یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 16 از 19
پھر اس کے ترکستان کے علماء آئے اور جن آگے ایک جلیل القدر شیخ تھا جس کے چھرے سے ہیبت اور وقار ٹپکتا تھا اور اس کے سر پر ایک بڑا گول عمامہ تھا جیسے دیکھ کر یہ معلوم ہوتا تھا یہ شخص امام الہمام امام ابوحنیفہؒ کے مشہور شاگرد امام ابویوسف ہیں یہ شخص علامہ ہادی خواجہ بحرُ العلم تھا سلام مسنوں ادا کرنے کے بعد ترکستان کے علماء کو میرے داہنے طرف بیٹھنے کے لئے جگہ دی گئی اور میری بائیں طرف افغانی علماء کو بٹھایا گیا تھا لیکن دونوں طرف میرے اور ان افغانی اور ترکستانی علماء کے درمیان میں تقریباً پندرہ پندرہ اور آدمی بیٹھائے گئے تھے اور شیعہ لوگوں نے یہ فعل اس لئے کیا تھا تا کہ میں ان علماء کو کوئی بات نہ سکھا دوں پھر میں نے ترکستانی علماء کے نام نوٹ کر لیے جو حسب ذیل تھے:
  1. علامہ ہادی خواجہ ملقب بحرالعلم بن علاؤ الدین البخاری قاضی بخاری حنفی 
  2. میر عبدالله صدور بخاری حنفی 
  3. قلندر خواجہ بخاری حنفی 
  4. ملاامید صدور بخاری حنفی 
  5. پادشاه میر خواجه بخاری حنفی 
  6. میرزاخواجہ بخاری حنفی 
  7. ملاابراہیم بخاری حنفی
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
 جب مجلس جم گئی تو اس کے بعد ملاباشی علی اکبر نے بحرُ العلم سے میری بابت پوچھا کہ کیا آپ ان کو جانتے ہیں اس نے کہا نہیں ملاباشی نے کہا کہ یہ علامہ شیخ عبدالله آفندی ہیں جو اعراق کے اکابر علماءِ اہلِ سنّت میں سے ہیں اور ان کو نادر شاہ نے احمد پاشا گورنر بغداد کے پاس سے منگوایا ہے تا کہ یہ مجلس مناظرہ میں حاضر ہو کر بطورِ حکم فیصلہ کریں یہ نادر شاہ کی طرف سے وکیل ہیں اور ان کا کام یہ ہے کہ جب ہم دونوں فریق آپس میں متفق ہو جائیں تو یہ ہمارے اتفاق پر مہر تصدیق ثبت کر دیں لہٰذا آپ وہ امور بیان کر دیں جن کے سبب آپ ہم کو کافر کہتے ہیں تا کہ ہم ان امور کو ان کے رو برو ترک کر دیں اگرچہ ہم حقیقت میں کافر نہیں ہیں جیسا کہ صاحب جامعُ الاصول اور صاحبِ مواقف نے ہم کو اسلامی فرقوں میں شمار کیا ہے اور امام ابوحنیفہؒ نے فقہ اکبر میں فرمایا لا تكفر احداً من اهل القبلة اور اسی طرح صاحب شرح ہداتہ الفقہ نے بھی امامیہ کو اسلامی فرقوں میں سے شمار کیا ہے لیکن چونکہ مناظرین شیع اور اہلِ سنّت ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں حالانکہ نہ تو آپ کا فر ہیں اور نہ ہی ہم لہٰذا آپ وہ امور بیان کر دیں جن کے سبب آپ ہم کو کافر کہتے ہیں۔
عقائد کفریہ سے شیعوں کی توبہ
اس پر بحرُ العلم نے کہا کہ وہ امور جن کے سبب ہم تم کو کافر کہتے ہیں وہ یہ ہیں:
  1. سبِ الشیخینؓ 
  2. تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گمراہ اور کافر کہنا 
  3. متعہ کو حلال سمجھنا 
  4. سیدنا علیؓ کو باقی خلفاء پر فضیلت دینا 
اور آنحضرتﷺ کے بعد خلافت کا حق سیدنا علیؓ کے لئے ثابت کرنا ملاباشی نے کہا کہ ان چاروں باتوں کو ہم ترک کرتے ہیں شیخینؓ کو گالی نہیں دیں گے متعہ کو وہی شیعہ حلال سمجھتا ہے جو بے وقوف ہے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مومن اور مسلمان ہیں اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمرؓ اور ان کے بعد سیدنا عثمانؓ اور ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں اور خلافت کی ترتیب بھی یہی ہے۔
پھر بحرُ العلم نے پوچھا کہ تمہارے عقائد کیا ہیں ملاباشی نے کہا کہ ہمارے عقائد سیدنا ابوالحسن اشعری کے عقائد ہیں جو اہلِ سنت کا امام ہے پھر بحرُ العلم نے ایک اور شرط عائد کی اور ملاباشی نے کہا "واشرط علیکم ان لا تحلوا حراماً لعلوماً من الدين بالضرورة و حرمته مجمع عليها ولا تحرموا حلالاً مجمعاً عليه معلوم حله بالضرورة"
 ملاباشی نے کہا کہ ہمیں یہ شرط بھی منظور ہے اس کے بعد بحرُ العلم نے کچھ اور شرائط پیش کیے جو مؤجب کفر نہیں تھے اور شیعہ علماء نے ان کو منظور کر لیا اس کے ملاباشی نے بحرُ العلم سے کہا کہ جب ہم نے ان تمام شرائط کو منظور کر لیا ہے تو کیا اس کے بعد آپ ہم کو اسلامی فرقوں میں شمار کریں گے بحرُ العلم نے کس قدر سکوت کے بعد فرمایا کہ شیخینؓ کو گالی دینا کفر ہے جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ رافضی لوگ اگرچه اب سبِ شیخینؓ سے توبہ کرتے ہیں لیکن سابقہ زمانے میں جو گالیاں ان سے سرزد ہوئی ہیں حنفی مذہب میں ان کے متعلق ان کی توبہ قبول نہیں ہو سکتی اس پر ملاحمزہ مفتی افغان نے بحرُ العلم سے کہا کہ کیا آپ کے پاس اس کی شہادت موجود ہے کہ اس واقعہ سے پہلے ان سے سبِ شیخینؓ سرزد ہوئی ہے بحرُ العلم نے کہا نہیں اس پر ملاحمزہ مفتی افغان نے فرمایا تو پھر جب وہ آئندہ کے لئے اقرار کرتے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے تو آپ ان کو کیوں نہیں اسلامی فرقوں میں شمار کرتے اس پر بحرُ العلم نے کہا کہ بیشک یہ ٹھیک ہے اور میں ان کو اسلامی فرقوں میں شمار کرتا ہوں اور یہ لوگ مسلمان ہیں اور ہمارے اور ان کے حقوق ایک ہیں۔ 
 عہد نامہ کی تیاری اور اس کی توثیق
صفحہ 16 از 19