یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 3 از 19
انہی فوجی لوگوں میں سے ایک "نادر شاہ" بھی تھا جو قوم کا افشاری ترک اور ایک معمولی گڈریا تھا لیکن قضا اور قدر کے مالکون نے اسے خاص قابلیت عنایت کی تھی طہماسپ چونکہ عیاش اور مے نوش تھا لہٰذا سلطنت کا انتظام اس سے نہیں ہو سکتا تھا اس لئے نادر نے رفتہ رفتہ اس کی بارگاہ تک رسائی حاصل کر کے اعتماد حاصل کر لیا اور ایرانی فوجوں کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی نادر سب سے پہلے اصفہان پر حملہ آور ہوا اور افغانوں کو شکستِ فاش دیکر اصفہان پر قابض ہو گیا اور اس وقت اس نے اپنا لقب طہماسب قلی یعنی طہماسب کا غلام رکھا اصفہان پر قبضہ کرنے کے بعد نادر شاہ نے یہ ارادہ کیا کہ عثمانی ترکوں نے جن ایرانی علاقوں پر قبضہ کیا ہوا ہے وہ ان سے واپس لے لئے جائیں چنانچہ ایک بہت بڑا بھاری لشکر لے کر اس نے بغداد کا محاصرہ کر لیا ان ایام میں بغداد کا ترکی گورنر "احمد پاشا" تھا اور "احمد پاشا" کو ترکی حکومت کی طرف سے یہ ہدایت تھی کہ وہ قلعے کے اندر رہ کر مدافعت کرے کیونکہ ترک حسبِ معمول دوسری طرف مشغول تھے نادر شاہ نے تقریباً آٹھ مہینے تک بغداد کو گھیرے رکھا اور محصور فوج نے اگرچہ راشن کے ختم ہو جانے کی وجہ سے گھوڑے گدھے بلکہ بلیاں اور کتوں تک کھا لیے لیکن ترکی سپاہیوں نے قلعے کو غنیم کے حوالے نہ کیا اور اسی اثنا میں ترکوں کا مشہور "جنرل طوبال پاشا عثمان" کثیر التعداد ترکی سپاہ کے ساتھ نادر شاہ کی سرکوبی کے لیے آگیا "طوبال پاشا عثمان" کی فوج سے نادری فوج کی معرکہ آرائی شروع ہو گئی اور ایک شدید جنگ کے بعد نادر شاہ کو شکست ہوئی اور وہ بقیہ السیف فوج کو لیکر بھاگ گیا اور پھر کچھ وقفے کے بعد پھر تیاری کر کے بغداد پر حملہ آور ہوا لیکن اس دفعہ بھی کچھ نہ چلی پھر ارضِ روم پر چڑہائی کی لیکن وہاں بھی منہ کی کھائی اور جب آذر بائیجان کے علاقے میں واپس آیا تو ایرانی لوگوں نے اس کی سلطنت کو تسلیم کر کے اس کے ہاتھ پر بیعت کی اور اس بیعت کی تاریخ فقره الخير فيحا وقع سے نکالی گئی یعنی سن 1148 ھ اس کے بعد نادر شاہ نے ہندوستان پر چڑھائی کی اور دہلی میں قتل عام کر کے تخت طاؤس اور 36 کروڑ روپیہ لیکر اور محمد شاہ کو باجگذار بنا کر واپس چلا گیا ہندوستان کے بعد اس نے تمام افغانستان اور ترکستان پر قبضہ کر لیا اور اس طرح نادر شاہ اس وقت میں ایران ہندوستان ترکستان اور افغانستان کا مالک تھا اور اسی وجہ سے وہ اپنے آپ کو شہنشاہ کہلاتا تھا پھر داغستان پر چڑھائی کی اور چار سال تک اس میں مصروف رہا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا اس تمام میں نادر شاہ کی خط و کتابت دولتِ عثمانیہ کے ساتھ جاری رہی۔ 
 نادر مذہب شیعہ کی حمایت میں
