یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 4 از 19
جس کا اعتقاد زبردستی کسی کے دل میں رکھا جا سکے بلکہ صحیح مذہب دراصل وہی ہوتا ہے جس کو طبائعِ صحیحہ اور فطرتِ سلیمہ طوعاً قبول کرلے نہ کہ کرہاً کیونکہ دل میں ہمیشہ کے لئے وہی عقیدہ جاگزیں ہو سکتا ہے جسے دل طبعاً قبول کر لے لہٰذا اگر آپ کا مذہب سچا ہے تو اس بےبہا گوہر کو اس طرح چھپانے کی کیا ضرورت ہے جس طرح کہ عورت اپنے حیض کو چھپاتی ہے بلکہ اسے علی رؤس الاشہاد لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے تاکہ مذاہب کے صراف اسے کسوٹی پر رکھ کر پرکھیں کہ یہ گوہر کس قدر حقیقتِ گوہری سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ آپ خود اپنے اہتمام میں ایک مجلس مناظرہ کے انعقاد کا انتظام کریں اور اس کی تمام کاروائی خود اپنے ہی زیر اہتمام رکھیں شیعہ علماء کو آپ خود بلالیں اور سُنی علماء اگر آپ چاہیں تو میں بھیج سکتا ہوں ورنہ ان کو بھی آپ خود ہی بلالیں اور پھر آپ کے نزدیک جو فرقہ دلائل اور براہین کی رو سے غلبہ حاصل کرے اس کے مذہب کی تصدیق ہم کرنے کے لئے تیار ہونگے احمد پاشا کی یہ تدبیر نہایت قابلِ تعریف تھی جس سے سُنی مذہب کو ایک ایسی فتح نصیب ہوئی جو قیامت تک مشہور رہے گی احمد پاشا کو دراصل اس کے جاسوسوں نے یہ بات ذہن نشین کرا دی تھی کہ نادر شاہ ایک غیر متعصب آدمی ہے اور اس کو سُنّی مذہب سے کوئی ذاتی عداوت نہیں ہے لیکن آخر کار ایرانی النسل ہے اور شیعہ ملاؤں نے جو ہر وقت اس کے گرد پیش رہتے ہیں اسے ایسا بنا دیا ہے چونکہ خود عالم نہیں ہے اس لئے مذہبی فتووں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اس کے علاوہ ترکستان اور افغانستان کی تسخیر کے دوران میں سُنی علماء سے بھی اس کی صحبت رہی ہے جن کی جادو بیانی سے وہ متاثر ضرور ہے لہٰذا اسے احقاق حق کے لئے خود اپنے ہی اہتمام میں ایک مجلس مناظرہ منعقد کر لینی چاہئیے اس کے علاوہ احمد پاشا کو یہ بھی یقین تھا کہ اہلِ سنّت والجماعت جیسا کہ تلوار کے مقابلہ میں کبھی کفر اور بدعت سے مغلوب نہیں ہوئے اسی طرح براہین اور دلائل کے مقابلہ میں بھی ہر ایک موقع پر فتح نے انہی کی قدم بوسی کی ہے لہٰذا مناظرے کی صورت میں حق کا ہی بول بالا رہے گا اور اس مناظرے کا اگر اور کچھ نتیجہ نہ نکلے تب بھی اس کا اثر یہ ضرور ہو گا کہ شیعہ ملاؤں کی وہ قدر و منزلت نادر شاہ کی نظر میں نہ رہے گی جو اس سے پہلے ہے اور اس طرح وہ پھر کبھی ایسے بے جا مطالبات نہیں کرے گا۔
مناظرہ کی تجویز منظور ہو گئی
 نادر شاہ بہادر ہونے کے علاوہ عقلمند اور مدّبر بھی تھا اسے معلوم تھا کہ سوائے ایران کے باقی تمام ممالک جو اس کے زیرِ تصرف ہیں ان کی رعایا سُنی ہے اور اس کا یہ مذہبی تعصب جو شیعہ ملاؤں کا ایجاد کردہ ہے دراصل حکمرانی اور جہان بانی کے اصول کے برخلاف ہے بادشاہ کے لئے یہ ضروری ہےکہ وہ مذہبی تعصب سے الگ رہے نادر شاہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ دولت علیہ عثمانیہ اگرچہ اس کی ان کاروائیوں سے اس وقت بعض مجبوریوں کی وجہ سے اغماض کئے ہوئے ہے لیکن جب اس کو فرصت ملے گی تو وہ اس کا انتقام لے گی یہی حالات تھے جن کی وجہ سے نادر شاہ نے احمد پاشا کی تجویز کو قبول کر لیا احمد پاشا کا یہ ایک نہایت دانشمندانہ فعل تھا کہ اس نے اس مجلس کے انعقاد کا بانی میانی خود نادر شاہ کو ہی ٹھہرایا کیونکہ اس کا اثر بہت زیادہ ہوا بہ نسبت اس کے کہ احمد پاشا اس کے انتظام کو خود اپنے ہاتھ میں لیتا بہرحال نادر شاہ نے احمد پاشا کو لکھا کہ مجلسِ مناظرہ کا انعقاد ہونے والا ہے اور اپنی طرف سے کسی ایسے عالم کو بھیجیں جو اس مجلس کا صدر بننے کے قابل ہو اور فنِ مناظرہ میں یکتا اور زبردست عالم ہو نادر شاہ نے اس مناظرے کے لئے ایران کے بڑے بڑے جليل القدر شیعہ آقاؤں اور مجتہدوں کو مدعو کیا اور کربلا اور نجف اور حلہ اور حوارز کے شیعہ علماء بھی بلائے گئے اور اس کے علاوہ بخارا اور افغانستان کے اکابر علماءِ اہلِ سنّت والجماعت کو بھی نادر شاہ کی طرف سے اس میں شمولیت کی دعوت دی گئی اور اس رسالے میں بڑے بڑے نامی شیعہ علماء کی تعداد 70 تک بیان کی گئی ہے اور صاحبِ رسالہ نے ہر ایک فریق کے صرف مشہور علماء کے نام قلمبند کئے ہیں ادھر احمد پاشا نے ایک مشہور مالکی المذہب زبردست عالم کو جس کا نام نامی سید عبداللہ آفندی ہے اور اس مجلس کے ہیرو تھے صدر بنا کر بھیجا اور نادر شاہ نے ان کو اس مباحثے کے تمام اختیارات دے دیئے تھے جس کی کیفیت خود مناظرے کے ترجمے سے معلوم ہو جائے گی افسوس ہے کہ جس قدر علامہ موصوف یا دیگر علماۓ اہلِ سنّت تیاری کر کے گئے تھے اس قدر شیعہ علماء مرغوب اور بزدل ہو گئے حالانکہ نادری فوج اور نادری قوت ان کی پوری مدد گار تھی اور علامہ سید عبداللہ آفندی نے شروع میں ہی کچھ ایسا رعب بٹھایا کہ تمام شیعہ علماء پر ہیبت طاری ہوگئی اور وہ بجائے اس کے کہ تمام متنازع فیہ مسائل کا ذکر چھیڑ کر مباحثہ کو بڑھا دیتے ان کے صدر نے صرف خلافتِ سیدنا علیؓ کے مسئلے کو چھیڑ کراپنی شکست کو تسلیم کر لیا اور ایسے مرعوب ہو گئے کہ جو کچھ بحرُ العلم کہتا جاتا تھا اسے تسلیم کرتے جاتے تھے۔ 
 فتح حق ہی کی ہوا کرتی ہے
صفحہ 4 از 19