یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 17 از 19
جب بحرُ العلم نے یہ فیصلہ کر دیا تو تمام شیعہ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور سُنیوں سے انہوں نے مصافحہ کیا اور ایک دوسرے کو بھائی بھائی کہہ کر پکارنے لگے اور علماء کے ان تینوں فرقوں کے اتفاق پر مجھے گواہ بنایا گیا اور پھر ماہِ شوال کی چوبیسویں تاریخ کو چہار شنبہ کے دن مغرب سے پہلے جب یہ جلسہ برخاست ہونے لگا تو میں نے دیکھا کہ ہمارے ارد گرد تقریباً دس ہزار سے زائد ایرانی کھڑے تھے (جو سب شیعہ مذہب تھے) اور پھر اس کے بعد عشاء کی نماز کے بعد نادر شاہ کا ایک خاص معتمد علیہ آدمی میرے پاس یہ پیغام لے کر آیا کہ بادشاہ سلامت آپ کی اس کارروائی کے نہایت مشکور ہیں اور آپ کو دعائے خیر دیتے ہیں اور سلام مسنون کے بعد انہوں نے یہ حکم دیا ہے کہ کل آپ تمام علماء کو ہمراہ لے کر اس پہلی جگہ پر حاضر ہو جائیں کیونکہ میں نے حکم دیا ہے کہ اس فیصلہ کو قلمبند کر دیا جائے اور اس کے نیچے ہر ایک عالم اپنا نام لکھ کر اس کے نیچے اپنی مہر لگائے۔ اور آپ اس کے آخر میں اس تمام کاروائی کے درست ہونے کی توثیق ثبت کر دیں کہ یہ تمام فیصلہ میرے روبرو ہوا ہے اور ایرانی افغانی ترکستانی علماء کے تینوں گروہ کا اس پر اتفاق ہو گیا ہے میں نے کہا کہ میں بخوشی ایسا کرنے کے لئے تیار ہوں پھر ماہِ شوال کی پچیسویں کو جمعرات کے دن ظہر سے پہلے ہم کو حکم پہنچا کہ ہم سب سیدنا علیؓ کی قبر کے پیچھے اکٹھے ہو جائیں پس جب ہم سب وہاں جمع ہو گئے تو میں نے دیکھا کہ ایرانی روضہِ سیدنا علیؓ کے ارد گرد تقریباً ساٹھ ہزار کی تعداد میں کھڑے ہیں اور لوگوں کا سخت ہجوم ہے پس جب ہم بیٹھ گئے تو ایک لمبا سا کاغذ لایا گیا جو سات بالشت سے زیادہ لمبا تھا جس کی دو تہائی حصے پر تو لمبی لمبی سطریں لکھی ہوئی تھیں اور تیسری تنہائی چار قسموں پر منقسم تھی ہر ایک قسم کے خاتمہ کے بعد بقدر چار انگشت تھے یا اس سے زائد بیاض چھوڑا گیا تھا لیکن پہلی سطروں کی نسبت یہ سطریں بہت چھوٹی تھیں پھر ملاباشی علی اکبر نے آقا حسین کو جو علاقہ رکاب کا مفتی تھا حکم دیا کہ وہ اس کاغذ کو کھڑے ہو کر تمام علماء کے سامنے پڑھیں آقا حسین ایک طویل اقامت شخص تھا جس نے وہ کاغذ پڑھنے کے لئے اٹھایا یہ کاغذ فارسی زبان میں لکھا ہوا تھا جس کا عربی ترجمہ یہ ہے: 
ان الله اقتضت حكمته ارسال الرسل فلم يزل يرسل رسولاً بعد رسول حتى جاء محمدﷺ ولما توفى او كان خاتم الانبياء والمرسلين اتفق الاصحاب علىٰ افضلهم واخيرهم واعلمهم ابی بكر الصديقؓ بن ابى قحافة فاجمعوا واتفقوا على بیعتہٖ فبايعوہ كلهم حتىٰ الامام علىؓ ابن ابى طالب بطوعهٖ واختيارهٖ من غير جبر ولا اكراہٍ فتمّت له البيعة والخلافة ثم عهد ابوبكرالصديقؓ الخلافة العمرؓ ابن الخطاب فبايعه الصحابة كلهم حتىٰ الامام علیؓ بن ابی طالب فكانت بعیتهٗ بالنص والاجماع ثم ان عمرؓ جعل الخلافة شورىٰ بين ستةٍ احدهم علىؓ بن ابى طالب فاتفق رايھم على عثمان بن عفانؓ ثم استشهد فی الدار ولم يعمد فبقت الخلافة شاغرة فاجتمع الصحابة فی ذالك العصر علىؓ بن ابى طالب وكان هؤلاء الاربعۃ فی عصر واحد ولم يقع بينهم تخاصم ولا نزاع بل كان كل منهم يحب الاخر و يمدحه ويثنی عليه حتىٰ ان علياًؓ سئل عن الشيخينؓ فقال هما امامان عادلان قاسطان كانا على الحق وماتا عليه وان ابابكرؓ لما ولى الخلافة قال اتبايعونى وفيكم علىؓ بن ابى طالب فاعلموا ايها الإيرانيون ان فضلهم وخلافتهم علىٰ هذا الترتيب فَمَنْ سَبهم اوانتقصھم فماله وعياله ودمه حلال للشاة وعليه لعنة الله والملئكة والناس اجمعين۔
صفحہ 17 از 19