نادر شاہ ترکوں سے کبھی تو یہ مطالبہ کرتا تھا کہ میں تیمور کا وارث ہوں علاقہ رہا سے لے کر عبادان کے ورثے تک میرے حوالے کر دیا جائے کیونکہ یہ علاقہ تیموری تسلط میں تھا اور کبھی دولت علیہ عثمانیہ سے یہ مطالبہ کرتا تھا کہ وہ اس کے شیعہ مذہب کی تصدیق کرے اور اس امر کا اقرار کرے کہ اسلامی مذہب بجائے چار کے پانچ ہیں اور پانچواں مذہب ہمارا ہے جو دراصل سیدنا جعفر صادق کا مذہب ہے اور ہم نے انہی سے لیا ہے چونکہ یہ ایک برحق مذہب ہے لہٰذا حرمین الشریفین میں ہمیں بھی پانچویں مصلے کی اجازت دی جائے اور کعبہ مکرمہ میں پانچواں مصلیٰ شیعوں کا ہو اور اس کے علاوہ حج کے راستے کی حفاظت اور حاجیوں کا انتظام بھی ہمارے سپرد کر دیا جائے چونکہ دولت علیہ عثمانیہ کے تمام سلاطین اور اربابِ دولت اور علماءِ اہلِ سنّت حنفی المذہب چلے آتے تھے وہ اس بدعتی کے مطالبات کو کب پورا کر سکتے تھے لہٰذا نادر شاہ نے پھر سن 1156 ھ میں مرنے سے چار برس پہلے عراقِ عرب پر ایک بہاری جرار لشکر لے کر حملہ کیا اور اس دفعہ اس نے ستر ہزار فوج صرف بغداد کے محاصرے کے لئے رکھی اور نوے ہزار فوج بصرہ کے محاصرے کے لئے بھیجی اور چھ ماہ تک بصریٰ کا محاصرہ جاری رہا اور قلعوں پر گولہ باری ہوتی رہی لیکن نادری فوج بغداد کے نزدیک نہ آسکی کیونکہ گورنر احمد پاشا نے پہلے ہی سے اس کو دُور رکھنے کے لئے انتظام کر لیا تھا اور قلعوں کے برجوں پر دور کی مار کی توپیں نصب کر دی تھیں جن کی وجہ سے نادری فوج نزدیک نہیں آسکتی تھی نادر شاہ اپنی فوج کے اس حصے کو بصریٰ اور بغداد کی تسخیر کے لئے مصروف کر کے خود باقی دو لاکھ فوج کے ساتھ دیر الزور اور گردستان پر حملہ آور ہوا اور ان علاقوں کو فتح کر کے قلعہ فرقوق پر چڑھ آیا اور آٹھ دن تک اس کا محاصرہ کر نے کے بعد جس میں اس نے پچیس ہزار توپ کے فیر اس پر کئے مسخر کر لیا اور پھر جس اربل کو فتح کر کے موصل پر آیا موصل کے ترکی قلعوں پر توپ کے چالیس ہزار فیر کیے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا پھر ایک سرنگ لگا کر بارود سے بھر کر اسے آگ لگائی لیکن اس سے بھی الٹی اس کی اپنی ہی فوج تباہ ہوئی جب موصل کو مسخر نہ کرسکا تو وہاں سے مایوس ہو کر باقی فوج کو لے کر بغداد کی طرف آیا اور حضرت موسیٰ بن جعفر کے گاؤں میں اتر کر ان کی قبر کی زیارت کی حضرت امام ابوحنیفہ امام الہام کی قبر پر پہنچ کر تبرک حاصل کیا اور اس کے بعد نجف اشرف میں آکر سیدنا علیؓ کی زیارت کی اور اس گنبد کا بھی ملاحظہ کیا جس کی بابت اس نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ سونے کا بنایا جائے۔
 نادر کا مطالبہ اور احمد شاہ کی معقول تجویز
 اس تمام مذکورہ بالا عرصہ میں اس کی خط و کتابت بغداد کے ترکی گورنر احمد پاشا کے ساتھ جاری تھی جس میں وہ بار بار یہی مطالبہ کرتا تھا کہ دولتِ عثمانیہ اس امر کی تصدیق کرے کہ شیعہ مذہب ایک صحیح مذہب ہے اور اس امر کو بھی مان لے کہ شیعہ مذہب دراصل سیدنا جعفر صادق کا مذہب ہے۔ 
 لیکن علمائے اہلِ سنّت و الجماعت یہی کہتے تھے کہ شیعہ مذہب جو کفریات سے لبریز ہے اہلِ بیت نبویﷺ کا مذہب ہرگز نہیں بلکہ یہ خود شیعوں کا خود ساختہ مذہب ہے جسے مذہب اسلام سے کچھ تعلق نہیں لیکن آخر کار نادر شاہ نے اپنے اس مطالبے کو واپس لے لیا اور اس واپسی کی وجہ یہ تھی کہ احمد پاشا کی تدبر نے نادر شاہ کو اس امر کی ترغیب دلائی کہ مذہب دراصل کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔
صفحہ 3 از 19