یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 18 از 19
پھر اس کاغذ کے اس حصہ پر غیر ضروری باتیں بھی تھیں جن کی یہاں ذکر کرنے کی ضرورت نہیں بہرحال لمبی سطریں جو نادر شاہ کا کلام تھا یہاں پورا ہو گیا اور اس کے بعد میں نے اس کاغذ کی عبارت کے بعض لفظوں پر اعتراض کیا کہ مثلاً سیدنا عمرؓ کی خلافت کے متعلق لفظ نصب جو استعمال کیا گیا ہے اس کے بجائے لفظ عہد چاہیئے کیونکہ اس سے یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ناصبہ تھے اور شیعوں کے نزدیک ناصبہ وہ شخص ہے جو سیدنا علیؓ کی عداوت کے لئے کمربستہ ہو اس پر بعض حاضرین نے مجھ سے کہا کہ لفظ نصب کا جو مطلب آپ نے لیا ہے وہ تو کسی کے خیال میں بھی نہیں آیا اور اس لفظ کے ظاہری معنی ہرگز یہ نہیں لہٰذا اس لفظی نزاع کو آپ چھوڑ دیں کیونکہ اس سے فتنہ برپا ہو جائے گا ملاباشی علی اکبر نے بھی زور دیا چونکہ بات معمولی تھی اس لئے میں خاموش ہو گیا دوسرا اعتراض میں نے اس پر یہ کیا شیخینؓ کے حق میں سیدنا علیؓ کا یہ مقولہ: "امامان عادلان قاسطان كانا على الحق" شیعہ لوگ اس عبارت کا ایسا مطلب بیان کرتے ہیں جو شیخینؓ کے اوصاف کے برخلاف ہے اس پر بھی انہوں نے شور مچایا کہ ہم ہرگز ایسا نہیں کرتے بلکہ عبارت کا جو لغوی اور ظاہری مفہوم ہے وہی مراد ہے تیسرا اعتراض میں نے یہ کیا سیدنا ابوبکر صدیقؓ بوقتِ بیعت سیدنا علیؓ کے حق میں یہ کہنا "اتبایعونی وفيكم علیؓ ابن ابی طالب" اہلِ سنت کے نزدیک ثابت نہیں ہے بلکہ یہ ایک موضوع اور من گھڑت بات ہے اور میرے پاس سیدنا علیؓ کے اس کے علاوہ اقوال ہیں جن میں شیخینؓ کی تعظیم و تکریم بیان کی گئی ہے اور اس طرح کے اقوال سیدنا علیؓ کی مدح میں بھی موجود جو مذکوره بالا تمہارے پیش کردہ قول سے زیادہ صحیح ہیں لیکن اس پر بھی ملاباشی وغیرہ نے یہی کہا یہ جزوی امور ہیں جن پر بحث کرنا فضول ہے ان لمبی سطروں کے بعد جو ہو نادر شاہ کے کلام پر مشتمل تھیں فارسی زبان میں شیعہ علماء کا اقرار نامہ درج تھا جس کا عربی ترجمہ یہ ہے "انا قد التزمنا الخ" اور اس عبارت کے بعد جو بیاض تھا اس پر ایرانی علماء اپنے دستخط کر کے ان کے نیچے اپنے مواہیر ثبت کیے اور اس کے بعد علماءِ نجف اور کربلا اور حلہ اور خوارزم کے شیعہ علماء کا اقرار نامہ جس کا مضمون بقیہ وہی تھا جو ایرانی علماءِ شیعہ کے اقرار نامہ کا تھا اور اس کے بعد اس کاغذ پر جو بیاض یعنی خالی جگہ چھوڑی ہوئی تھی اس پر کربلا اور نجف وغیرہ کے علماء نے جن میں سے سید نصر الله المعروف ابنِ قطراد شیخ جواد نجفی کوفی وغیرہ بھی ہیں اپنے دستخط کر کے مہرین لگائیں اور اس کے بعد افغانی زبان میں افغان علماء نے اپنے اپنے ناموں کے نیچے اپنے مواہیر ثبت کئے اس کے بعد اس کاغذ پر علماءِ ترکستان کا اقرار نامہ درج تھا جس کا مضمون بعینہ وہی تھا جو افغان علماء کے اقرار نامہ کا تھا اور علماۓ ترکستان نے بھی اپنے اپنے مواہیر اس پر لگائے اس کے بعد میں نے اس کی تصدیق پر اپنی مہر ثبت کی اور یہ لکھا کہ تمام فیصلہ میری نگرانی میں میرے روبرو ہوا ہے۔
