یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 19 از 19
ان شاء اللہ تمام ایرانی آخر کار جیسا کہ پہلے وہ اہلِ سنّت و الجماعت تھی اہلِ سنّت ہو جائیں گے اس نے کہا کہ ان شاء اللہ تعالٰی لیکن یہ بات آہستہ آہستہ ہوگی اس کے بعد نادر شاہ نے کہا کہ اے عبداللہ آفندی میں اس وقت جتنا فخر کروں بجا ہے کیونکہ اسوقت چار سلاطین کا ملک میری تصرف میں ہے اور میں گویا سلاطین اربعہ کا مجموعہ ہوں یعنی سلطان ہندوستان سلطان افغانستان سلطان ترکستان اور سلطان ایران ہوں اور یہ سب کے سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کا احسان ہے اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو میرا ممنون ہونا چاہیئے کہ میں نے سب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بدعت کو دور کر دیا اور میں امید کرتا ہوں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قیامت کے دن میری شفاعت کریں گے۔ 
کوفہ کی مسجد میں چار یارؓ کے مناقب کا بیان
 اس کے بعد نادرشاہ نے مجھ سے کہا کہ مجھے اگرچہ اس امرکا علم ہے کہ احمد خان آپ کا انتظار کر رہا ہوگا لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ کل تک یہاں ٹھہریں تا کہ جامع مسجد کوفہ میں جمعہ پڑھا جائے او منبر پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا نام اس ترتیب لیا جائے جو اہلِ سّنت کا مذہب ہے اور اس کے بعد میرے بڑے بھائی سلطان آلِ عثمان سلطان محمود خان خلیفتہ المسلمین کے لئے دعا کی جائے اور تمام القاب حسنہ ان کے بیان کئے جائیں اس کے بعد ان کے چھوٹے بھائی یعنی میرے لئے دعا کی جائے لیکن میرے لئے سلطان السلمین سے کم دعا کی جائے کیونکہ چھوٹے بھائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کی تو توقیر اور تعظیم کرے اور سلطان محمود خان در حقیقت مجھ سے اعلیٰ اور افضل اور امیر ہیں کیونکہ وہ توسلطان ابنِ السلطان ہیں اور میں جب دنیا میں آیا تھا تو نہ میرا باپ سلطان تھا اور نہ دادا پھر نادر شاہ نے مجھے رخصت کیا جب میں باہر نکلا تو تمام ایرانی علمائے شیعہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب اور فضائل اور مفاخر ہر ایک خیمہ میں بیان کر رہے تھے اور ہر ایک ایرانی کی زبان سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل جاری تھے جن کو وہ آیاتِ قرآنی اور احادیث سے ایسے طور پر استنباط کرتے تھے کے اہلِ سنّت کے بڑے بڑے علماء بھی اس سے عاجز تھے اور ساتھ ہی شاہ اسماعیل کو برا بھلا کہتے تھے کہ اس نے کیوں اس بدعت کو جاری کیا جمعہ کے دن بوقت صبح نادر شاہ نے نجف سے کوفہ کی طرف رخ کیا نجفِ اشرف سے کوفہ تقریباً ساڑھے تین میل کے فاصلہ پر ہے جب ظہر کا وقت ہو گیا نادر شاہ نے حکم دیا اپنے مؤذن کو کہ جمعہ کی اذان دے اور سب لوگوں کو حکم دیا کہ وہ جمعہ کے لئے حاضر ہو جائیں میں نے اعتمادُ الدولہ سے کہا کہ جمعہ کی نماز کوفہ کی جامع مسجد میں اہلِ سنّت کے نزدیک جائز نہیں ہے امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک تو اس لئے جائز نہیں کہ کوفہ مصر نہیں ہے اور امام شافعیؒ کے نزدیک اس لئے درست نہیں کہ شہر کے اصلی باشندے چالیس سے کم ہیں اس نے کہا کہ بادشاہ کا مطلب صرف یہی کہ آپ وہاں حاضر ہوں اور خطبہ سن لیں خواہ آپ نماز پڑھیں یا نہ پھر میں جامع مسجد کی طرف گیا اور میں نے دیکھا کہ اس میں تقریباً پانچ ہزار آدمی موجود ہیں ایران کے تمام علماء اور سب خواتیں حاضر تھے اور ممبر پر شاہ علی مدد نامی امام بیٹھا تھا ملاباشی نے کربلا کے ایک عالم سے مشورہ کر کے ملاشاہ علی مدد کو منبر سے اتار دیا اور کربلائی ملا ممنبر پر چڑھا اور اس نے خطبہ شروع کیا اور خدا تعالیٰ کی حمد و ثناء اور درود کے بعد اُس نے کہا وعلی الخليفة الأول الخ اور تمام خلفاء کا حسبِ ترتيب اہلِ سنت نام لیا اور اس کے بعد سلطان محمود خان ابنِ سلطان مصطفیٰ خان ترکی اور پھر نادر شاہ کے لئے دعا کی اس کے بعد رافضی نے نماز پڑھائی جو مذاہب اربعہ سے خارج تھی اور اعتمادُ الدولہ نے مجھ سے پوچھا کہ خطبہ اور نماز کیسی تھی میں نے کہا کہ خطبہ تو اہلِ سنّت کے مذہب کے مطابق تھا لیکن نماز چاروں مذہبوں سے خارج تھی حالانکہ بحرُ العلم نےان پر یہ شرط لگائی تھی کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو چاروں مذہبوں سے خارج ہو اسلیے نادر شاہ کو چاہیے کہ وہ اس کے متعلق ان کو ہدایت کردے اعتمادُ الدولہ نے یہ بات نادر شاہ تک پہنچا دی نادر شاہ اس بات سے ناراض ہوا اور اس نے اعتمادُ الدولہ کے ذریعہ کہلا بھیجا کہ احمد خان کو یہ خبر دے دینا کہ میں تمام اختلافات حتیٰ کہ مٹی پر سجدہ کرنے کو بھی روک دوں گا اس کے بعد نادر شاہ کی طرف کو مٹھائیاں لائی گئیں اور اسقدر ہجوم ہوگیا کہ ملاباشی علی اکبر کا عمامہ اس کے سر سے گر گیا اور اس کی دو انگلیاں بھی زخمی ہو گئیں میں نے پوچھا یہ لوگ دیدہ و دانستہ اس قدر بھیڑ کیوں کرنے لگے ہیں اور ایک دوسرے کے اوپر چڑھے جاتے ہیں مجھ سے کہا گیا کہ نادر شاہ اس سے خوش ہوتا ہے اور سب ازدہام اس کی خوشی کے لئے ہیں اور اس کے بعد نادر شاہ نے مجھے رخصت کر دیا۔
تم الكتاب بالخير والحمد لله رب العالمين۔


صفحہ 19 از 19