوال وہ کیا کرتا ہے اس نے کہا کہ باقی کی نسبت وہ یہ کہتا ہے کہ سب تقیہ پر مبنی ہیں میں نے سوال کیا کہ بہت اچھا پھر جب ایک شیعہ مجتہد امام مذکور کے تین متضاد اقوالوں میں سے ایک کو صحیح کر دے گا اور اس پر عمل کرتا رہے گا اور جب اس کے بعد دوسرا مجتہد آگیا اور اس نے دوسرے قول کو جو اس صحیح شدہ قول کے علاوہ ہے جس کو پہلے مجتہد نے صحیح کیا تھا صحیح کرے تو وہ اس قول کی نسبت کیا کہے گا جس کو پہلے مجتہد نے صحیح کیا تھا اس نے جواب دیا کہ وہ اس صحیح کردہ قول کی نسبت یہ کہے گا کہ وہ قول یا وہ تصحیح تقیہ پر مبنی تھی میں نے کہا کہ اب بات بالکل صاف ہونے کو ہے بتاؤ جب تیسرا مجتہد آ جائے اور وہ اس قول کی تصحیح کرے جس کو پہلے دو مجتہدوں نے صحیح نہیں کیا تو پھر وہ باقی دو اقوال کے متعلق کیا فیصلہ کرے گا جن کو پہلے دو مجتہدوں نے صحیح قرار دیا تھا اور جن میں سے ہر ایک مجتہد نے باقی دو قولوں کو تقیہ پر مبنی ٹھہرایا تھا کیا وہ بھی یہی کہے گا کہ پہلے دو قول جن کی دو مجتہدوں نے تصحیح کی تھی وہ تقیہ پر مبنی تھے اس نے کہا کہ ہاں وہ یہی کہے گا میں نے کہا کہ اس تیسرے مجتہد کے صحیح کردہ قول کو بھی تو پہلے مجتہد نے یا دوسرے نے تقیہ پر مبنی ٹھہرایا تھا اس نے کہا ہاں میں نے کہا کیا اب تینوں اقوال کا بیڑہ تباہ نہیں ہو گیا؟ اس وقت وہ شیعہ عالم میرے سوال کا تو کچھ جواب نہ دے سکا میں نے کہا تمہارے پاس اس کا کوئی جواب ہے لیکن ملاباشی پھر خاموش رہا پھر میں نے کہا کہ اور اگر امام موصوف کے مذہب میں تقیہ نہیں ہے تو پھر جو مذہب اس وقت تمہارے پاس ہے وہ سیدنا جعفر صادق کا مذہب نہیں ہوسکتا کیونکہ تم سب تقیہ اصول دین میں سے شمار کرتے ہو، فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (سورۃ البقرہ آیت نمبر 258)۔
 شیعوں کی شکست نادر کا حکم
 اس کے بعد نادر شاہ کو اس کے جاسوسوں نے اس مباحثے کی صحیح کیفیت پہنچائی اور جب اس کو یقین ہو گیا کہ شیعہ علماء مباحثے میں شکست کھا گئے ہیں تو اس نے حکم دیا کہ ایران افغانستان ترکستان وغیرہ کے سب علماء اکٹھے ہو کر تمام مکفرات کو دور کر دیں اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں نادر شاہ کی طرف سے ناظر اور وکیل بنوں اور تمام کاروائی میری نگرانی میں ہو اور سب کے اتفاق سے جو فیصلہ ہو میں اس پر اپنی مہر تصدیق ثبت کر کے نادر شاہ تک پہنچا دوں لہٰذا ہم سب مناظرہ گاہ سے اٹھے اور تمام ایرانی اور افغان اور ازبک اپنی انگلیوں سے میری طرف اشارہ کر کے کہتے تھے کہ یہ وہ شخص ہے جس نے تمام شیعوں کا ناطقہ بند کر دیا ہے اور یہ ایک ایسا یوم مشہور تھا جس میں خدا تعالیٰ نے اہلِ سنّت والجماعت کو فتح عظیم عنایت فرمائی بہر حال روضہ سیدنا علیؓ کے پیچھے ایک میدان میں ستر سے زائد ایرانی علماء جمع ہوئے جو سوائے مفتی اردلان کے سب کے سب شیعہ تھے پھر میں نے کاغذ قلم دوات منگوا کر شیعہ علماء میں سے جو مشہور تھے ان کے نام نوٹ کر لیے جو حسبِ ذیل ہیں: 
  1. ملاباشی علی اکبر 
  2. مفتی رکاب آقا حسین
  3. ملامحمد امام لاھجان 
  4. آقا شریف مفتی شہد الرضا
  5. میرزا برهان قاضی شروان
  6. شیخ حسین مفتی بار دمیہ
  7. میرزاابو الفضل مفتی بقم 
  8. الحاج صادق مفتی بجام 
  9. سید محمد مہدی امام اصفہان 
  10. الحاج مفتی محمد ذکی مفتی کرمان شاه 
  11. الحاج محمد الثمامی مفتی شیراز 
  12. میرزا اسد اللہ مفتی تبریز 
  13. ملا طالب مفتی مازندان
  14. ملامحمد مہدی نائب الاصدار و مشہد الرضا 
  15. ملامحمد صادق مفتی خلخاں 
  16. محمد مومن مفتی محمد استراباد 
  17. سید محمد تقی مفتی قروین 
  18. ملا محمد حسین مفتی سبز وار 
  19. سید بہاؤالدین مفتی کرمان 
  20. سید احمد مفتی اردلان شافعی سُنی 
اس کے بعد افغانستان کے علماء آئے اور میں نے نام بھی نوٹ کر لیے جو حسبِ ذیل ہیں۔
  1. شیخ فاضل ملاحمزه قلنجانی حنفی مفتی افغان 
  2. ملاامین افعانی قلنجانی حنفی ابنِ ملا سلیمان قاضی افعان 
  3. ملادینا خلفی حنفی 
  4. ملاطہٰ افغانی مدرس نادر آباد حنفی 
  5. ملانور محمد افغانی قلنجانی حنفی 
  6. ملاعبد الرزاق افغانی قلنجانی حنفی 
  7. ملا ادریس افغانی ابدالی حنفی 
صفحہ 15 از 19