یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 2 از 19
اصل رسالے کا ترجمہ کرنے سے پہلے ایک مقدمہ کی تمہید ضروری معلوم ہوتی ہے جس سے ناظرین کرام اور زیادہ محظوظ ہونگے اور جس سے اس رسالے کا مطالعہ کرنے والوں کے لئے اصل حقائق کا انکشاف ہو جائے گا یہ رسالہ جس کا ہم اس وقت ترجمہ کر رہے ہیں اصل میں عربی زبان میں ہے جس کے مصنف "حضرت علامہ شیخ عبداللہ آفندی مالکی" ہیں جو عراق عرب کے اکابر علماءِ اہلِ سنت والجماعت میں سے تھے علامہ موصوف نادر شاہ کے حکم سے عراق عرب کے سُنی اور شیعہ کے مشہور معرکۃُ الآرا مناظرے میں (جو نادر شاہ کے زیر اہتمام منعقد ہوا تھا اور جس میں علمائے اہلِ سنت والجماعت کو ایسی فتح نصیب ہوئی جو قیامت تک صفحہ تاریخ پر آفتاب کی طرح روشن رہے گی) جج مقرر کیے گئے تھے علامہ موصوف نے اس مناظرے کی کیفیت کو خود قلمبند کیا ہے لیکن اس مباحثہ کے حالات کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ کسی قدر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے جس سے ناظرین رسالہ ہٰذا کی ضیافت طبع کے لئے چند ایک اور لذیذ روحانی کہانیوں کا اضافہ ہو جائے۔
خاندان صفوی کی مُسلم کشی
 تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ایران میں جب سلطنت صفویہ کا آغاز ہوا اور شیخ صفی الدین کے پوتے شاہ اسمٰعیل نے محرم سن907 ھ میں سلطنت کی بنیاد ڈالی اور اس کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا طہماسپ فرمان روا ہوا اور جب یہ بھی چند دن دنیا کی ہوا کھا کر ملک عدم روانہ ہو گیا تو اس کے بعد اس کا بیٹا شاہ عباس اس تخت پر بیٹھا شاہ عباس نے تمام ایران کو مسخر کر لیا اور اربک قوم سے خراسان چھین کر عراق عرب اور آرمینیہ کو فتح کر لیا اور ترکوں سے برابر کی صلح کی شاہ عباس نے سن 1038 ھ میں انتقال کیا یہ خاندان چونکہ شیعہ مذہب رکھتا تھا اس لئے اس نے سُنی مذہب کو بزورِ شمشیر ایران سے معدوم کردیا یعنی جو لوگ شیعہ مذہب قبول نہیں کرتے تھے وہ قتل کر دیے جاتے تھے اور شاہ اسماعیل کے زمانے سے لے کر نادر شاہ کے وقت تک تمام ایرانی قلمرو میں علانیہ منبروں پر چڑھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  کو گالیاں دینا شیعہ مذہب کا ایک رکن قرار پاگیا تھا شیعہ مذہب کے لوگ ہمیشہ سے اسلام کے دشمن چلے آئے ہیں خلافت بغداد کی تباہی کا باعث بھی یہی لوگ تھے اسلامی تاریخ میں یہ امر نہایت قابلِ افسوس ہے کہ جب کبھی سُنّی بادشاہوں کا کفار سے مقابلہ ہوا ہے تو شیعہ مذہب کے لوگوں نے ہمیشہ کفار کی مدد کی ہے ایران کے شیعہ فرماں روا بجائے اس کے کہ عیسائی قوم سے لڑتے الٹا جب کبھی ترکوں کی عیسائی طاقتوں سے جنگ چھڑ گئی ہے تو ایرانیوں نے بھی موقع پا کر ترکوں پر ہلّہ بول دیا ہے لیکن ترکی تلوار کے سامنے ہر بار ان کو سرنگوں ہونا پڑا ہے اور عثمانی فرماں رواؤں نے بارہا اس امر کی کوشش کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اعلانیہ گالیاں دینے کی کفریہ بدعت کو ایران سے بزورِ شمشیر مٹا دیں چنانچہ بارہا ایران پر فوج کشی کی گئی لیکن ایرانیوں کے بھائی عیسائی جنگ چھیڑ کر سر راہ ہو جاتے تھے اور ترک مجبوراً اپنی بڑی طاقت کو اُدھر پھیر لیتے تھے اہلِ سنت کی خنجر خار اشگاف نے ہمیشہ ناموسِ اسلام کی حفاظت کی ہے اور قیامت تک یہی لوگ اسلام کی حفاظت کرتے رہیں گے ایرانی شیعہ اگر احسان فراموش نہ ہوتے تو وہ بھی ایک ایسے شخص کو گالیاں نہ دیتے جس کے جرار اور قہار لشکر کے طفیل ایرانیوں کو اسلام کی دولت نصیب ہوئی اگر فاروقی گھوڑے ایران کو پامال نہ کرتے تو آتش پرستی کے سوا ان کے حصے میں اور کیا تھا بہر حال جب صفوی خاندان کی سلطنت کمزور ہو گئی اور ایک طرف سے افغانوں نے شاہ حسین کو سن 1135 ھ میں قتل کر کے اس کے پایہ تخت اصفہان پر قبضہ کر لیا اور دوسری طرف سے ترکوں نے عراق عرب اور آرمینیہ وغیرہ پر تسلط جما لیا تو شاہ حسین کے قتل ہونے کے بعد اس کے بیٹے طہماسپ ثانی نے اپنی حالت کو دوبارہ درست کرنے کی کوشش شروع کی چنانچہ ایران کی بہت سی فوجیں اس نے جمع کیں۔
نادر کی ملک گیری
صفحہ 2 از 19