"وكان ذلك الوقت وقتاً مشهوداً من عجائب الدنيا وصاء لاهل السنة فرح وسرور لہ يقع مثله فی العصور لا تشبه الاعراس و الاعياد والحمد للہ على ذالک"
جب یہ فیصلہ ہو چکا تو نادر شاہ نے چاندی کے برتنوں میں جن پر سونے کا ملمع تھا اور جو ہر قسم کے بیش قیمت اور نفیس جواہر سے مرصع تھے مٹھائیاں بھیجیں جن میں کثرت سے عنبر ڈالا گیا تھا بہت سا دہونی دینے کے لئے عنبر بھی تھا چنانچہ سیدنا علیؓ کی قبر کے پاس عنبر کی دہونی دینے کے بعد ہم نے ان مٹھائیوں کو کھایا اور اس کے بعد نادر شاہ تو اسی مقام پر ٹھہر گیا جہاں دہونی دی گئی تھی جس کو تبنجرہ کہتے ہیں اور جب ہم سب باہر نکلے تو ترکوں عربوں اور ایرانیوں اور افغانوں کی اس قدر کثرت تھی جن کی تعداد سوائے خدا کسی کو معلوم نہیں ہو سکی اور یہ وقت جمعرات کے دن ظہر کے بعد کا وقت تھا اور اس کے بعد نادر شاہ نے مجھے پھر اپنے پاس بلایا اور حسبِ دستور میں اس کے نزدیک پہنچا لیکن اس دفعہ میں بہ نسبت پہلے کے اب زیادہ نزدیک ہو گیا تھا مجھ سے نادر شاہ نے کہا کہ خدا تعالیٰ آپ کو اور احمد خان یعنی احمد پاشا کو جزائے خیر دے آپ دونوں کی کوشش سے شیعہ اور سُنی کا فتنہ فرو ہو گیا اور مسلمان خونریزی سے محفوظ ہو گئے اور پھر نادر شاہ نے خلیفةُ المسلمین کے حق میں یہ دعا کی۔
"اید اللہ سلطان ٰال عثمان و جعل الله عزه ورفعته اكثر من ذالك" 
 نادر شاہ کا بجا فخر
پھر نادر شاہ نے مجھ سے کہا کہ اے عبداللہ آفندی تم یہ خیال مت کرو کہ شہنشاہ اس بات پر فخر کرتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے سُنی اور شیعہ کا اتفاق ہو گیا بلکہ یہ تو امرِ محض خدا تعالیٰ کی تائید سے یہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہوا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں نکالنا میرے ذریعے سے موقوف ہو گیا جب کہ سلاطین آلِ عثمان سلطان سلیم کے زمانے سے لے کر آج تک اس بدعت کو دور کرنے کی کوشش کرتے رہے اور انہوں نے بارہا اس کے لئے فوج کشی کی اور جان و مال کا اتلاف کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے اور میں نے بغیر کسی خونریزی کے آسانی سے یہ بدعت روک دی اور یہ برے بدعات شیعوں میں شاہ اسماعیل جیٹ کے زمانہ سے رائج ہو گئے تھے جبکہ شاہ مذکور کو شیعہ ملاؤں نے گمراہ کر دیا تھا میں نے نادر شاہ سے کہا کہ:
صفحہ 18 از 19