یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا - سنی شیعہ…

یہ زور صداقت تھا جس نے نادر کو شیعہ سے سنی کیا

  اہل سنت

صفحہ 6 از 19
 فرماتے ہیں کہ جب نادر شاہ نجف اشرف میں پہنچا تو بتاریخ 11 شوال سن 1156 ھ شام کے وقت سے کچھ پہلے میرے پاس احمد شاہ گورنر بغداد کا ایک خاص آدمی آیا اور کہا کہ آپ کو احمد شاہ بلاتے ہیں میں مغرب کی نماز کے بعد احمد شاہ کے ایوان میں داخل ہوا آگے سے احمد آغا میرے استقبال کے لئے آئے احمد آغا گورنر مذکور کے خاص ہمنشین تھے انہوں نے مجھے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ احمد پاشا نے آپ کو کیوں بلایا ہے میں نے کہا نہیں کہا پاشائے موصوف یہ چاہتے ہیں کہ آپ نادر شاہ کے پاس جائیں کیونکہ نادر شاہ نے ہم سے ایک ایسا سُنی عالم طلب کیا ہے جو ایرانی شیعہ علماء کے ساتھ شیعہ مذہب کے متعلق مباحثہ کر سکے اور وہ اس قابل ہوکہ مذہب اہلِ سنّت والجماعت پر دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ پیش کرے جیسا کہ علمائے ایران اپنے مذہب کی حقانیت پر دلائل قائم کریں گے اب اگر خدا نخواستہ آپ مغلوب ہو گئے تو آپ کو بجائے چار مذاہب اسلامیہ کے پانچویں مذہب کی بھی تصدیق کرنی پڑے گی اس لئے آپ اس کے متعلق اچھی طرح غور کر لیں میں احمد آغا کے اس کلام سے سخت گھبرایا اور عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں کہ رافضی لوگ اہلِ مکابرہ اور اہلِ عناد ہوتے ہیں اور وہ میری باتوں کو اگرچہ وہ حق ہوں کیسے تسلیم کریں گے خصوصاً اس حالت میں جب کہ ان کے پاس اس وقت فوجی قوت بھی ہے اور اس مذہب کا حامی نادر شاہ جیسا آدمی ہے جس کا ظلم اور جبر مشہور ہے تو ایسی صورت میں یہ امید کیسے ہو سکتی ہے کہ میں ان پر حُجت قائم کر سکوں گا میرے خیال میں ان کے ساتھ بحث کرنے سے کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ اوّل تو رافضیوں کے ساتھ مناظرہ کرنا ہی مشکل ہے جب کہ وہ تمام ان کُتب احادیث کو جن پر ہمارے دلائل کا مدار ہے تسلیم نہیں کرتے اور اگر اثبات مدعی کے لئے میں کوئی قرآنی آیت پیش کروں گا تو وہ اس کے الٹے پلٹے معنی کر کے کہیں گے کہ یہ آیت محتمل المعانی ہے "اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال" یعنی یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ دلیل مثبت المدعی میں اگر کسی اور معنی کا بھی احتمال ہو تو ایسی دلیل استدلال کے قابل نہیں ہوتی اور اس کے علاوہ وہ بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ دلیل ایسی ہونی چاہیے جس پر دونوں فریق متفق ہو سکیں پھر اجتہادی امور سے تو صرف ظن ہی ثابت ہوتا ہے اب فرض کیجئے موزوں پر مسح کرنے کا جواز جو صرف احادیث سے ثابت ہے میں ان کے سامنے کیسے ثابت کروں گا کیونکہ اگر میں ایسے نہ کہوں کہ حدیث "مسیح علی الخفین" کو تقریباً ستر صحابہ کرامؓ نے روایت کیا ہے جن میں سے سیدنا علیؓ بھی ہیں تو وہ یہ کہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس مسح کے عدمِ جواز پر ایک سو صحابہ کرامؓ  کی روایت کردہ حدیث موجود ہے جن میں سے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ بھی ہیں پھر اگر میں اس کے جواب میں یہ کہوں کہ تمہاری تمام حدیثں جعلی اور موضوع ہیں تو وہ بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ تمہارے احادیث بھی جعلی اور موضوع ہیں پس ایسی صورت ان کو کس طرح الزام دیا جا سکتا ہے لہٰذا میری رائے یہ ہے کہ آپ بجائے میرے کسی اور حنفی یا شافعی مفتی کو بھیج دیں جو اس کام کے لئے موزوں ہو آغا احمد نے کہا احمد پاشا نے صرف آپ کو ہی منتخب کیا ہے اس لئے آپ کو ہی جانا پڑے گا اور حکم مانے کے بغیر اور کچھ چارہ نہیں ہے پھر اسی صبح کو پاشائے موصوف سے بھی میری ملاقات ہو گئی اور اس مناظرے کے متعلق خاص خاص امور معرض بیان میں آئے اور اس کے بعد احمد پاشا نے فرمایا کہ میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس بارے میں آپ کی مدد فرمائے اور آپ کے دلائل اور براہین کو مضبوط کرے اور آپ کو جانا تو ضرور پڑے گا لیکن آپ کو اختیار ہے کہ آپ ان سے مباحثہ کریں یا نہ کریں میری رائے میں آپ اگر ایسا کریں تو اچھا ہوگا کہ شروع میں ہی آپ جب ان سے ملیں تو کوئی علمی بحث اس مناظر سے غیر متعلق چھیڑ کر اپنی قابلیت کا لوہا ان سے منوا لیں اور جب اس طرح آپ کا رعب قائم ہو جائے گا تو پھر دیکھ لینا کہ آیا وہ بطورِ انصاف اظہار ثواب طالب ہیں یا نہیں اگر یہ امید ہوئی کہ وہ انصاف سے علیحدہ نہیں ہوں گے تو پھر مباحثہ شروع کر دینا لیکن استقلال کی زیادہ ضرورت ہے اور کسی امر میں بھی ان کے سامنے سرنگوں نہیں ہونا ہوگا (باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم سو بار کر چکا ہے تو امتحان ہمارا) نادر شاہ اس وقت نجف میں ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ بدھ کی صبح کو اس کے پاس پہنچ جائیں پھر میرے لئے ایک خلعت فاخرہ اور سواری اور نوکر لائے گئے اور پاشائے موصوف نے خاص اپنی اردل کے بعض سوار بھی میرے ساتھ کر دیئے۔
علامہ شیخ عبداللہ آفندی کا تفکر
صفحہ 6 از 19